Showing posts with label Urdu Articles. Show all posts
Showing posts with label Urdu Articles. Show all posts

Saturday, April 15, 2017

Thursday, May 07, 2015

Ekkisvin Sadi Mein Adab ki Maanviyat - article Published in Urdu Duniya

Ekkisvin Sadi Mein Adab ki Maanviyat - 
Article by Dr. M. Asadullah published in Urdu Duniya, May 2015



Wednesday, April 27, 2011

تعلیم اور والدین کی ذمّہ داریاں


تعلیم اور والدین کی ذمّہ داریاں
رفعت انصاری ،ناگپور

ایک مشہو ر انگریز مفکّر کا قول ہے کہ بچّے کی تربیت کا وقت اس کی پیدائش سے ۱۸ سال پہلے شروع ہو تا ہے اور یہ وقت اس کے والدین کے بچپن کا ہو تا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچّوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کو کس قدر اہم ذمّہ داری نبھانی ہے ۔
بچّے جب دو یا تین سال کی عمر کو پہنچنے میں توحسّاس والدین اپنی استطاعت کے مطابق اس کی تعلیم کی طرف توجّہ دیتے ہیں اور اسے بہتر اسکول میں داخلہ دلانے کی کوشش کر تے ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ اس سلسلے میں کو ئی کمی رہ جا ئے کہ یقیناً یہ ذمّہ داروالدین کے فرائض میں شامل ہے ۔اس قسم کے والدین بچّوں کی تعلیمی سر گر میوں پر نظر رکھتے ہیں ۔وہ جانچتے ہیںکہ ان کے بچّے نے اچّھی طرح سبق یاد کیا یا نہیں ۔ جواب نفی میں ہو تو اسکی وجوہات تلاش کر تے ہیں۔ انھیں دور کر نے کی ہر ممکن کو شش کرتے ہیں ۔بچّے کی مددہمّت افزائی ،حسنِ سلوک ،رفاقت ،بھر پورتوجّہ،یہ ایسے اوزار ہیں جن سے وہ اپنی اولاد کو ایک پتّھر سے ہیرے کی طرح تراش لیتے ہیں۔ایسا طالبِ علم جہاں اسکول میں اساتذہ کی نگرانی میں چار پانچ گھنٹے گزارتا ہے وہیں بقیہ انّیس بیس گھنٹے اپنے والدین کی سرپرستی میں رہتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے والے والدین اس کی تربیت میں کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔اسکول میں تعلیم اور گھر میں تربیت کے تمام مواقع مہیّا ہو تے ہیں۔


اس کے برعکس والدین کا ایک بڑا طبقہ ایسابھی ہے جو اپنے بچّے کو اسکول میں داخلہ دلوا کراپنے آ پ کو اس کی تعلیمی ذمّہ داریوں سے بری سمجھتا ہے ۔ ان کے خیال میں بچّے کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمّہ داری اساتذہ کی ہے ۔تعلیمی سال کے شروع میں ایک جماعت سے دوسری جماعت میں داخلہ دلا کر اوراس کلا س کی درسی کتابیں اور کاپیاں مہیّا کر وا کر وہ اس کے تعلیمی حقوق سے دست بر دار ہو گئے ہیں اور انھوں نے گو یا بچّے پر احسانِ عظیم کر دیا۔پھر سال بھر اسکول کے اوقات کے بعدبچّے کی سر گر میوں کی نگرانی کی وہ بالکل ضرورت محسوس نہیں کر تے ۔انھیں صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ ان کا بچّہ فلاں اسکول میں صبح سے دو پہر تک تعلیم حاصل کر تا ہے ۔بعض والدین کواپنے بچّے کے کلاس، سیکشن ،رول نمبر اور کلاس ٹیچر کا بھی علم نہیں ہو تا ۔سر پرستوں کی میٹنگ جو اسکول اور کالجوں میں طلباء کی تعلیمی ترقّی سے والدین کو آ گاہ کر نے کے لئے طلب کی جاتی ہے، اس میں ان والدین کی حاضری دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی ۔


مذکورہ بالا والدین کی دو نوں قسمیں ہمارے سماج میں مو جود ہیں اور ان کے برتاؤ کے دور رس اثرات طلباء کی پو ری زندگی پر پڑتے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ وہ بچّہ جو اسکول کی چند گھنٹوں کی زندگی کے بعد والدین کی سرپرستی میں رہتاہے یقینا اس پر اس کے گھر کے افراد،ماحول،سماج اور ارد گرد جا ری سرگر میوں کے زبردست اثرات پڑتے ہیں ۔ حسّاس اور ذمّہ دار والدین اپنے بچّو ں کو صحت مند ماحول اور تعلیمی و تربیتی فضا مہیّا کر تے ہیں ۔وہ اپنے بچّوں کو یہ احساس دلا تے ہیں کہ وہ ایک دوست کی طرح ان کی ہر مشکل آ سان کر نے والے ہیں اور اس کے لئے انھیں کسی کا چہرہ تکنے کی ضرورت نہیں ۔ایسے بچّوں میں خود اعتمادی ،تعلیم سے دلچسپی،اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر کامیاب ہو نے کا شوق پورے شباب پر ہو تا ہے۔



ہو تا جا تا ہے ۔ خدا نخواستہ بدقسمتی سے اسکول کا ماحول مناسب نہ ہو اور اساتذہ کرام طلباکے اندر تعلیمی روح پھونکنے کے جذبے سے خالی ہوں تو نسل در نسل بچّوںکا مستقبل تباہ ہو ئے بغیر نہ رہے گا۔ ان حالات میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ ئے گا ،جو تعلیمی ادارے مو جود ہو نے کے با وجودتعلیمی پسماندگی کا شکا رہو گا۔مسلم معاشرہ ان دنوںاسی افسوس ناک صورتِ حالت سے گذر رہا ہے ۔



اسی لئے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ’گھر‘پر جو بچّو ں کے لئے اسکول کے اوقات کے بعد کی تربیت گاہ ہے،خصوصی توجّہ دیں ۔بچّوں کی روزانہ تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ۔تعلیمی معاملات میںبھی ان کی بھر پور مدد کریں ۔ان کے دوست اور معاون بنیں ۔

Friday, April 01, 2011

Masajid ki Taameer (Urdu) مساجد کی تعمیر اور تزئین


مساجد کی تعمیر اور تزئین

محمّد شریف،ناگپور


مسجد یں اللہ کے گھرہیں۔ اور تمام مساجد بیت اللہ کی بیٹیاں یعنی بیت اللہ کی شاخیں ہیں۔ اس لئے مسجد کی تعمیر بہت بڑا کار ثواب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جواللہ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے اور مساجد کی تعمیر مسلمان کے ایمان کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا انما یعمر مساجد اللہ من اٰمن باللہ والیوم الااٰخر ۔ مسجدوں کو تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور آخرت کے دن پر۔ بحر حال مسجدوں کی تعمیر اسلا م میں محمود چیز ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ مسلمان اور مسجد کا گہرا تعلق ہے۔ مومن کا وجود ہی بغیر مسجد کے مشکل ہے۔ جہاں ایمان والے ہونگے وہاں مسجد ضرور ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : المومن فی المسجد ک السمک فی الماء یعنی مومن مسجد میں ایسا ہے جیسے مچھلی پانی میں ۔مچھلی کی زندگی ہی پانی کے بغیر دو بھر ہے۔ اگر کوئی مسلمان مسجد کے بغیر جی رہا ہے تو اس کی یہ زندگی اسلامی اور ایمانی زندگی نہیں ہے بلکہ یہ زندگی حیوانی ہے۔ اس لحاظ سے مساجد کی تعمیر مسلمانوں کے لئے بہت ضروری ہے مگر تعمیر میں مبالغہ اور اس کی تزئین یعنی decoration منشاء نبوت کے خلاف ہے۔ مسجدوں کو بہت زیادہ پر تکلف بنانا اور سجانا اور ان میں نمائش کے ایسے ساماں رکھنا کہ مسجد میں داخل ہو کر آدمی مسجد کے درودیوار کو دیکھنے ہی میں اٹک جائے مسجد کے مقصد ہی کو فوت کردیتا ہے۔ مسجد یں تو اللہ سے تعلق کو بڑھانے کے لئے ہیں۔ مسجد کی عمارت کو بہت شاندار اور عالی شان بنانا قرب قیامت کی علامت ہے۔


حضورؐ کی مسجد تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ ہے۔ آپ کی مسجد کتنی سادی تھی۔ کوئی پختہ عمارت نہیں تھی۔ کھجور کی ٹٹیوں کی بنی ہوئی تھی۔ اسی کی چھت بھی تھی۔ دھوپ اور بارش دونوں چھن کر مسجد میں آتے تھے۔ مسجد میں فرش پر بچھانے کے لئے کوئی مصلیٰ یا جاء نمازیں نہیں تھی۔ مٹی پر سجدہ ہوتا تھا۔ دروازے اور کھڑکیا بھی نہیں تھے۔مسجد کے بند ہونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ مسجد کچی تھی لیکن نمازی اتنے پختہ تھے کہ تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیئے گئے۔ مسجد کی مادی تعمیر کمزور تھی لیکن روحانی تعمیر بہت مضبوط۔ یہ روحانی تعمیر مسجد کی آبادی ہے۔ حضورؐ کی مسجد ۲۴! گھنٹے اعمال سے آباد رہتی تھی۔ مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کا مرکز مسجد تھی۔ مسجد صرف پنچ وقتہ نمازوں کے ادا کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ مسجد نبوی میں صحابہ کرام سیکھنے سکھانے میں مصروف رہتے تھے۔ دین کو عالم میں پھیلانے کے مشورے بھی مسجد میں ہوتے تھے۔ وہیں سے لشکروں کی روانگی بھی ہوتی تھی۔ آنے والے وفود کو مسجد ہی میں ٹہرایا جاتا تھا وہیں ان کی خدمت ہوتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہوتا وہیں مجمع کو سنایا کرتے تھے۔ لوگ انفرادی طور پر بھی عبادات میں لگے رہتے ، غرض کسی وقت بھی ہمارے زمانہ کی طرح مسجد خالی نہیں ہوتی تھی۔ مسجد کو آباد رکھنا ہی اصل مسجدکی تعمیر ہے۔


مسجدوں میں اتنا غیر ضروری سامان نہ بھریں کہ جس کے چوری ہوجانے کا اندیشہ ہو اور پھر نماز کے بعد تالا لگانے کی ضرورت محسوس ہو۔ مسجد میں نمازیوں کی ضرورت کا ہر سامان موجود ہو۔ نمازیوں کو راحت رسانی کی پوری فکر ہو لیکن نمائش نہ ہو۔ آج کل ممبر اور محراب ہی پر ہزاروںروپئے صرف کئے جارہے ہیں جو اسراف ہیں اور صرف آنکھوں کی لذت کا ساماں ہے۔ روحانی غذا کا اس میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی میں جو محراب بنوایا اس کی حکمت امام کی آواز کو پوری مسجد میں پھیلانے کی تھی وہ محراب کروی آئینہ کی قسم مقعر آئینہ کی طرح ہوتا تھا اور امام کا منھ اس آئینہ کے نقطہ ماسکہ (focus) پر ہوتا تھا یہ آواز اس محراب میں ٹکرا کر پوری مسجد میں بغیر مائک کے پھیلتی تھی۔ حضرت عمرؓ کا نقطہ نظر سائنسی تھا نہ کہ صرف ڈیزائن تھی۔ اب اس زمانہ میں صرف محراب کی ڈیزائن رہ گئی وہ مقعری ساخت نہیں رہی۔ اور نہ ہی اس کی ضرورت باقی رہی۔ اس کی جگہ اب لاؤڈ اسپیکر نے لے لی ہے۔ حضرت عمرؓ کی اس نشانی کو باقی رکھیں لیکن اس میں سادگی ہو اس میں بلاوجہ اسراف نہ ہو۔ اس کی بجائے مسجد میں محلہ کے سو فیصد مسلمان حاضری دیں اور مسجد صبح سے شام تک اعمال سے آباد رہے اس کی فکر کریں۔
مسجدوں میں لوگوں کے لئے ایسے انتظامات کریں کہ لوگ اپنے خالی اوقات مسجد میں گذارا کریں۔ اس کے لئے اجتماعی طور پر کسی ایک نماز کے بعد مصلیوں کے لئے تقریباً آدھا گھنٹہ کے لئے حدیث کی تعلیم کا نظم ہو اس میںخصوصاً فضائل کی حدیثیں سنائی جائیں تاکہ لوگوں کے اندر اعمال کاشوق اور جذبہ بڑھتا رہے۔ اور یقین میں تبدیلی ہوتی رہے مادی اور غیر یقینی اسباب سے ہٹ کر یقینی حقیقی اسباب یعنی اعمال کی طرف آئے ۔اس کے ساتھ ایک آدھ گھنٹہ کے لئے لوگوں کو ان کی ضرورت کی باتیں سیکھنے سکھانے کا نظم ہو جیسے حضورؐ نے اس کا نظم کیا کہ آپ کے صحابہ میں سے ہر ایک دین کے علم میں گہرا تھا۔ اعمقھم علما یہ صحابہ کی مشترک صفات میں سے ہے۔ وہ سب کے سب دین کے جاننے والے تھے۔ اس سیکھنے سکھانے کے عمل سے لوگون کا وقت مسجد میں گذرینگا۔ ورنہ اس وقت یہ حال ہے کہ جو لوگ فارغ ہیں یعنی ریٹائرڈ قسم کے ہیں نمازوں کے بعد مسجد کے باہر بیٹھ کر لایعنی اور گپ شب میں وقت گذارتے ہیں اور اپنے اعمال خراب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفرادی مطالعہ کے لئے مسجدوں میں دین کی ضروری کتابیں رکھی جائیں۔ ہر مسجد میں کم از کم ایک الماری دینی کتابوں کے لئے مختص ہو۔ جس میں قرآن پاک کی تفسیریں، حدیث کی کتابیں، کچھ سیرت رسول اور سیر صحابہ اور سیرت صلحاء و اولیاء کی کتابیں کچھ فقہی مسائل کی کتابیں ہوں۔ اگر یہ کتابیں موجود ہوگی تو پڑھے لکھے لوگ ضرورت کے وقت ان کتابوں کو لیکر مسجد ہی میں بیٹھنگے۔ خود بھی نفع اٹھائینگے دوسروں کو بھی پہنچائینگے۔



ابھی یہ حالت ہے کہ کئی مسجدوں میں وہ بھی شہر کی ،قرآن پاک کے نسخے بھی نہیں ہیں۔ صرف ۳۰! پاروں کی چند پیٹیاں رکھی ہیں جو قرآن خوانی کے وقت کام آتی ہیں۔ مقتداؤں کی طرف سے بھی کوئی ایسی ترغیب نہیں دی جاتی کہ مسلمان روزانہ قرآن کی تلاوت کیا کریں۔ بعض مسجدوں میں ایک بھی مترجم قرآن شریف نہیں ہے۔ چاہتے ہیں کہ مسلمان جاہل رہیں۔ اگر یہ پڑھنے پڑھانے کا سامان مسجد میں موجود ہوگا تو جہالت میں کمی آئے گی۔ مسجدوں سے انس بڑھے گاتو دینداری بھی بڑھے گی۔ مسجد مسلمان کے لئے تربیت گاہ ہے۔ یہ تربیت اسی وقت ہوگی جب مسلمان مسجد میں وقت دیں اور یہی اصل تعمیر مسجد ہے۔ درودیوار کی تعمیر حقیقی تعمیر نہیں ہے۔ گوکہ ثواب اس پر بھی ہے اور اس میں بھی مصلیوں کی ضرورتوں کا اصل انتظام ہے۔ اوروہ موجودہ زمانہ کے لحاظ سے لوگوں کی بودوباش کا خیال رکھتے ہوئے ہو۔ مسجد میں پنکھے اور کولر لوگوں کی ضرورت کے مطابق ہو۔ کافی جاء نمازیں ہوں مائک کا انتظام صحیح ہو۔ مسجد میں بیت الخلاء اور استنجا خانے، غسل کانہ صاف ستھرے ہو۔ اس معاملہ میں بہت لاپرواہی کی جاتی ہے۔ لوگ مسجد کے استنجا خانوں اور بیت الخلاء کو بہت گندا کرتے ہیں اسی کی دیواروں پر تھوکتے ہیں۔ اس معاملہ میں لوگوں کی تربیت کی جائے، جمعہ کے بیانات میںاس پر تنبیہ کی جائے۔ اور صفائی کے لئے مسجدوں میں مستقل خادم رکھے جائیں سارا کام موذن پر ہی نہ رہے۔ وضو خانہ کو بھی صاف ستھرا رکھا جائے۔ موسم کے لحاظ سے نمازیوں کے لئے وضو کے واسطے گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام ہو۔ پینے کے پانی کا بھی معقول انتظام ہو۔ لوگ اگر ٹھنڈا fridge کا پانی پینے کے عادی ہوگئے ہوں تو ٹھنڈے پانی کی مشین بھی مسجد میں مہیا کی جائے۔ مسجد میں اگر بجلی کی وجہ سے لوگوں کو بار بار تکلیف ہوتی ہو تو invertor کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔
یہ ضرورت کے سامان ہیں جو کسی زمانہ میں ضروری نہیں تھے لیکن اب لوگوں کامعیار زندگی اتنا بلند ہوچکا ہے کہ اگر مسجد میں یہ چیزیں نہ ہوگی تو لوگ مسجد میں زیادہ نہیں ٹہرسکے گے۔ بلکہ بعض لوگ تو ان ہی ضرورتوں کے فقدان کو بہانہ بنا کر مسجد میں نہیں آئینگے۔ اس لئے ان چیزوں کو اسراف نہ خیال کریں۔ مسجد کی عمارت میں ہوا دار کھڑکیاں، روشنی کا بھی معقول انتظام ہو لیکن اس میں حد سے آگے نہ بڑھیں۔ مثلاً جو کام ۵! ہزار روپئے میںآسانی سے ہوسکتا ہے محض نمائش اور decoration کے لئے ایک لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں۔ بے ضرورت P.O.P. کی ڈیزائن بنائی جائے یہ اسراف ہے۔ دیوارون پر tiles لگائے جائیں محض اچھا دکھنے کے لئے یہ بھی اسراف ہے اس سے کوئی ضرورت متعلق نہیں ہے۔ مسجد کی فلور بھی بقدر ضرورت ہی چکنی اور پرکشش ہو۔ آخر اس پر جاء نماز تو بچھتی ہی ہے۔ اس میں بھی لوگوں کے معیار کے مطابق ہی جاء نمازہو۔ ہر جگہ قالین کی ضرورت نہیں ہے۔ جاء نماز صاف ستھری ہو۔ نرم ہو۔ چوڑائی میں اتنی کم نہ ہو کہ لوگوں کو نماز پڑھنے میں دقت ہو۔ مسجد میں امام ایسے ہوں جو لوگوں کی دینی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ تربیت کریں سب کو لیکر چلیں۔ حلیم مزاج اور معمر ہوں۔ ایسے کم عمر لڑکے جن کے حلیہ سے بھی لوگوں کو کراہیت ہو ، کو امام نہ بنائیں۔ اما م پنچ وقتہ نمازوں میں حاضر باش ہو۔ صحیح قرآن پڑھنے والاہو۔ گروپ بندی کرنے والا ، ٹولیاں بنانے والے نہ ہو بلکہ زھد اور تقویٰ کی صفت اس میں پائی جاتی ہو۔
یہ سب چیزیں تعمیر مسجد میں داخل ہیں اور اس کے کرنے پر وہ سارے فضائل حاصل ہوسکتے ہیں جو تعمیر مسجد پر بیان کئے گئے ہیں۔ اصل پر نظر نہ رکھتے ہوئے محض رسمی تعمیر کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ بغیر اخلاص کے ایسی تعمیرات بجائے نجات کے پکڑ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مساجد کو معمور رکھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Wednesday, August 11, 2010

Ramazan ..۔رمضان المبارک

ذوالجلال والے اکرام کے مہینہ کا احترام کیجئے
Muhammad Shareef Nagpur
.....................................

یوں تو سارا زمانہ اللہ کا ہے۔ پوری کائنات تن تنہا اللہ ہی کی ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود تمام آسمانوں اور زمینوں کو اپنی ملکیت فرمائی ہے۔ ارشاد ہے للہ ما فی السموت ومافی الارض ترجمہ : ’’ جو کچھ آسمانوں او زمین میں ہے اللہ ہی کے لئے ہے ‘‘۔لیکن دنیا میں جن چیزوں کی نسبت اللہ کی طرف کردی جائے وہ بہت زیادہ قابل احترام ہوجاتی ہے۔ مثلاً بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر۔ ہر مسلمان پر بیت اللہ کا احترام واجب ہے۔ کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب قرآن پاک کا احترام ہر مسلمان کرتا ہے۔ نہ کوئی مسلمان بیت اللہ کی طرف پیر کرتا ہے نہ قرآن کی طرف۔ قرآن کی طرف تو کوئی پیٹھ بھی نہیں کرتا ۔ رسول اللہؐ یعنی اللہ کے رسولؐ کا احترام ہر مسلمان واجب سمجھتا ہے۔اسی طرح اولیاء اللہ یعنی اللہ کے ولی کا احترام بھی ہر مسلمان کرتا ہے حتیٰ کہ وفات کے بعد ان کی مزاروں کا بھی اکرام کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی رمضان المبارک کو اللہ کا مہینہ ہونے کی خصوصی شرافت حاصل ہے۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے الشعبان شھری والرمضان شھر اللہ (اوکماقال) یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ اس لئے ہر مسلمان پر رمضان المبارک کا احترام واجب ہے۔رمضان المبارک میں روزے جو اسلام کی بنیادوں میں سے ہیں ، مسلمان کے لئے شعائر اسلام میں سے ہیں۔ اور شعائر اسلام کی تعظیم کرنے کو تقویٰ کی علامت بتایا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ہے ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقویٰ القلوب ترجمہ : ’ جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ ان کے دلوں کا تقویٰ ہے ‘‘۔رسول اللہؐ خود رمضان المبارک کا انتظار فرماتے تھے اور رمضان تک پہنچنے کے لئے رجب اور شعبان ہی سے دعافرماتے تھے۔ آپؐ سے یہ دعا منقول ہے اللھم بارک لنا فی رجب والشعبان وبلغنا الیٰ رمضان ترجمہ : ’’ اے اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان تک ہمیں پہنچادے ‘‘۔

اب سنئے کہ رمضان کا احترام کیا ہے۔ رمضان میں دو خصوصی اعمال مسلمان پر عائد ہوتے ہیں ایک تو روزہ ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے مسافر اور مریض کے۔ روزہ ارکان اسلام میں سے ایک ہے حضورؐ کا ارشاد ہے بنی الاسلام علی خمسٍ شھادۃ ان الاالٰہ الااللہ والصلوٰۃ و صوم رمضان و زکوٰۃ والحج ترجمہ : ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اول اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز، رمضان کے روزے ، زکوٰۃ اور حج ‘‘۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے جس میں رمضان کی فضیلت بھی شامل ہے۔ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ترجمہ : ’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں حق و باطل میں تمیز کرنے کے لئے نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو اس مہینہ کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے ‘‘

اس حکم میں صرف دو لوگ مثتشنٰی کئے گئے ہیں ، ایک مسافر دوسرے مریض۔ مسافر بھی شرعی مسافر جس کی مقدار ۴۸! میل ہے اور وہ بھی اس زمانہ کے لحاظ سے بہت معمولی چیز ہے اس لئے ہمارے اس زمانہ میں مسافر کو بھی حتی الامکان روزہ رکھنا چاہئے نہ رکھ سکے تو اس کے بعد کسی اور مہینہ میں روزہ رکھنا ہوگا۔ اسی طرح ایسا مریض جس کے لئے دیندار ڈاکٹر یا حکیم روزہ کو منع کریں تو رخصت ہے چاہے بعد میں رکھ لے یا فدیہ دے دے ۔ یہ دونوں طبقات بھی اگر معذوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں تو ان کے لئے بھی رمضان کا احترام ضروری ہے کہ کھلم کھلا کھاتے پیتے نہ پھریں۔ اسی طرح چھوٹے بچے جو روزہ کا تحمل نہ کرسکیں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں بھی روزہ کے احترام کی عادت ڈالیں کہ وہ گھر میں جلدی سے چھپ کر کچھ کھا پی لیں اور باہر اپنا روزہ دار نہ ہونا معلوم نہ ہونے دیں۔ ہٹے کٹے مسلمان کھلے عام بازار میں کھاتے پیٹے نظر آتے ہیں ، مسلمانوں کے محلہ میں ہوٹلیں کھلی ہوتی ہیں۔ چائے کے ریسٹورینٹ اور پان کے ٹھیلے کھلے ہوئے بلکہ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی چیز ہے شعائر اسلام کی بے عظمتی ہے۔ اگر کوئی غیر قوم ہمارے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرے تو ہم مشتعل ہوجاتے ہیں لیکن ہم خود ہی توہین کررہے ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ ایسے ہوٹل والے، چائے کی دوکان اور پان کی دوکان والوں کو سمجھائیں کہ وہ دن میں اپنی ہوٹلیں بند رکھیں افطار کے بعد کھولیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ دن بھر ہوٹل بند رکھنے کے بعد بھی شام کے چند ہی گھنٹوں میں پوری روزی دے دے ۔ اگر کوئی ایک آدھ ہوٹل پورے مسلم ایریا میں کھلی بھی ہو تو مسافروں کی نیت سے اور اس طرح کہ سامنے پردے پڑے ہوئے ہوں۔ مسافر بھی پردہ کے ساتھ کھاپی لے۔ صحت مند مسلمان کا کھلے عام کھانا پینا، سڑک پر پان کھاتے پھرنا یا بیٹری سگریٹ پیتے ہوئے گذرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اسلامی حکومت کو ایسے شخص کے لئے قتل کا حکم ہے کہ یہ اللہ کے شعائر کی توہین کررہا ہے۔ اگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی صورت میں کوئی قتل نہ کرسکے تو یہ مطلب نہیں کہ بچ گئے بلکہ اللہ کا بے آواز کوڑہ اپنا کام ضرور کرتا ہے۔ اگر افراد ایسے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو ڈاکٹروں کے ذریعہ ان کا کھانا پینا بند کرادیاجاتا ہے اور مجمع جب عام طور پر رمضان کی توہین کرتا ہے تو قحط سالی، فسادات اور سیلاب جیسے مصائب ڈال کر، بغیر روزے کے اللہ انہیں بھوکا اور پیاسا رکھتا ہے۔ اس لئے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لئے روزوں کا اہتمام کریں جس میں اپنا ہی نفع ہے۔
دوسرا اہم عمل رمضان المبارک میں تراویح کی نماز ہے۔ روزانہ عشاء کی نماز کے بعد ۲۰! رکعت نماز پڑھنا سنت موکدہ (قریب واجب) ہے۔ بہت سے لوگ رمضان کے صرف ابتدائی ایام میں تراویح پڑھتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں اور آخری کے چند روز پڑھ لیتے ہیں۔ بعض لوگ ایک نومولود مسلک اہل حدیث کہلانے والے مسلک کی اقتداء کر کے صرف آٹھ رکعت پر اکتفا کرتے ہیں۔ جو مسلک خیر والقرون میں وجود میں آنے کی بجائے ۱۲! سو سال کے بعد وجود میں آیا ہو وہ حق کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ حضورؐ کا ارشاد ہے خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم یعنی بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر اس کے بعد کا اور پھر اس کے بعدکا ۔ یہ مسلک تو مسلمان کے ۴! مسلکوں پر اجماع کو توڑنے کے لئے باطل کی سازش ہے۔ اس لئے تمام مسلمان ۲۰! رکعت تراویح کا اہتمام کریں۔ باقی پنج وقتہ نمازوں کو بھی اس اہتمام سے پڑھیں کہ پورا سال نماز کے اہتمام کی توفیق ہو۔ تراویح میں قرآن پاک سننے کے ساتھ ساتھ ویسے بھی ناظرہ قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ اور جو بھی خیر کا کام زیادہ سے زیادہ اس مہینہ میں کرنے کی کوشش کریں۔ اس ماہ میں نوافل کا ثواب فرض کے برابر اور فرج کا ثواب ۷۰! فرائض کے برابر کردیا جاتا ہے۔ اس ماہ کاپہلا عشرہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا آگ سے خلاصی کا عشرہ ہے۔ یہ مہینہ اللہ سے اپنے تعلق کو بڑھانے کے لئے عطا ہوا ہے۔ خوب اللہ کی طرف متوجہ ہوں دعاؤں کا اہتمام کریں۔ خصوصاً افطار اور تہجد کے وقت دعاؤں میں سستی نہ کریں۔ صدقہ و خیرات کی کثرت کریں۔ اور ہر طرح کی خیر اس ماہ میں سمیٹنے کی کوشش کریں کیا پتہ یہی رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


Wednesday, February 10, 2010

Iqbal Ka Daiyana Usloob اقبال کا داعیانہ اسلوب


اقبال کا داعیانہ اسلوب 


؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
 محمّدا سداللہ
mmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmm
شاعرِ مشرق ،حکیم الامّت ،علاّمہ اور رحمت اللہ علیہ جیسے خطابات سے نوازے جانے والے شاعر محمّد اقبال کی شاعری کا محور اسلام اور مسلمان ہیں ۔ ربِّ ذوالجلال سے مخلوقاتِ الہٰیہ تک مختلف و متنوع موضوعات کا احاطہ کر تی ہو ئی اقبال کی فلسفیانہ سوچ اور تخیل کی جو لا نیاں در اصل اسلامی افکار کے خورشیدِ تاباں ہی کا پر تو ہے ۔

 اقبال کی شاعرانہ فکر ،تصوّرات ، لفظیات ،استعارے ،شعری تراکیب اور نکتۂ نظر اگر دیگر شعرا سے الگ ہے تو اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ اقبال بنیادی طور پر ایک مختلف اور منفرد سوچ کا شاعر ہے ۔ جس کا کائنات کے مظاہر کے دیکھنے کا انداز جدا ہے بلکہ شاعری کے ساتھ بھی اسکامعاملہTreatment اوروں سے مختلف ہے ۔ اسی رویّے نے اقبال کے اس انوکھے اسلوب کو جنم دیاہے جس کی سب سے اہم خصوصیت اس کا داعیانہ انداز ہے۔اقبال کی اسی ادّاعیت کو جہاں اسلام پسند طبیعتوں اور اور دینِ متین کے متوالواں نے لبیک کہا وہیں ایک طبقہ ادب نوازوں کا یہ بھی مانتا ہے کہ اقبال کے اس کومٹمنٹ نے اس کے فن کو نقصان بھی پہنچایا ہے ۔ کلامِاقبال کی دلفریبی اوراثر پذیری نے بلاشبہ اسے ادب کے جریدۂ عالم پر دوام اور قبولِ عام سے ہمکنار کیالیکن یہ بھی سچ ہے کہ اقبال کی شاہکار تخلیقات وہی ہیں جن میں کھلی ہوئی ادّاعت کے بجائے رمز و ایما اور اشارے و استعارے ہیں جہاں اس نے فن کی بلندی کے چھو لیا ہے ۔

 اقبال کو یہ احساس تھا کہ وہ اپنی من موہ لینے والی شاعری میں ایک اپدیشک کا رول ادا کر رہا ہے ۔ 
                     اقبال بڑا اپدیشک ہے موہ لیتا ہے من باتوں سے
                   گفتار کا غازی بن تو گیا کر دار کا غازی بن نہ سکا            
 اسی کے ساتھ اقبال نے اپنے اشعار میں اس حقیقت کا ااظہار بھی کیا ہے کہ شاعری اس کے لئے ایک وسیلہ ہے منزل نہیں ۔
  میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ کہ میں ہوں محرمِ رازِ درونِ مے خانہ 
 اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے ۔ 
 اقبال کے ہاں سازِ سخن ایک بہا نا ہے اس اونٹنی کو راہِ راست پر لا نے کاجواپنے راستے سے بھٹک گئی ہے ۔قوم کے لئے اونٹنی کا استعارہ بھی خوب ہے ،یہ مفہوم ہے اقبال کے ایک فارسی شعر کا۔
                 نغمہ کجا و من کجا سازِ سخن بہانا ایست
 
      سوئے قطار می کنم ناقۂ بے زمام را                    
اقبال کا مقصد ایک درد مند دل میںکروٹیں بدلتے ہو ئے احساس کی ترسیل ہے۔ اس کی شاعری اسی سوزِ دروں کا اظہار ہے ۔

     
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے       
         میرا عشق میری نظر بخش دے 
 میرے دیدۂ تر کی بے خوبیاں 
        میرے دل کی پو شیدہ بے تا بیاں
  مرے نالۂ نیم شب کا نیاز    
          مری خلوت و انجمن کا گداز 
 یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر    
             اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
 مرے قافلے میں لٹادے اسے    
        لٹادے ٹھکانے لگا دے اسے
.ساقی نامہ ..


اقبال کی شاعری ایک انقلاب کا داعیہ ہے ۔ شاعری کے متعلق اقبال کا نظریہ بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے سوئے ہو ئے ذہنوں کو جھنجھوڑ ا 
جا ئے اور جو ادب اپنی تخلیقی قوّت سے انسانوں میں بیداری ،حرکت و عمل اور کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بنتا وہ اقبال کے نزدیک بے سود ہے۔ 

 اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا
 مقصودِ ہنر سوزِ حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثلِ شرر کیا 
 جس سے دلِ دریا متلاطم نہیں ہو ت
ا اے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا وہ گہر کیا
 شاعر کی نوا ہو کہ مغنّی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا
 بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
قطعہ
قبال ایک نئی دنیا کا نقیب ہے وہ ماضی کا نو حہ خواں بھی ہے جس میں جذبۂ شوق کی سرد ہو تی ہو ئی آ گ اور تابندہ اسلامی روایات کے زوال پر اظہارِ افسوس کرنے پر اقبال نے اکتفا نہیں کیا، بلکہ نئے امکانات کی بشارت سے اپنے کلام کو مزیّن کیا۔حرکت و عمل ،خودی ،مردِمومن اورشاہین کے تصّورات اسی سوئی ہو ئی قوم کو جگانے کے لئے ہیں ۔اقبال عشق کی آ گ بجھنے پر مسلمانوں کو راکھ کے ایک ڈھیرسے تعبیر کر تا ہے وہیں نئے جام گردش میں لا کر شرابِ کہن کے سرور کو محفل میں عام کر نا چاہتا ہے۔اقبال نے جس نئی دنیا کا خواب دیکھ اتھا وہ نہ صرف وہی خواب قوم کو دکھا نا چاہتا ہے بلکہ اس کی تعبیر ڈحونڈنے کے لئے قوم کو آ مادہ بھی کر تا ہے اس کے نزدیک ماضی کی نو حہ خوانی قوم کے مسائل کا حل نہیں ہے ۔ 
 
شاخِ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
 نا آ شنا ہے قاعدۂ روزگار سے 

  ملّت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امّیدِبہار رکھ
  آ فتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہوا
آ سماں ٹو ٹے ہو ئے تاروں کا ماتم کب تلک 

کلامِ اقبال میں اسلامی تعلیمات کا بھرپور تعارف موجود ہے اقبال کا اردو زبان اورشعر و ادب پر ایک احسان یہ بھی ہے کہ اس نے نہ صرف پامال شعری تراکیب کو نئے معنی اور فرحت و تازگی سے آ راستہ کیا بلکہ قرانی تلمیحات اور اور احادیث کے مضامین کو شعری قالب عطا کیا۔ اس کے شعری مجموعے بانگِ درا،ضربِ کلیم ،بالِ جبریل ،زبورِ عجم ،کے علاوہ اس کی بیشمار نظمیں اور اشعار اسلامی پسِ منظر کو پیش کر تے ہیں ۔

 بے خطر کود پڑا آ تشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی 

 آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے ،نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے 

 اے وہ کہ تجھ سے دیدۂ انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار
صدیق
چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رفعنا لک ذکرک دیکھے 
  یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہٰ الّا اللہ 
 

 
اقبال نے توحید و رسالت پر جو نظمیں لکھیں ہیں یا غزلوں میں ان موضوعات کا احاطہ کیا ہے ان میں پر اثر انداز میں اسلام کے پیغام کی حکمت و بصیرت
افروز توضیح موجود ہے ۔اقبال کی غزلوں کے بعض اشعار انسان اور خدا کے تعلق کو والہانہ انداز میں بیان کر تے ہیں اس سلسہ میں اقبال کی نظم شکوہ جوابِ شکوہ قابلِ ذکر ہے ۔ 

  تونے یہ کیا غضب کیا ! مجھ کو بھی فاش کر دی
ا میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں 
  محمد بھی ترا ،جبریل بھی،قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف، شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
  باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر 
  تو ہے محیطِ بے کراں میں ہو ں ذراسی آ بجو
یامجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر 

 اسلام کے پیغام کو عام کر نے کی راہ میں جو جو رکاوٹیں موجود تھیں اور حق اور باطل کی معرکہ آ رائی میں جو مراحل درپیش تھے اقبال نے اپنے کلامِ میںان کی نشاندہی کی ہے ۔اس میں قوم کا جمود اور بے حسی ہو یا مغرب کی سازشیں،اقبال نے ان تمام کا احاطہ کیاہے۔ چراغِ مصطفوی سے
 شرارِ بو لہبی کی ستیزہ کا ریاں ہوں یا اسلامی معاشرہ میں موجود غیر اسلامی روایات سے پیدا ہو نے والا جمود،اقبال نے ان سبھی پہلوؤں کو بے نقاب کر کے انھیں ختم کر نے کے لئے ایک ضربِ کلیمی کو لازمی قراردیا ہے ۔یہ سب اقبال کے اسی دعوت کے مشن کا ایک حصّہ ہیں ۔

  مدیرِ مخزن سے کو ئی اقبال جاکے میرا پیام کہہ دے
جو کام کچھ کر رہی ہیں قومیں انھیں مذاقِ سخن نہیں ہے ۔
  مسلماں ہیں توحید میں گرم جوش
گر دل ابھی تک ہیں زُنّار پوش    
         ساقی نامہ
نظم’ پیامِ مشرق‘ میں اقبال رقمطراز ہیں۔

  وجود افراد کا مجازی ہے ہستیِ قوم ہے حقیقی
فدا ہو ملّت پہ ،یعنی آ تش زنِ طلسمِ مجاز ہو جا 
  یہ ہند کے فرقہ ساز اقبالؔآ زری کر رہے ہیں گویا
 بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبارِ راہِ حجاز ہو جا 

نظم ’عبدالقادر کے نام ‘ کے یہ اشعار ملا حظہ فر مائیں ۔

 
شمع کی طرح جئیں بزم گہِ عالم میں خود جئیں دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں 
  اس چمن کو سبق آ ئینِ نمو کا دے کر قطرۂ شبنمِ بے مایہ کو دریا کر دیں 

اقبال کے کلام میں قرآن کی تعلیمات اور اسلام کا پیغام مختلف انداز میں موجود ہے ۔کہیں وہ ملّتِ اسلامیہ کے اس طبقہ کو نشانۂ طنز بناتا ہے جو اسلامی روح سے عاری اوررسم و رواج ہی کو اصل دین سمجھے ہو ئے ہے اقبال کا آ فاقی پیغام اس کے لئے بے معنی ہے ۔

  میری مینائے غزل میں تھی ذراسی باقی
شیخ کہتا ہے کہ یہ بھی ہے حرام اے ساقی 

یوں تو ملّا، شیخ، واعظ،ناصح ،زاہد ، اقبال سے قبل بھی شعرا کے ہاں معتوب رہے ہیں کہ ان کے ذریعے ادب میں اس طبقہ پر تنقید کی گئی جو مذہب کو سطحی انداز میں برتتا ہے اس کے ظاہری رسم و رواج ہی کو سب کچھ سمجھے ہو ئے ہے اور مذہب کی اصل روح سے نا آشنا ہے اقبال نے اپنی شاعری میں جب اس طبقہ کو طنز کا نشانہ بنایا تواقبال کے ہاں قوم و ملّت کے زیاں اور زوال آ مادگی پر حزن و ملال اور تاسف کا گہرا تاثرابھرآ یا ۔ 

  کو ئی یہ پو چھے کہ واعظ کا کیا بگڑ تا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہبے نیاز کرے 
  غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے ۔

 
ظاہر داری اور مذہب کی اصل روح سے بیگانگی تو اقبال کو دیگر مذاہب میں بھی قبول نہیں ۔نیا شوالہ اس نظم میں جہاں قومی یکجہتی کی بات کہی گئی ہے وہیں مذہب کے نام پر لو گوں میں فرقہ واریت کے بیج بونے والے عناصر کو بھی اقبال نے حدفِ ملامت بنایا ہے ۔

  سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
  اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 

  پتّھر کی مورتی کو سمجھا ہے تو خدا ہے
خاکِ وطن کو مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے 
  آ غیریت کے پر دے اک بار پھر اٹھا دیں
بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقشِ دوئی مٹادیں 
  شکتی بھی شانتی بھی بھکتوں کے گیت میں ہے
  دھرتی کے واسیوں کی مکتی پریت میں ہے         
  نیا شوالہ
یہ اشعار اس طرف اشارہ کر تے ہیں کہ شاعر کی نظر میںدین کی بنیاداور مذہب کی اصل منشاء ربطِ باہمی ،یگانگت ،اور اخوت پر ہے مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا اور جو طاقتیں مذہب کے نام پر یہ کام کر رہی ہیں اقبال ان کے خلاف ہے ۔ 
اقبال اجتماعیت اور قومیت کا علمبر دار ہے ،خواہ وہ مختلف قوموں کے باہمی روابط ہوں جو رواداری اور بھائی چارے پر منحصر ہیں یا مسلمانوں کے درمیاں اجتماعیت کا معاملہ ہو اقبال نے کئی مقامات پر اسے موضوعِ سخن بنایا ہے ۔

  فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں 

اقبال نے تعمیرِ قوم کے جس مبارک کام کے لئے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا اس کے تمام امکانات کو استعمال کیا۔اس نے بچّوں کی ذہن سازی کے لئے کئی نظمیں لکھیں جو بانگِ درا میں شامل ہیں ۔ان نظموں کا داعیانہ اسلوب دامن کشِ دل ہے۔ایک بہترین زندگی کا تصوّر ،خدا پرستی ،انسانی محبّت ،رواداری ،اخلاقی بلندی حب ّالوطنی کاجذبہ اور قوم و ملّت کے لئے جان نثا ر کر نے کے عزائم اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا درس ان منظومات میں موجود ہے ۔ اقبال کے کلام کا بیشتر حصّہ اس کے سوزِ دروں اور درد مند دل کا فنکارانہ اظہار ہے اور اقبال کی دروں بینی نے جس جہانِنو کاخواب سجایا تھا اس کا بھر پور داعیہ اس کے اسلوب سے آ شکار ہے ۔  
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Sunday, September 27, 2009

شادی کے بعد .....انشائیہ

شادی کے بعد 
انشائیہ 

محمّد اسداللہ 

شادی کے بعد ہونے والی رنگ برنگی تقریبات کو ہم عاشق کا نہ سہی عشق کا جنازہضرور کہہ سکتے ہیں ۔ زندگی نکاح کے بعد گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے لگتے ہے۔ شاید اسی موقع کے لئے کہا گیا ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہو تی ۔ چند ہی دنوں میں یہ رنگ اڑ جا تاہے او ر پھر کبھی واپس نہیں آ تا خوا ہ آ پ نکاحِ ثانی ہی کیوں نہ کر لیں ۔ 

اذدواجی زندگی کی ابتدا میں حا صل ہو نے والی بے پناہ مسرّتوں کو عمر بھر قسطوں میں لو ٹانا پڑتا ہے ۔اذدواجی زندگی ایک شکر میں لپٹی ہو ئی گولی ہے ۔دولہے میاں کا کوٹ اترنے نہیں پا تا کہ شکر کا غلا ف تر نے لگتا ہے۔ 
سنا ہے انگریزی کے مشہور شاعر ملٹن نے شادی کے بندھن میں بندھ جا نے کے بعد اپنی شہرۂ آفاق نظم پیراڈائیز لاسٹ لکھی تھی اور چند بر سوں بعد جب اس کی بیوی اسے داغ، مفارقت دے گئی تو پیرا ڈائیز ری گین لکھ کر سکھ کا سانس لیا ۔ 

ملٹن بحر حال ایک عظیم شاعر تھا ۔ مجھ جیسا بچّہ ادیب تو شادی کے بعدطنز و مزاح نگاری چھوڑ چھاڑ کر تنقید نگاری سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتا ہے ۔شادی کے بعد چند عبوری ماہ و سال گزر جا ئیں تو شوہر کو یہ محسوس ہو نے لگتا ہے کہ وہ خود اپنی ذات پ ایک بہت بڑا طنز ہے ۔اسے لگتا ہے کہ آدمی خود ایک چلتے پھرتے لطیفے میں ڈھل چکا ہو تو لو گوں کو ہنسانے کے لئے کاغذ قلم کو زحمت کیوں دی جائے۔ قرضداروں سے سہما ہوا ،بیوی سے ڈرا ہوا،نو نہالوں سے لدا ہوا شوہر ایک ان کہا اور ان سنا لطیفہ ہی تو ہے ۔

کسی کا سرتاج کہلانے والا یہ شخص ذمہ داریوں کے کانٹوں کا تاج سر پر پہنے ،مسکرانے کے لئے مسکرانابھول جاتا ہے۔ وہ ہنستا اس لئے کہ رو نہیں سکتا ۔(اسے بچپن ہی سے گھر میں یہ سکھا یا گیا ہے کہ رونا لڑکیوں کا کام ہے اور انھیں رلانامردوں کی ذمّہ داری ہے ۔ )مرد اپنے رونے کو مسکراہٹ کی زبان میں ٹرانسلیٹ کر لیتا ہے ۔اسی لئے شوہروں کی ہنسی اور انگریزی ناول کے کسی تھرڈکلاس ترجمہ میں کو ئی خاص فرق نہیں ہوتا۔

شوہر کی زندگی میں وہ لمحات بھی آ تے ہیں جب اسے نہ مسکرانے کی ضرورت ہو تی ہے نہ فرصت ۔ یہ سوغات تب تماشائیوں کے حصّے میں آتی ہے ۔مگر خندۂ زیرِ لب اچھالنے والے بھی کب تک اپنی خیر منائیں گے ۔


Friday, September 04, 2009

اساتذہ سے ایک انٹرویو ۔ سوالنامہ Interview On teachers day (Urdu)













اساتذہ سے ایک انٹرویو ۔ سوالنامہ 
یومِ اساتذہ
 
پیشکش : محمّد اسد اللہ  

بھارت کے سابق صدرِ جمہوریہ ،سروپلّی ڈاکٹر ردھا کشنن کا جنم دن پانچ  ستمبر ،ملک بھر میں یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جا تا ہے ۔ڈاکٹر رادھا کشنن نے اپنا کریئر ایک استاد کی حیثیت سے شروع کیا تھا اور ملک کے سب سے بلند مقام تک پہنچ گئے لیکن تدریس اور اساتذہ کا احترام ان کے دل میں برا بر قائم رہا ۔سماج میں اس معزز ہستی کو جسے معمارِ قوم کے نام سے بھی جانا جا تا ہے ،اب وہ عزّت اور مرتبہ حاصل نہیں جو کسی زمانے میں تھا کہ ایک ہندی زبان کاایک شاعریہ کہتا ہے کہ میرے سامنے استاد اور بھگوان دونوں موجود ہو ں تو میرے لئے یہ فیصلہ کر نا دشوار ہے کہ پہلے کس کی پا بوسی کرو ں ۔

نہ صرف طلباء بلکہ پورا سماج اساتذہ کو احترام اور قدر کی نگاہوں سے دیکھے اور ان کے علم ا و رہنمائی سے انسانی زندگی انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنار ہو ،شاید اسی خواہش کے تحت ڈاکٹر ردھا کشنن نے اپنے جنم دن کو یومِ اساتذہ کے طور پر منانے کی سفارش کی  تھی  

وقت کے ساتھ اساتذہ بھی اپنے فرائضِ منصبی کو کسی حد تک فراموش کر بیٹھے یا تدریس کے شعبہ میں بڑھتی ہو ئی تجارتی ذہنیت نے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ ایک فرض شناس استاد کا رول ادا کر سکیں۔
یومِ اساتذہ کو جب طلباء اپنے استادوں کی خدمت میں بڑی عقیدت اور احترام سے گلوں کے تحفے پیش کر تے ہیں تو یہ دن تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لئے یومِ احتساب بن جا تا ہے کہ وہ اپنی ذمّداریوں کو پورا کرنے کے بارے میں سوچیں اور اپنے معمولات میں تبدیلی پیدا کریںاور اپنے آ پ کو کو طلباء کے لئے مفید بنائیں ۔
 

راقم السطور جو خود بھی اسی مبارک پیشے سے تعلّق رکھتا ہے ، صورتِ حال کو بہتر بنانے کی اپنی سی سعی کرتا ہے ۔میرے طلباء جو جو نیئر کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، ان میں سے اکثرطالبات مستقبل میں ڈی ایڈ کا امتحان پاس کر کے درس و تدریس سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ہم اپنے کالج میں طلباء میں اسی ذمّہ داری کا شعور پیدا کر نے کے لئے یومِ اساتذہ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کر تے ہیں ۔ ان میں سے ایک ہے طلباء کے ذریعے اساتذہ کے انٹر ویو ۔

یہاں ایک سوالنامہ پیش کی جا رہا ہے، طلباء اس دن اساتذہ سے اس میں شامل سوالات کے ذریعے نہ صرف ان کی رائے جاننے کی کو شش کر یں گے بلکہ ممکن ہے انھیں خود احتسابی کی ایک خاموش دعوت بھی دیں گے۔ ان میں سے اکثر سوالات ہمارے طلباء نے تیار کٔے ہیں ،نوکِ پلک سنوارنے والے ہم ہیں۔ 

مقاصد 

طلباء اور اساتذہ کے درمیاں بات چیت کے ذریعے طلباء میں خود اعتمادی پیدا کر نا

طلباء میں سوالات بنانے اور انھیں پوچھنے کی صلاحیت پیدا کر نا۔

کسی کے بیان کو نوٹ کر نے اور اس کے خیالات کو ترتیب وار لکھنے کی مشق کر وانا ۔

طلباء میں انٹرویو کے دوران پوچھے جانے والے سوالات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر نا ۔

گروپ میں کام کر نے کی عادت ڈالنا اور گروپ لیڈر کی رہنمأی میں ٹیم ورک کرنے کی صلاحیت پیدا کر نا ۔

طریقۂ کار 

۔ اس میں طریقۂ کار یہ ہے کہ اس سوالنامہ کی دو پرنٹیڈ کاپیاں طلباء کے ایک گروپ کو دی جائیں گی ،یہ گروپ تقریباً تین یا چارطلباء پر مشتمل ہوگا ۔ ہر گروپ کو اس تعلیمی ادارہ میں شامل چار اساتذہ کے نام دئے جا ئیں گے جن سے وہ اس سوالنامہ میں شامل سوالات میں سے چار پانچ اپنی پسند کے سوالات پو چھیں گے تمام طلباء ان جوابات کے مختلف حصّے نوٹ کریں گے اور پھر انھیں گروپ لیڈر کی رہنمائی میں ترتیب دیکر ہمیں لوٹائیں گے ۔ان کے ذریعے اکٹّھا کی گئی معلومات ہم سالانہ میگزین میں ان طلباء اور اساتذہ کی تصاویر کے ساتھ شائع کریںگے ۔ممکن ہے اسے ہم اپنے اس بلاگ پر بھی پیش کریں ۔

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

       ایک مثالی معلّم میں کو ن سی خوبیاں ہو نی چا ہئے ؟ 

۲۔اگرآپ کو ایک ہفتے کے لئے وزیرِ تعلیم بنا دیا جائے تو آپ تعلیم کے میدان میں کون سی اہم تبدیلی لا نا چاہیں گے ؟ 

۳۔کسی ایسے استاد کا نام بتائیے جنھوں نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ،یا آ پ کی زندگی میں کو ئی تبدیلی پیدا کی ۔ان کی کو ئی خاص بات جو آ پ کو یاد ہو۔

۴۔ ذہین ،Avarage (متوسط )،او رکمزور یعنی مختلف قسم کے طلباء کو پڑھاتے وقت آپ کو کن مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے؟ 

۵۔آپ ٹیچنگ فیلڈ میں خود اپنی مرضی سے آ ئے ہیں یا حالات نے اس پیشہ کو اپنانے پر مجبور کیا تھا ؟ اگر آ پ ٹیچر نہ ہوتے تو کیا بننا پسندکر تے؟ 

۶۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی مضمون (Subject) کے بارے میں ٹیچر سے زیادہ معلومات کسی اسٹوڈنٹس کو ہو سکتی ہے ؟ 

۷۔ ٹیچرس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ ایک فلاسفر،گائیڈ اور دوست ہوا کر تا ہے ،آپ ان میں سے اپنے لئے کون سا رول پسند کریں گے ؟ 

۸۔ کیا آ پ اپنے بچّوں کو ٹیچر بنانا پسند کریں گے ؟اور کیا آ پ کے بچّے خود بھی ٹیچر بننا چاہیں گے ۔ ہاں! نہیں۔ کیوں؟

۹۔ اگر آپ کی کلاس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہیں تو آ پ کی نظر میں ان میں کون بہتر ہے ؟کچھ لوگ لڑکوں کی تعلیمی ترقّی سے مطمعن نہیں ہیں ۔آپ کا کیا خیال ہے؟

۱۰۔ آج سماج میں اساتذہ کی وہ عزّت باقی نہیں رہی جو ہو نی چاہئے اس کی کیا وجہ ہے ؟ 

۱۱۔اردو میڈیم اسکولوں کے گرتے ہو ئے معیار کا ذمّہ دار آ پ کی نظر میں کون ہے۔طلباء،سرپرست یا اساتذہ ۔

۱۲۔ ٹیچرس ڈے کیوں منایا جا تا ہے ،طلباء کو ٹیچر کے مقام و مرتبے سے واقف کر انے کے لئے یا ٹیچرس کوان کی ذمّہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے یا ٹیچرس کی دلجو ئی کے لئے ؟ 

۱۳۔ ٹیچرس ڈے پر طلباء اسکولوں میں اساتذہ کی خدمت میں تحفے اور پھول پیش کر تے ہیں ۔ اس رواج کے بارے میں آ پ کا کیا خیال ہے ؟ 

۱۴۔اردو کے ایک مزاح نگار مرحوم یوسف ناظم نے کہا تھا کہ’’ ہمارے نظامِ تعلیم میں دو چیزوں کی کمی ہے ۔ایک تعلیم اور دوسرے نظام کی‘‘۔آ پ کے خیال میں ، ہمارے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے سر کا ر کو کون سے قدم اٹھانے چاہئے ؟ 

۱۵۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر آ پ طلباء کو کو ئی پیغام دینا چاہیںگے ؟ 

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،




Friday, May 01, 2009

Mini Kahaniسعادت حسن منٹو


سعادت حسن منٹو
منی کہانیاں
۔ ہمیشہ کی چھٹی

پکڑ لو۔۔۔۔ پکڑلو۔۔۔ دیکھو جانے نہ پائے۔
شاید تھوڑی سی دوڑ دھوپ کے بعد پکڑلیاگیا
جب نیزے اس کے آر پار ہونے کے لئے آگے بڑھے
تو اس نے لرزاں آواز میں گڑگڑاکر کہا۔
مجھے نہ مارو، مجھے نہ مارو، تعطیلوں میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

دعوت عمل

آگ لگی تو سارا محلہ جل گیا۔۔ صرف ایک دوکان بچ گئی۔۔۔۔۔
جس کی پیشانی پر یہ بورڈ آویز اں تھا۔
’’یہاں عمارت سازی کا جملہ سامان ملتا ہے۔‘‘

۔کرامات

لوٹا ہوا مال برآمد کرنے کے لئے پولس نے چھاپے مارنے شروع کئے۔ لوگ ڈر کے مارے لوٹا ہوا مال رات کے اندھیرے میں باہر پھینکنے لگے ۔ کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنا مال بھی موقع پا کر اپنے سے علیحدہ کردیا تاکہ قانونی گرفت سے بچ سکیں۔ ایک آدمی کو بہت وقت پیش آئی اس کے پاس شکر کی دو بوریاں تھیں جو اس نے پنساری کی دوکان سے لوٹی تھیں۔ ایک تو وہ جوں توں رات کے اندھیرے میں پاس والے کنوئیں میں پھینک دیا لیکن جب دوسری اٹھا کر اس میں ڈالنے لگا تو خودہی ساتھ ساتھ چلا گیا۔ ۔۔۔۔ شورسن کر لوگ اکٹھا ہوگئے کنویں میں رسیاں ڈالی گئیں دوجوان نیچے اترے اور اس آدمی کو باہر نکال لیا لیکن چند گھنٹوں کے بعد وہ مرگیا۔
دوسرے دن جب لوگوں نے استعمال کے لئے اس کنویں سے پانی نکالا تو وہ میٹھا تھا۔اس رات اس آدمی کی قبر پر دئے جل رہے تھے۔٭

Wednesday, April 22, 2009

اردو منی کہانیاں Mini Kahaniyan (Urdu)

منی کہانی ۔ ایک نوٹ
محمّد اسد اللہ 

ادب کو عام طور پر دو حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ نثر اور نظم ۔نثر میں کئی اصناف ہیں۔ مثلاً ۔ داستان، ناول، افسانہ، ڈرا ما، سوانح، سفرنامہ، خطوط ،مضامین وغیرہافسانہ یا کہانی عام طور پر مختصر ہوتی ہے۔ ناول طویل ہوا کرتا ہے ۔ لیکن ان دونوں میں مختصر اور نئی اصناف میں ایک صنف ہے مختصرافسانہ جسے ہم کہانی بھی کہتے ہیں۔

منشی پریم چند سے لے کر سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، کرشن چند اور راجندر سنگھ بیدی نے اردو میں عمدہ افسانے لکھ کر اپنی پہچان بنائی۔
ان مختصر کہانیوں کے علاوہ ایسی کہانیاں بھی لکھی گئیں جو چند سطروں پر مشتمل تھیں۔ انھیں منی کہانی یا افسانچہ کا نام دیا گیا۔افسانچہ کی ابتدا اردو میں منٹو کے سیاہ حاشیے سے ہوئی تھی۔۱۹۴۸ ء میں سیاہ حاشیے کی شکل میں ان کے افسانچے منظر عام پرآئے کچھ لوگ افسانچہ کے ڈانڈئے عربی ادب اورخلیل جبران کے مقولوں ، شیخ سعدی کی حکایتوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صنف لطیفے اور پہلی سے قریب لگتی ہے اس لیے اسے ایک نیا نام دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔جس طرح داستانوں کے بعد ناول ،ناول کے بعد مختصر افسانہ وقت کی ضرورت ثابت ہوئے اسی طرح منی افسانہ بھی افسانے کے بعد موجود دور میں زندگی کی ایک ضرورت اور حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اردو میں منٹو کے بعد جو گیندرپال نے اس صنف پر خصوصی توجہ دی۔کسی موضوع کو کم لفظوں میں بیان کرکے اس میں طویل کہانی کا تاثر پیدا کر دینا منی کہانی کی خصوصیت ہے۔

مختصر کہانی صرف بات کو مختصر کہنے سے نہیں بنتی بلکہ اس سے اس طرح بیان کیا جا تا ہے کہ بات پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے۔ افسانچہ میں افسانہ نگار چند جملوں میں وہ بات کہہ جاتا ہے جیسے کہنے کے لئے دوسرے افسانہ نگار کو سینکڑوں الفاظ درکار ہوتے ہیں۔ ان چند جملوں میں زندگی کے صرف ایک مختصر حصّے پر روشنی پڑتی ہے اور بہت کچھ چھوڑدیا جاتا ہے جسے پڑھنے والا اپنی سمجھ سے مکمل کرکے بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔
کچھ لوگوں نے منی کہانی لکھنے کے فن کو چاول پر قل ھو اللہ لکھنے اور انگلی پر پربت اٹھانے کا ہنر قرار دیا ہے۔


اردو کی چند  منی کہانیاں یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
٭۔ فاصلے

میں ان دنوں کئی بار اپنے راکٹ میں بیٹھ کر چاند
تک ہو آیا ہوں، لیکن ایک مدّت ہوگئی دس قدم چل کر اپنے بھائی سے ملنے نہیں گیا۔
 
۔ غرقاب

’’میں ایک عرصہ سے ایک سمندری جہاز میں نوکر ی کرتا ہوں‘‘
پہلے پہل جب میرا سمندر سے رابطہ ہوا تو مجھے لگتا تھا۔ میں اس میں ڈوب جاؤں گا۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ سمندر ہی میرے اندر ڈوب گیا ہے۔
٭
طالب زیدی

۱۔ محروی
’’جب سے دشمنوں کی پہچان ہوئی ہے۔
دوستوں سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘

۔ شگون

’’وزنی ٹرک کے نیچے آکر سیاہ بلی تارکول کی سڑک پر بچھ گئی تھی۔ خدا جانے اس کا راستہ کس نے کاٹا تھا۔‘‘
٭
نسیم محمد جان
       
۱۔ آدم خور
’’بھئی یہاں تو چھ کا ؤ نڑز تھے‘‘
’’ہاں‘‘
کہاں چلے گئے سب لوگ ؟‘‘
’’آدم خور کھاگیا ‘‘
کیا ؟
سامنے دیکھو۔۔۔۔ ایک کمپیوٹر لگ گیا ہے‘‘
٭

رتن سنگھ

۔ احتیاط

ہنستے ناچتے خوشیاں مناتے ایک ہجوم کو قریب آتا دیکھ کر ایک بھکاری نے اپنے تین چار سال کے بچے کو جلدی سے گودمیں اٹھا لیا اور ایسی آڑ میں لے گئی جہاں سے بچہ ان رنگ رلیاں منانے والوں کو نہ دیکھ سکے۔‘‘ نابابانا وہ بڑ بڑاتے جارہی تھی۔
’’میرے ننگے بھوکے بچے نے اگر ہنسنا سیکھ لیا تو کل کو اسے بھیک کون دے گا۔٭

Thursday, April 16, 2009

Muslim voters aur voting مسلم ووٹر اور ووٹنگ


مسلمان عام طور پر ووٹ ڈالنے سے کیوں کتراتے ہیں ؟
یہ ایک سوال ہے جو حالیہ لوک سبھاالکشن کی ہنگا مہ آ رائیوں کے درمیان اکثر ذہنوں میں سر ابھارتا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ عام مسلمان اپنے گزشتہ برسوں کے تجربات کی بنیاد پر منتخب ہو نے والی سیاسی پارٹیوں کی کا رکردگی سے بری طرح مایوس ہوا ہے اور مستقبل میں بھی سیاسی لو گوں سے کو ئی خاص امّید نہیں کی جا سکتی ۔ گویا اب الکشن میں ہمارے لئے ووٹ ڈالنے کا مقصد اچّھے حکمرانوں کا انتخاب کر نا نہیں ،بلکہ دو بُرے لو گوں میں سے کسی کم بُرے کو چنّا ہے ۔ لیکن جو لوگ اس میدان میں اترے ہیں ان پر ایک نظر ڈالئے تو لگتا ہے یہاں تو ساری ہی دال کالی ہے ۔یہ سبھی ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے ہیں ۔

بظاہر دو درختوں کی طرح جو کچھ فاصلے پر کھڑے نظر آ تے ہیں، لیکن ان کی جڑیں اندر سے ایک دوسرے سے ملی ہو ئی ہیں ، یہ سیاسی پارٹیاں حکومت بنانے کے لئے یا بالفاظِ دیگر کر سی حاصل کر نے کے لئے سیاسی گٹھ بندھن کے نام پر ایک ہوجائیںگی۔یعنی ہمیں ان لوگوں کو منتخب کر نا ہے جو اس میدان کے مرد ہیں اور آ ئے ہی اسی ارادہ سے ہیں کہ مال و دولت،شہرت حکومت حاصل کر یں گے ۔ان میں شائد ہی کو ئی ایسا ہوگا جو خالص خدمتِ خلق کا جذبہ لے کر آ یا ہو اور اپنی دنیا بنا ناا س کے پیشِ نظر نہ ہو، بلکہ ایسا کو ئی اس گلی میں آ ئے اور آخر تک اپنے ارادہ پر قائم رہ پائے حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے ( کہ نکٹو ں کی بستی میں کسی ناک والے کو ٹکنے نہیں دیا جاتا ) تو اس شخص کو سادہ لوح کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے اسی لئے اب سیاست میں شریف لوگ بہت کم گھستے ہیں (کیونکہ شریف آ دمی گھس پیٹھیا نہیں ہو تا) ۔بقول غالب ؔ

ہاں وہ نہیں خدا پرست ؛جا ؤ، وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں

ایک حکایت

ایک شخص کو پھانسی کی سزا دینے سے پہلے بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نے کہا : آ ج ہماری بیٹی کا جنم دن ہے اس لئے ہم تم پر خاص عنایت کر نے والے ہیں ۔وہ آ دمی بہت خوش ہوا کہ ممکن ہے جان بخشی ہو جا ئے ۔ بادشاہ نے کہا : تمہارے سامنے تین کارڈ ہیں ان میں سے جو سہولت تمہیں پسند ہو اسے چن لو ۔ مجرم نے پہلا کارڈ اٹھایا اس پر لکھا تھا ’موت‘ ،اس نے گھبرا کر دوسرا کارڈاٹھایا ،اس پر درج تھا’موت‘ ۔اس نے اس امّید پر کہ یقینا یہی بادشاہ کی طرف سے خاص عنایت ہے تیسرا کارڈ اٹھایا اس پر بھی لکھا تھا ’موت‘۔
یہی حال ہمارے ووٹروں کا ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو منتخب کریں نتیجہ وہی ہے ڈھاک کے تین پات !


مو جوددہ دور میں مسلمان سوچتے ہیںکہ ہم کو جن سے ہے وفا کی امیّد ،وہ نہیں جانتے وفا کیاہے ۔اسی لئے عام طور مسلمانوں کا بڑا طبقہ نہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کر وانے کے کئے دوڑ دھوپ کر تا ہے اور نہ مسلم ووٹر اپنا ووٹ بینک کتنا طاقتور ہے یہ بتانے کی فکر کر تے ہیں ۔
یہ اور بات ہے کہ بدلتے ہو ئے حالات نے اب خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے میں یہ شعور پید اکر دیا ہے کہ ہمیں ووٹ کا استعمال ضرور کر نا چاہئے ۔یہ نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ اگر ہم اپنی پسندیدہ پارٹی کو منتخب کروانے میں زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوں تو کم از کم ووٹ کی طاقت کا استعمال کر کے ان سیاسی جماعتو ں کو حکومت پر قابض ہو نے سے روک ضرور سکتے ہیں۔جو نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

میںا یسے لو گوں سے بھی ملا ہوں جو اس بات کو فخرسے بیان کر تے ہیں کہ ہم نے نہ زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا اور نہ اس اختیار کا استعمال کریں گے ۔یہ دراصل موجودہ سیاسی اداروں کی کالی کرتوت کے خلاف برہمی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے اور کہیں تو یہ خیال ان لو گوں کے دلوں میں جا گزیں ہے کہ یہاںے داغ تو کو ئی ہے ہی نہیں پھر
ہم ووٹ ڈال کر بد کر دار لو گوں کو حکومت کی کر سی پر بٹھا نے کا گناہ کیوں کریں ؟
یہ سچ ہو تب بھی وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ووٹ کا استعمال نہ کرنے سے اگر قوم و ملک کے لئے خطرہ بننے والے لوگ کرسی پر قابض ہو گئے تو اس صورت میں بھی ہم غفلت شعاری اور قوم کے مفادات کا تحفّظ نہ کر نے کے مجرم تو ہو نگے ہی ۔

بہتر یہ ہے کہ قومی مفاد کے پیشِ نظر اپنے ووٹ کا سوجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کی جائے ۔

Wednesday, December 03, 2008

environmentماحولیات


علمِ ماحولیات کی اہمیت و افادیت 

گذشتہ صدیوں کے دوران سائنسی ایجادات اور انکشافات نے پوری دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا ہے ۔ اسی دوران کئی علوم بھی سامنے آ ئے ان میں علمِ ماحولیات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے ۔ علمِ ماحولیات کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک ہر سطح پر اب علمِ ماحولیات کی تدریس کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ 
علمِ ما حولیات کو تعلیمی اداروں میں نصاب میں شامل کر نے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ طلباء اس ماحول سے واقف ہوں جس میں وہ رہتے ہیں اس میں مو جود قدرتی وسائل کا صحیح استعمال انھیں آ ئے اور اس کے مضر اثرات سے اپنے آ پ کو بچا سکیں ۔ اسی کے ساتھ دنیا کے مختلف خطّوں میں پا ئی جانے والی انسانی زندگی کے بارے میں بھی ان کو معلو مات حاصل ہو سکے ۔ 
مثل مشہور ہے ک
ہ ضروت ایجاد کی ماں ہے ۔عالمی پیمانے پر ماحول کے بگڑ تے ہو ئے توازن اور اس کے بھیانک نتائج نے ساری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اب ماہرین کے علاوہ حکومتیں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ ماحول کے تحفّظ کے لئے عوام میں بیداری پیدا نہیں ہو ئی تو اس کرّۂ ارض پر انسانی زندگی کا سانس لینا دو بھر ہو جا ئے گی ۔ 

دراصل گذشتہ برسوں میں انسانی آبادی میں زبردست اضافہ ہو ا ہے .
1936           
میں ہندوستان کی آ بادی 36 کروڑ تھی جو 2006 میں ایک ارب گیارہ کروڑ تک جا پہنچی ہے ۔اسی طرح دنیا کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔صنعتی ترقّی کے سبب بڑے بڑے جنگالات کا صفایا ہو گیا۔ بڑی بڑی فیکٹریوں اور کثیر تعداد میں دوڑنے والی سواریوں سے نکلنے والے دھویں اور کارخانوں کے بیکار پانی سے کیمیاوی مادّے ندیوںاور آ بی ذخیروں میںشامل ہو تے جا رہے ہیں ان سے اگائی جانے والی سبزیاں بھی مضرِ صحت ہیں ۔جنگلات کی کٹائی کا سلسہ اب بھی جاری ہے۔ اگر یہ سلسہ روکا نہیں گیا تو انسانی صحت اس کے برے اثرات پڑیں گے اور آ ئندہ انسانی نسلیں مختلف بیما ریوں کا شکا ر ہوں گی ۔ 

      گذشتہ کئی بر سوں سے عالمی پیمانے پر مو سم میں خطر ناک حد تک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کے اثرات ہمارے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں ۔اس کے سبب جہاں زراعت اور فصلوں کے نقصان ہو رہا ہے وہیں صحتِ انسانی کے علاوہ صنعت و حرفت اور قدرتی وسائل بھی متاثر ہو رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں تعلیم کی کمی ہے اور اسی وجہ سے ماحول کے متعلق لوگوں میں معلومات کا فقدان ہے ۔ 

ہر ملک میں ماحو ل کے تحفّظ کی خاطر قوانین بنا ئے گئے ہیں اور حکومتیں سختی سے ان کو نا فذ کر نے کی کو شش کر رہی ہے لیکن اس کے با وجود عام طور پر ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جا تی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام میں اس شعور کی کمی ہے جو انھیں اپنے نفع نقصان کو سمجھ کر زندگی گذارنے کے قا بل بنا ئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب لو گوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ وہ ماحول کو پرا گندہ ہو نے سے بچا ئیں۔ عالمی پیمانے پر کئی ادا رے ہیںجو اس سلسلہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں بھی مختلف اداروں کی سرگرمیوں کے علاوہ کئی رسائل ماحولیات کے لئے مخصوص ہیں جو سماجی بیدا ری پیدا کر نے کے کام میں سر گرم ہیں ۔ ۵! جون کو عالمی یومِ ماحولیات کے طور پر منایا جا تاہے ۔ اس مو ضوع پر اخباروں اور دیگر رسائل میں مضامین شائع ہو تے ہیں ۔ جلسے اور مختلف قسم کے تحریری و تقریری مقابلے اور نمائشیں منعقد کر کے لو گوں کو ماحول کی آ لو دگی کے خطرات سے آ گاہ کیاجا تاہے ۔ 

ہماری یہ ذمّہ داری ہے کہ اس سلسہ میں لو گوں کو بیدار کیا جا ئے تاکہ وہ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور اس کی حفاظت کریں اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ماحول کے بارے میں تعلیم کو عام کیا جا ئے ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں میں اب ابتدا ئی سطح ہی سے ماحولیات کو نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ اس کے فائدے بھی ظاہر ہیں نئی نسل ماحول کی حفاظت کے معاملے میں زیادہ فکر مند اور سر گرم ہے ۔


Tuesday, September 16, 2008


گاندھی جی اور چھوت چھات کی رسم
گاندھی جی ہندو ستان میں پا ئی جانے والی چھوت اور اچھوت کی قبیح رسم کے سخت خلاف تھے ۔ان کی محتلف تحریکات میں اس سماجی برائی کے انسداد کی کوشش کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اس سلسہ میں ان کے خیالات قابلِ غور ہیں : 
 
اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ 
 میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔ (بحوالہ :مہاتما گاندھی اپنے افکار کے آ ئینے میں ۔مطبوعہ ،ماہنامہ آ جکل اکتوبر ۲۰۰۴) 

گاندھی جی ہندو مسلم اتحاد کے بھی زبردست حامی تھے ۔ان کا خیال تھا کہ:۔’ اگر ہندواور مسلم امن و بھائی چارہ کے ساتھ مل جل کر رہنا نہیںسیکھ لیتے تواس ملک کا جسے ہم بھارت کے نام سے جانتے ہیں، وجود ختم ہو جائے گا ۔ ( بحوالہ: ایضاً ) 
گاندھی جی نے مختلف مذاہب کی کتابوں اور دنیا کے اہم دانشوروں کے افکار کا مطالعہ کیا تھا ۔ ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر صبح گیتا کے علاوہ قران مجید اور انجیل مقدّس کا بھی مطالعہ کیا کر تے تھے ۔ ان کی کتاب
MY EXPERIMENTS WITH TRUTH                         
میں اس حقیقت کا اعتراف مو جود ہے کہ جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران کئی مسلمانوں سے ان کے گہرے مراسم رہے جو اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں ان کے لئے مدد گار ثابت ہو ئے ۔ ان سے جب کسی نے دریافت کیا کہ رام راجیہ کے جس تصوّر کی وہ بات کر تے ہیں وہ کس قسم کی حکومت ہو گی تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ خلیفۂ دوّم حضرت عمر ؓ کی حکومت کے طرز پر ہو گا ۔ انگلینڈ میں رہ کر گاندھی جی نے عیسائیت کی اور وکالت کے دوران پارسی لو گوں کے ذریعے ان مذاہب کی روح تک پہنچنے کی کوشش کی ۔وہ تمام مذاہب کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ بنیادی طور پر اپنے آ بائی مذہب اور ہندو فلاسفی سے ان کا گہرا تعلق تھا ۔ انھوں نے ہندوستانی سماج کوقریب سے دیکھا اور سمجھا تھا ۔ وہ اس ملک کی سماجی زندگی کے نبض آ شنا تھے ۔ انھوں نے دیگر مذاہب کے افکار و خیالات کے لئے بھی اپنے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھی تھیں۔ تحریکِ آ زادی کے دوران ہر طبقے اور ہر علاقہ کے لوگوں سے ان کو سابقہ پڑا ۔یہی عوامل تھے جو ان کی قومی یکجہتی کے نظر یہ کی تشکیل میں معاون ثابت ہو ئے ۔
گاندھی جی کے قومی یکجہتی نظریات:
گاندھی جی کے قومی یکجہتی نظریات کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے جس حقیقت پر ہماری نظر ٹھہر تی ہے وہ یہ کہ ان کے فطری میلان کا نتیجہ نہ تھا بلکہ ان کے عہد میں جاری تحریکات اور رجحانات کا تقاضا بھی تھا۔ در اصل تحریکِ آ زادی کے عروج کے زمانے میں اسے ناکام کر نے کی سازشیں بھی وجود میں آ ئیں۔ انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پا لیسی کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں میں جو نفرت کے بیج ڈالے گئے تھے ان میں انکھوے نکلنے لگے تھے ۔ مختلف قوموں اور ذاتوں کے بیچ دوریاں بڑھنے لگیں تھی ۔۱۹۰۹ ء میں مارل منٹو کی اصلاحات سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے الگ الگ حلقہٗ انتخاب کا اعلان ،شدّھی تحریک اور دو قومی نظریہ کا سامنے آ نا یہ وہ عوامل تھے جو تحریکِ آ زادی کے لئے سمِ قاتل ثابت ہو سکتے تھے ۔ گاندھی جی نے ان خطرات کو بھانپ لیا اور اتفاق اور اتحاد کی فضا قائم کر نے میں جٹ گئے ۔ ڈاکڑ امبیڈ کر اور طبقۂ اشراف کے درمیان سمجھوتہ کروا کر گو یا انھوں نے ایک بڑی مصیبت کو ٹال دیا تھا ۔ ملک میں صدیوں سے چلی آ رہی چھوت چھات کی رسم کے خلاف انھوں نے تحریک چلائی ۔گاندھی جی نے لسانی تفریق کا خاتمہ کر نے کی غرض سے ہندوستانی کا تصوّر پیش کیا ۔ وہ اردو کو ایک ایسی زبان کی شکل دینا چاہتے تھے جس میں فارسی اور عربی کی بہ نسبت مقامی اور علاقائی آسان الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو تاکہ ہندوستان کا ہر شخص اس زبان کو سمجھ سکے اور یہ زبان پورے ملک کو لسانی سطح پر جوڑ کا ذریعہ بن جا ئے ۔

گاندھی جی کے قومی اتّحاد کے نظر یہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے تمام طبقات کو اتحاد کی ڈور سے باندھنے کے لئے گاؤں اور شہر کو بھی قریب لا نے کی کوشش کی ۔انھوں نے دیہی زندگی کی اصلاح اور ترقّّی پر خاص طور پر زور دیا ۔صنعتی ترقّی نے جہاں شہروں کو ترقّی سے ہمکنار کیا تھا وہیں دیہاتوں کا پچھڑا پن دیکھ کر گاندھی جی نے اس طرف توجّہ دی ۔ ان کے قول کے مطابق ہندوستان دیہا توں میں بستاہے اور اسی ہندوستاں کو ترقّی کے مواقع فراہم کر نے کے لئے انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں جگہ جگہ اشارے کئے ہیں ۔ گاندھی جی کا قومی ایکتا کا نظریہ ذات پات اور علاقائی حدود سے اونچا تھا ۔اس کے شواہد ان واقعات سے ملتے ہیں جو ان کے جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران پیش آ ئے ۔ گاندھی جی نے افریقہ میں کا لے اور گوروں کے درمیان فرق مٹانے کی کوشش کی۔ وہاں سیاہ فام باشندوں پر ہو نے والے مظالم کے خلاف گاندھی جی نے آ واز اٹھائی ۔ ان کے تمام نظریات خواہ وہ اہنسا ،ستیہ گرہ اور بھائی چارہ جیسے نکات کا احاطہ کر تے ہوں یا وہ آدرش اور اصول جو انسان کی روزمرّہ کی زندگی میں ایک رہنما کا کام دیتے ہوں، نہ صرف ہمارے ملک میں مقبول ہوئے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی مختلف مفکروں اور فنکاروں اور قلمکاروں نے انھیں سراہا اور حرزِجاں بنایا ۔ اسی حقیقت کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ گاندھی جی کے قومی یکجہتی کے نظریات کو منافرت پھیلانے اور پھوٹ ڈالنے والے عناصر نے کبھی پسند نہیں کیا ۔اسی پھوٹ کا نتیجہ تھا کہ قومی یکجہتی کے لئے کی گئی کو ششوں کی گاندھی جی کو بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ یہی قیمت ان کی جان ہی لے کر رہی ۔ گاندھی جی نے اپنے عہد کے معیارِ زندگی کو بلند کر نے کے لئے حیات کا سودا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے لہو بھرے قدموں سے ایک راہِ حیات کی تشکیل کر گئے یہی ڈگر آ ج بھی دیش واسیوں کے لئے راہِ حیات بھی ہے اور منارۂ نور بھی ۔


Sunday, September 07, 2008

A letter of a tree پیپل کا خط پپّو کے نام

پیپل  کا خط پپّو کے نام
A letter of a tree  
ماحولیات اور درختوں کی حفا ظت سے متعلق تخیٔل پر مبنی ایک تحریر ۔۔۔۔
پیارے پپو ! 
ابھی ابھی ٹھنڈی ہوا چلی تھی، میں نے تمہیں آواز دی تھی ۔ اپنے پتّوں کی ہزاروں ہتھیلیوں بجا بجا کر تمہیں پکارا مگر تم نے میری ایک نہ سنی۔ اسی لئے اپنے پتّوں پر لکھا ہوا یہ خط تمہیں بھیج رہا ہوں ۔ 
تم سوچ رہے ہوں گے بھلا ایک درخت کو کیا ضرورت پیش آ ئی کہ وہ پپو کو خط لکھے ؟ تم تو جانتے ہو دوست ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے ہیں ۔ سارے پیڑ پو دے انسانوں کے دوست ہی تو ہیں اور سچّاد وست وہی جو مصیبت کے وقت کا م آ ئے ۔ 
دوست کچھ دیر پہلے تم میری چھاؤں میں بیٹھے تھے ۔ ایک لکّڑھارا میرے بھائی یعنی آم کے پیڑ کو کاٹ رہا تھا ۔ تم کیسے پتّھر دل اسے ٹک لگائے دیکھتے رہے ۔ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں ۔ اس ظالم کوسمجھایا نہیں کہ پیڑ کاٹے جا ئیں گے تو انسانوں کو اس کی کتنی بھا ری قیمت چکانی پڑے گی ۔ ذرا سوچو ہم انسانوں کے لئے کس قدر کا ر آ مد ہیں ۔ 
ہم جیتے جی لکڑیاں مہیّا کرتے ہیں ۔ بے رحمی سے کاٹ دئے جاتے ہیں تب بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ ہماری لکڑیاں مکانوں کی چھت میں لگتی ہیں اور سائیبان بن کر سب کو راحت پہنچاتی ہیں ۔ذرا سوچو جس آ رام دہ کر سی پر تم بیٹھے ہو ئے یہ خط پڑھ رہے ہو وہ بھی تو لکڑی ہی کی بنی ہے ۔ یہ حکایت تو تم نے سنی ہو گی کہ صندل کے پیڑ پر کو ئی کلہاڑی چلائے تو وہ لکڑی اس کلہاڑی کو بھی خوشبو دار بنا دیتی ہے۔ خود دھوپ میں تپ کر انسانوں کو سایہ دینے والے پیڑ انسانیت کا کتنا بڑا درس دیتے ہیں ۔ ہماری شاخوں پر کھلے پھول فضا کو معطّر کر دیتے ہیں ۔ تمہارے ارد گرد بکھرے ہو ئے حسین مناظر کی یہ ساری خوبصورتی ہمارے ہی دم قدم سے ہے ۔ 
ہم سر سے پیر تک انسانیت کی خدمت میں جٹے ہو ئے ہیں ۔ ہماری جڑیں، پتّیاں، پھول، تنہ ،اور چھال سے نہ جانے کتنی دوائیں بنائی جا تی ہیں ۔ ربڑ سے بنی بے شمار چیزیں تم رات دن استعمال کرتے ہو بتاؤ یہ ربڑ آتا کہاں سے ہے ۔درختوں ہی سے نا؟ آج دنیا بھر میں فضائی آ لودگی بڑھ رہی ہے ۔ اس کی روک تھام کرنے سے انسان قاصر ہیںمگر اس زمین کی سلامتی اور اس کی فضا کے تحفّظ کے معاملے میں بھی ہم نباتات سب سے آ گے ہیں ۔ 
برسات کے پانی سے بہنے والی مٹّی کو زمین پر اگنے والی گھا س تھامے رہتی ہے ۔بارش کے پا نی کو پیڑپودے جذب نہ کریں تو سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ ہماری جڑیں مضبوط پنجوں کی طرح زمین کے کٹاؤ کا عمل روک کر مٹّی کی حفاظت کر تی ہیں۔ درختوں کی پتّیاں جھڑ جاتی ہیں تو کھاد بن کر زمین کی زرخیزی میں ضافہ کرتی ہیں ۔ ہماری لکڑیاں ایندھن کے طور پر کام آ تی ہیں ۔ اور کہیں ضروری ساز و سامان بن کر فائدہ مند ثابت ہو تی ہیں ۔ پرانے زمانے میں ہتھیار سے لے کشتیوں تک میں لکڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ لکڑی نہ صرف دفتروںاور گھروں کی استعمال کی چیزوں میں لگتی ہے بلکہ سجاوٹ کے کام بھی آ تی تھی ۔ 
لکڑی کے بنے جھولے اور کھلونے سے لے کر چتا میں جلنے والی،تابوت اور قبروں میں استعمال ہو نے والی لکڑی بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک درختوںنے ہر قدم پر انسان کا ساتھ نبھایا ہے ۔ 
دیکھو! وہ لکّڑ ھارا کلہاڑی اٹھائے ہو ئے ایک کے بعد دوسرا پیڑ کاٹتا چلا جا رہا ہے ۔ آج ان درختوں کی کل میری باری ہے ۔
اے دوست! کیا اس مصیبت کے وقت بھی تم کام نہ آ ؤگے ؟ جاؤ اس بے وقوف کو سمجھاؤ کہ ہو پیڑوں پر نہیں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا رہا ہے۔ درخت ا س زمیں کے پاؤں ہی نہیں ہاتھ بھی ہیں۔ فضاؤں میں پھیلے ہو ئے یہی دعاؤں کے ہاتھ خدا سے بارشیں مانگتے ہیں ۔ یہ دھرتی کاجسم بھی ہے اور روح بھی ۔ہماری پتّیوں سے یہ زمیں سانس لیتی ہے ۔ یہ پیڑ پو دے نہ ہوں گے تو زمین زندگی سے محروم ہو جائیگی۔ خدا کے لئے ہمیں زندگی سے محروم نہ کرو ۔ خدا حافظ ۔ 
تمہاری مدد کا منتظر 
پیپل کا پیڑ