A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Sunday, October 06, 2019
Saturday, March 23, 2019
Saturday, October 28, 2017
Sunday, July 30, 2017
Tuesday, April 05, 2016
Sunday, November 01, 2015
Monday, September 28, 2015
Sunday, September 20, 2015
Thursday, September 03, 2015
Sunday, June 07, 2015
Tuesday, May 12, 2015
Thursday, May 07, 2015
Tuesday, November 10, 2009
Friday, April 03, 2009
Being Friendly With Students - Generation Gap
.jpg)
Being Friendly With Students
Generation Gap
Muhammad Asadullah
Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier
Yesterday someone asked me, what is the generation gap?
I tried to explain him by examples from day today life. The first event narrated by a retired teacher. Near about forty years ago when he had just joined his duty in a high school. At that time movies were the most popular source of entertainment. Seeing a new movie on first day amidst crowd in a theatre had its own charm. Religious minded people sternly condemned films .Teachers too sermonized against it, still, particularly young teachers would not hold back themselves from the attraction of silver screen.
Mr.’s., the teacher was, once, in a queue for purchasing ticket of a new movie. One of his students came near him and offered for purchasing his ticket by saying, Sir,Bhid Bahut Hai Laiye Main Aap Ka Ticket Nikal Kar La Deta Hoon. He took ten Rupees Note and disappeared in crowd and returned with ticket just a few moment .Mr. S says “That was the last film I saw in a theater never visited any theatre after that.
Last month a new teacher appointed in our school .The most remarkable thing about such types of people become popular among students in no time. Their efforts to develop student, enthusiasm towards their duties and ambitious character take them closer to the pupils. Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier. Once the newly appointed teacher was also in the queue for purchasing ticket of a new movie. He also experienced same situation with his student but with a slight difference as Mr.S had gone through. His student came near him and said “Sir,Bheed Bahot hai, Please Aap Meri Bhi Ticket Le Len Kya? (Sir, it is too much crowdie, Will you please purchase a ticket for me too?
My wife told me,’ Students of our time had never talked like this, if I was your student, I would have departed just after a simple Assalamo -Alaikum.
I think much water had been flown under the bridge of time. Students of past not only full of respect but they were so afraid from their teachers that they never dared to ask questions related to the subjects. Modern students have no hesitation to raise his objections too.
It also reveals that students offer dealing for unfair means to these valuers because some of them had got positive response from other corner. Such practices are spreading in society by irresponsible, greedy and corrupt teachers.
Tuesday, August 05, 2008
Muhavron ki duniya - Inshaiya
محاوروں کی دنیا( انشاءیہ)
محاوروں کی دنیا عجیب و غریب ہے،ہمارے شاعروں کی طرح جنھیں کہنا کچھ ہو تا ہے اور کہتے کچھ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے ،اس سوال میں وہ طلبا بری طرح فیل ہو تے ہیں جو عید کے چاند کو واقعی عید کا چاند سمجھتے ہیں ۔جب انھیں اس محاورے کا صحیح مفہوم معلو م ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کبھی کبھار یا ایک مدّت بعد دکھائی دے تو بیچارے حیران ہو کر اپنا سر اتنی دیر تک کھجاتے ہیں، کہ عیدکا چاند دکھائی دے جائے ۔
اسی قسم کا ایک اور محاورہ ہے ،سر آ نکھوں پر، اس کے معنی ہیں دل و جان سے یا بڑی خوشی سے ۔اسی طرح سر آ نکھوں پر بٹھانا ،یہ محاورہ کسی کی آ ؤ بھگت کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس محاورہ میں نہ سر سے سروکار ہے نہ آ نکھوں سے ۔ اگر کو ئی شخص یہ خوش خبری سنائے کہ وہ مہمان بن کر آ پ کے گھر آ رہا ہے تو بظاہر یہ کہنے کا رواج ہے ۔ ۔۔’’ ضرور تشریف لا ئیے ،آپ کی آمد سر آ نکھوں پر ‘ ‘یہ اور بات کہ آپ کا دل اندر ہی اندر درج ذیل تراکیب کا ورد کر رہا ہو گا ۔’’برے پھنسے،ہو گیا ستّیاناس ،گئے کام سے ،آ گئی شامت،بن گیا گھر والوں کا کچومر ،اب تو ہو گئے دیوالیہ ،یہ مصیبت میرے ہی گلے پڑنی تھی، جل تو جلال تو آ ئی بلا کو ٹال تو وغیرہ وغیرہ ۔ پھر آ پ کا ذہن اس بن بلا ئے مہمان سے بچنے کی تراکیب سوچنے لگے گا ۔
کل ہی کی بات لیجئے ،ہمارے دوست نقیب مجتبیٰ نے جب یہ خبر ہمیں سنائی کہ’’ کو ئی صاحب آپ سے ملنے کے لئے آ رہے ہیں تو‘‘ ہم نے کہا ،خوش آ مدید ،ان کا آ نا سر آ نکھوں پر ۔یہ سن کر انھوں نے یہ فقرہ چست کیا ،’ ’مگر وہ بیٹھیں گے کسی ایک ہی پر ‘‘۔
اب ہم انھیں کیسے سمجھائیں کہ وہ صاحب ہمارے کرایہ دار ہیں ہمارے گھر کی بالائی منزل پر (یعنی ہمارے سر پر ) کرائے سے رہتے ہیں ۔ اور ہم ہر ماہ کرایہ کے انتظار میں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے رہتے ہیں۔سر آنکھوں پر ،کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آ نے والے صاحب یا تو سر ہو کر رہیں گے یا آ نکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے ۔
کسی کو آ نکھو ں پر بٹھانے یا اس کے راستے میں آنکھیں بچھانے کا خیال خالص شاعرانہ ہے ۔ دیگر محاوروں کی طرح اسے بھی عملی شکل دینے کی کوشش کی گئی ،تو سارا مزہ کر کرا ہو جائے گا ۔محاورے تو بس زبان کا چٹخارہ ہیں، مزہ لینے کے لئے ۔یہ صابن کے جھاگ سے بنے بلبوں کی طرح ہیں اک ذرا چھوا اور غایب ۔کسی شاعر نے آنکھ بچھانے والے محاورے کو بڑی عمدگی سے استعمال کیاہے ۔
اے بادِ صبا کچھ تو نے سنا مہمان جو آ نے والے ہیں
تو کلیاں نہ بچھانا راہوں میں ہم آنکھ بچھانے والے ہیں
کسی کو دیکھ کر مارے حیرت کے آنکھیں کتنی ہی کیوں نہ پھیل جائیں وہ اس قدر وسیع نہیں ہو سکتیں کہ ان پر کو ئی تشریف فرما ہو سکے ۔ سر آ نکھوں پر اس محاورہ کو عملی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو خالقِ حقیقی نے یہ کام پہلے ہی کر رکھا ہے ۔اس سے ظاہر ہے کہ سر کا مرتبہ آ نکھوں سے بلند ہے ۔آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں مگر عقل جس کا ٹھکانہ سر ہے، اس دھوکہ کو بھانپ لیتی ہے اور اپنے بچاؤ کا راستہ نکال لیتی ہے ۔
سر کی جگہ اگر آنکھیں ہو اکرتیں تو ہم دن میں آ سمان بادل پرندے اور دھنک دیکھا کرتے ،رات میں ستارے گنتے ۔زندگی ایک سفر ہے اور انسان ٹھہرا مسافر۔ اسی لئے خدا نے آنکھیں ہمارے سر پر اس انداز سے فٹ کی ہیں کہ ہم منزلوں پر نظر جمائیں ،راستے کی اونچ نیچ پر نظر رکھیں اور چلتے رہیں ۔آنکھیں سر کے پیچھے اس لئے نہیں لگائیں کہ جو گذر گیا اس کا ماتم فضول ہے۔ہرو قت اپنے ماضی میں کھوئے رہنا کو ئی اچّھی بات نہیں ۔ گاہے بگاہے پیچھے مڑ کر دیکھ لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔اسی لئے گردن میں مڑنے کی صلاحیت رکھ دی گئی ہے ۔سر تسلیم خم کر دینا یعنی اپنے پورے وجود کو جھکا دینا ہے ۔سر جو پورے جسم کا کنٹرول روم ہے جھک جائے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے سر کو جو بلند مرتبہ عطا کیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر اس کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ جھکے تو بس اپنے بنانے والے کے آ گے ۔ہر کس و ناکس کے آگے ماتھا ٹیکنے والے یوں بھی سب کی نظروں سے گر جاتے ہیں ،اسی لئے آن بان سے جینے والے خدا کے سوا کسی کے آ گے سر جھکانے کے بجائے اسے کٹانا پسند کرتے ہیں ۔ سر واقعی ہے ہی ایسی چیز !
Saturday, July 05, 2008
Bukhar بخار

(انشاءیہ)
محمّد اسد اللہ
ناگپور
میں اکثر محسوس کر تا ہوں کہ بخار یا بیماری ایک بڑی طاقت ہے جو ہماری مصروفیات بھری زندگی کے پہیے کو روک دیتی ہے ۔ ہمیں بخار میں مبتلا کر کے قدرت یہ سوچنے پر مجبور کر تی ہے کہ اس دنیا کا سارا کام ہمارے ہی دم قدم سے نہیں ہے جیسا کہ ہمارا گمان ہے ۔ہم زندگی کی ہماہمی میں ذرا دیررک کر یہ سوچتے ہیں کہ ہی باور کراکے ہمیں کہیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مشین کے سارے پرزے ہمارے ہی چلانے سے چل رہے ہیں ۔
بخار در اصل ایک مراقبہ ہے جس میں مریض پر انکشافات کے نت نئے در وازے کھلتے ہیں ۔ بخار میں جہاں ہمیں بر ے برے خواب دکھائی دیتے ہیں وہیں کچھ حقیقتیں بھی ہمارے آگے دست بستہ حاضر ہو تی ہیں ۔انسان کے سامنے اس کی شخصیت کے دونوں پہلو آ ئینہ ہو جاتے ہیں کہ حد درجہ کا رآ مد سمجھا جانے والا انسان وقت پڑے تو اتنا ہی ناکارہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ ہماری خوبیوں کے سارے پتّے کھل جاتے ہیں اور جن پتّوں پر تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگتے ہیں ۔
بخار کے با رے میں لو گ باگ کچھ بھی کہیں ،ڈاکٹروں کی رائے جو بھی ہو میرا یقین ہے کہ بخار انسان کی ایک اندرونی ضرورت ہے ۔ بخار ہماری ہڈّیو ں اور خون کی تہ نشیں مو جوں میں بے کسی کی زندگی گذارتا ہے ۔ اندر ہی اندر لا وے کی طرح پکتا رہتا ہے ۔ ہماری شخصیت کے وہ اجزا جنھیں اپنی کسمپر سی اور عدم توجّہی اور زمانے کی نا قدری کا احساس آتش زیر پا رکھتا ہے ،جسم کے اندریکجا ہونے لگتے ہیں ۔ہماری سوچوں کے پنڈال مین جلسے منعقد ہو تے ہیں ،تقریریں ہو تی ہیں ،زمانے کو کوسا جاتاہے اور ایسی جگہ سے بھاگ چلنے کا مشورہ ہو تا ہے جہاں چارہ گر کو ئی نہ ہو اور نو حہ خواں کو ئی نہ ہو۔
ہماری ہستی کے ایسے تمام بے کل اجزا کا یہ مجمع جسم کے شہر میں ۔’’ شہر بند ‘‘ کا نعرہ لگا کر ہڑتال پر نکل پڑتا ہے تب جسم جاں سلگنے لگتے ہیں۔چھینکوں پر چھینکیں آ نے لگتی ہیں ۔ دردِ سر ہمارے پو رے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے،تب آس پاس کے لوگ دوڑ دوڑ کر آ تے ہیں ۔ خیریت دریافت کر تے ہیں ۔ ’ بھئی کیا ہوا ،بخار کیسے آ گیا ؟ اس قد ر دوڑدھوپ اچّھی نہیں ،کچھ اپنی صحت کا خیال رکھو ،وغیرہ وغیرہ ۔
تسلّی کے یہ کلمات دواؤں کی مہک کی طرح فضا میں بکھر جا تے ہیں ۔اندھا کیا چاہے د و آ نکھیں ۔ ہمارے اندر چھپا بیٹھا بخاربھی دراصل یہی چاہتا ہے کہ کو ئی ہمارے حال پر ترس کھائے اور ہمدردی کے دو میٹھے بول بول کر ہمارا کلیجہ ٹھنڈا کردے ۔ ہم رات دن جن لو گوں کے لئے مرے جا رہے ہیں انھیں ہماری خدمات کا احسا س ہو ۔
عام حالات میں یہ فضا مفقود تھی ۔ بخار اپنے ساتھ ہمدردی کا موسم لایا ۔ لوگ اندھے آ ئینوں کی طرح تھے بخار نے ان میں ایک صحت مند آ ئینہ فٹ کر دیا جس میں ہمارا اصل چہرہ دکھائی دینے لگا ۔ اس آئینہ میں ہمدردی کا وہ عکس ابھر آ یا جس کی پیاس ہی بخار کا پیش خیمہ تھی ۔ عیادت اور مزاج پرسی کے آئینے میں نظر آ نے والے چہرے کو بخار نے در یافت کیا۔ اگر بخار اڑیل ٹٹو بن کر اس عکس کو ڈھونڈ نہ نکالتا تو وہ ہمیں کبھی نظر نہ آ تا۔ بخار نے ہی ملنے جلنے والو ں کے جذبات کو ظاہر کر دیا ۔ان عطر دانوں کو کھول دیا جن میں اپنائیت ،محبّت اور ہمدردی کا عطر بھرا ہوا تھا ۔بس پھر کیا تھا ہر طرف ایک خوشگوار محبّت بھرا ماحول پید ہو گیا ۔
واقعی بخار بڑے کا م کی چیز ہے ۔
Thursday, July 03, 2008
ڈاڑھیاں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمّد اسد اللہ
ناگپور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٍ لوگ کہتے ہیں ڈاڑھی بزرگی کیی علامت ہے اور مونچھ مردانگی کی نشانی ۔گذشتہ دنوں چند عقورتوں کے چہرے پرہلکی ہلکی مونچھیں دیکھ کرہم قدرت کی منصف مزاجی کے قا ءل ہو گۓ کہ اس نے مر دانگی پر مردوں کی اجاہ داری نہ رکھی۔ بلکہ عورتوں کو بھی اس سے معقول حصّہ عطا کیا ۔
مونچھوں کی عقلمندی دیکھٔے کہ انھوں نے مردانگی کو اپنے ساتھ وابسہ کر لیا۔ اسی لٔے بن مونچھوں والے کبھی کبھار ہی مونچھ والوں کی شان میں کچھ کہنے کی جرآت کرتے ہیں ۔اس کے برعکس ڈاڑھیاں اپنی بزرگی میں گم رہیں،یہی وجہ ہے کہ سال بھرکا بچّہ بھی گود میں پہنچتے ہی سب سے پہلا حملہ ڈاڑھی پر کرتا ہے ۔ بال ترشواتے وقت حجّام کی سرر زور قینچی بھی با ربار ڈاڑھی کا رخ کرتی ہے ۔ مائیں اپنے بچّوں کو یہ کہہ کر ڈراتی ہیں کہ سو جا نہیں تو ڈاڑھی والا بڈّھا آ جا ٔے گا ۔
پہلے پہل ہم آٔ ئینہ میں اپنا چہرہ دیکھتے سبزہ دیکھ کخیال آتا تھا کہ شاید ہماری ذات میں کوئ بزرگ چھپے بیٹھے ہیں اوربا ہرآ ناچاہتے ہیں ،ہم ہر بار استرا اٹھا کران کی راہ کھوٹی کردیا کرتے تھے ، مگر وہ تو جان کو ہورہے تھے ۔
در اصل آ دمی اپنے اندر کے اس بزرگ او ذمّد دار آ دمی کو اپنانے سے کترا تا ہے ۔ لوگ اسی لٔے بلا ناغہ شیو بنانے کو اپنا شیوہ بنا ٔے ہؤے ہیں۔
لو گوں کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ چہرے پرکھونٹیاں زیادہ بڑھ گٔیں تو کچھھ خاص قسم کے یو نی فارم لاکر ان پر ٹانگ دۓ جا ٔیں گے کہ لو انھیں پہنو ۔ اس خام خیالی کے با وجود ڈاڑھیاںمعرضِ وجود میں آ تی ہیں ۔ بچّوں کو اور ڈاڑھیوں کو پیدا ہو نے سے بھلا کون روک سکتا ہے ۔
ڈاڑھیوں کے پیدا ہو نے کی کئ وجوہات ہیں ۔ کبھی مذہب بزرگانہ شان کے ساتھ ڈاڑھی کے روپ میں جلوہ افروز ہو تا ہے کبھی کو ئ فیشن ڈاڑھی کی شکل میں اپنی بہار دکھا تا ہے ۔بعض اوقات خود نما ٔی کے ہاتھ ڈاڑھی بڑھاتے ہیں اور ڈاڑھی سمیت چند تصویریں کھنچوانے کے بعد پہلے جیسا نظرآ نے کی خواہش ڈاڑھی پر استرا پھیر دیتی ہے۔



























