Showing posts with label Inshaiya. Show all posts
Showing posts with label Inshaiya. Show all posts

Saturday, October 28, 2017

Monday, September 28, 2015

Tanzia va Mizahiya Mazmoon Aur Inshaiya 
By Muhammad Asadullah  

Contact:zarnigar2006@yahoo.com  


طنزیہ و مزاحیہ مضمون
 اور انشائیہ

محمد اسد اللہ

اردو میں طنز یہ و ظریفانہ مضامین کو انشائیہ قرار دینے کا رواج عام ہے۔اس میں اخباروں کے کالم ،ہلکے پھلکے شگفتہ مضامین ،خاکے وغیرہ سبھی پر انشائیہ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔ ان تحریروں کے مطالعے سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ اگر کوئی ادیب اپنے مضمون میں بھر پور طنز و مزاح کو بروئے کا رنہ لا سکے یعنی وار اوچھا پڑ جائے تو اسے بھی انشائیہ سمجھ لیا جاتا ہے گویا ایک ناکام قسم کا مضمون انشائیہ ہوگیا! بقول ڈاکٹر سید محمد حسنین ’انشائیہ نگاری کو مزاح نگاری قرار دینا بڑی مضحکہ خیز سی بات ہے ۔‘
طنز و مزاح،ہجو ،المیہ ،رومان یہ تحریر کی خوبیاں ہیں ،تحریر کی صورتیںنہیںان صفات کو صنف کیسے قرار دیا جاسکتاہے؟ اور حقیقت یہ ہے کہ انشائیہ ایک صنف ِ ادب ہے نہ کہ کسی صنف کا اندازِ تحریر ۔ اس سلسلےمیں 
انشائیہ کی امتیازی حیثیت کو انیس ناگی اس طرح بیان کر تے ہیں۔
’مقالہ یا مضمون ’سیال قسم ‘کی ادبی ہیئت ہے جو تصور یا جذبہ کے ساتھ مختلف
 رنگ اختیار کرتی ہے اس لیے اس کی کو ئی معین ہیئت نہیںہے یہ موم کی ناک ہے ۔اگر ہنسی مذاق پھبتی اور جگت سے انشائیہ جنم لیتا ہے تو پھر’ نقا ل‘ بہت بڑے انشا پر داز ہیںاور تہواروں پر جواب الجواب اور تمسخر انشائیوں کے مجموعے ہیں۔
1
اردو میں طنز و ظرافت کی تخلیق دیگر اصناف کی بہ نسبت بیشتر مضمون
ہی کے فارم میں ہو ئی ہے۔ انشائیہ کے فنی آداب و رموز سے بے خبری کے سبب ان تمام تحریروںکو انشائیہ کے زمرے میں شامل کر نے کا رجحان عام رہا ہے ۔طنز و مزاح کی شوخی اور انشائیہ کی شگفتگی کی علاحدہ پہچان نہ ہو سکی ۔ اسی لئے جو طنز و مزاح نگار ہے وہ انشائیہ نگار بھی گر دانا گیا جب کہ یہ دونوں اصناف الگ خواص اور طریقہ کار کو اپناتے ہیں ۔
انشائیہ طنز و ظریفانہ مضامین سے مختلف قسم کے اظہار کا پیمانہ ہے ۔اس میں طنز و مزاح متوازن مقدار میں ایک معاون قوت کے طور پر بروئے کار لایا جاتا ہے لیکن یہ عناصر اپنی طبعی صلاحیتوں کے ساتھ کسی مضمون میں اپنے فرائضِ منصبی سے عہد ہ بر آ ہو نے لگیں ، اس تحریر کا غالب رجحان بن جائیں اور زندگی یا کائنات کے مظاہر سے متعلق کسی انوکھے نقطہ نظر کو پیش کر نے کا وہ مقصد جو انشائیہ کے پیشِ نظر ہو تا ہے فوت ہو جائے تو اس صورت میں وہ تحریر طنز و ظرافت کا اعلیٰ معیار قائم کر نے کے با وجود انشائیہ نہیں کہلا سکتی 
۔ اسے طنزیہ مزاحیہ مضمون ہی کے زمرے میں شامل کر نا ہوگا۔
 اس ضمن میں ڈاکٹر وزیر آ غا لکھتے ہیِں۔
’ طنزیہ مزاحیہ مضامین انشائیہ نگاری کے مختلف اسالیب نہیں بلکہ قطعاً الگ قسم کی تحریریں ہیں اور یہ فرق محض لہجہ اور انداز کا فرق نہیں مزاج کا فرق بھی ہے۔ مثلاً غور کیجئے کہ ایک مزاحیہ مضمون کا طرّہ امتیاز یہ ہے کہ اس میں فاضل جذبہ خارج ہو جاتا ہے جب کہ انشائیہ میں جذبہ صرف ہو تا ہے۔
2



انشائیہ اور طنزیہ و مزاحیہ مضمون میں جذبہ کے صرف ہو نے کی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے ان دونوںسےپیدا ہو نے والا تاثر بھی جدا گانہ ہو تا ہے۔ انشائیہ چونکہ فطری اظہار اور انشائیہ نگار کے خیالات و تاثرات کاآ ئینہ ہو تا ہے نیز ایک متوازن اور مہذب شخصیت کا اظہارِ خیال ہے اس لئے اس میں ایک ٹھہرائو اور لطیف انداز پا یا جا تا ہے۔
طنز و مزاح ایک شعوری کاوش کے طور پر تحریر کی مجموعی فضاپیدا کر تا ہے جو اس کے مخصوص ارادوں اور مقاصد کی نمائندگی  سے عبارت ہے ۔ اس میں طنز اور مزاح الگ الگ رول ادا کر تے ہیں ۔ اسٹیفن لی کاک کے بقول :
’مزاح زندگی کی ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا اظہار فنکارانہ طور پر کیا گیا ہو۔‘
کلیم الدین احمد طنز و ظرافت کے فرق کو یو ں سمجھاتےہیں: 
خالص ظرافت نگارکسی بے ڈھنگی شے کو دیکھ کر ہنستا ہے اور پھر دوسروں کو ہنساتا ہے  وہ اس نقص ،خامی ،بد صورتی کو دور کر نے کا خواہش مند نہیں ۔ہجو گو اس سے ایک قدم آ گے بڑھتا ہے اس ناقص و ناتمام منظر سے اس کا جذبہ تکمیل حسن ، موزونیت ،انصاف جوش میں آ تا ہے اور اس جذبہ سے مجبور ہو کر اس مخصوص مذموم منظر کواپنی ظرافت اور طنز کا نشانہ بناتا ہے ۔نظری اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ خالص ظرافت اور ہجو کی راہیں الگ الگ ہیں اور منزلیں جدا جدا ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان دونوں کو جدا کر نا عموماً دشوار ہے۔‘3
طنز اور ظرافت یاہجو کو الگ کرنا دشوار سہی لیکن نا ممکن نہیں ۔ اسے کسی بھی فن پارے میں یا عملی زندگی میں علاحدہ کر نے میں جو دشواری پیش آ تی ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ طنز یا ہجو کے ذریعے کسی برائی یا نا پسندیدہ عمل کا احساس دلایا جاتا ہے اور اس مقصد کے لئے طنز کر نے والا مبالغہ آ رائی کا سہارا لیتا ہے اسی لئے چسٹر ٹن کے مطابق :
’ ایک سوّر کو اس سے بھی زیادہ مکروہ شکل میں پیش کر نا جیسا کہ خودخدا  ہے  Satire  ‘۔نے بنایاہے طنز یا تضحیک سٹائر 
اس سے واضح ہوتا ہے کہ طنز کا اصل مقصد نا پسندیدہ افعال یامظاہر کی روک تھام ہے ۔ اور مزاح جو اسٹے فن لی کاک کے مطابق زندگی کی نا ہمواریوں کے شعور کے نتیجے میں پیدا ہو تا ہے اس کا مقصد بھی نا ہمواریوں پر قہقہوں کے ذریعے ایک نرم قسم کی تنقید ہی ہے ۔اس ضمن میں ڈاکٹر وزیر آغاکا خیال ہے : 
’ہنسی ایک ایسی لاٹھی ہے جس کی مدد سے سوسائٹی کا گلہ بان محض شعوری طور پر ان تمام افراد کو ہانک کر اپنے گلّے میں دوبارہ شامل کر نے کی سعی کرتا دکھائی دیتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے سو سائٹی کے گلّے سے علاحدہ ہو کر بھٹک رہے تھے۔ یعنی ہنسی ایک ایسا آ لہ ہے جس کے ذریعے سوسائٹی ہر اس فرد سے انتقام لیتی ہے جو اس کے ضابطہ حیات سے  بچ نکلنے کی سعی کر تا ہے‘ ۔4
مقصد کے اعتبار سے طنز اور مزاح میں ناہمواریوں اور عدم توازن پر اظہارِ ناپسندیدگی ایک قدر ِ مشترک ہے اس اعتبار سے یہ بات انشائیہ کے سلسلے میں ایک نیا زاویہ نظر مہیا کر تی ہے کہ انشائیہ ایک غیر مقصدی صنفِ ادب ہے ۔ طنز و مزاح کے ذریعے جن جذبات کا اظہار کیا جا تا ہے انشائیہ میں یہ عناصر ان مقاصد کے ساتھ رچ بس نہیں سکتے۔ دوم یہ کہ برہمی یا بہجت کے جذبات طنزیہ مزاحیہ تحریر میں طنز و ظرافت کی شکل میں ایک ردِ عمل کی صورت میں ظاہر ہو تے ہیں ۔ جب کہ انشائیہ میں ان جذبات کی فقط عکاسی ہو تی ہے شاید ڈاکٹر وزیر آ غا کے قول کے مطابق فاضل جذبے کے خارج ہو نے اور صَرف ہونے کے مابین بھی یہی فرق ہے ۔ اسی مختلف ردّ ِ عمل اور طریقہ کار کو سمجھانے کی غرض سے ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں ۔
’طنز میں ادیب ایک مصلح کا روپ اختیار کر لیتا ہے اور بقول ڈاکٹر وزیر آ غا وہ فراز پر کھڑا ہو کر نشیب کی ہر چیز پر ایک استہزائی نظر ڈالتاہے مزاح میں ادیب استہزا اور ہئیت کذائی کا خود نشانہ بنتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں وہ نشیب میں گر کر ناظر کے جذبہ ترحم کو بیدا رکرنے کی کوشش کر تا ہے ۔وہ بھی اس طرح کہ پہلے ناظر کے لبوں پر قہقہہ بیدار ہو تا ہے پھر دل کی کسی اندرونی گہرائی میں رحم کا جذبہ ،انشائیہ میں ادیب ایک ہموار سطح پر ناظر کے دوش بہ دوش کھڑا ہوکر منظر سےتحصیل ِ مسرت کر تا ہے اور اپنا ردِ عمل بھی رواں دواں اندا ز میں بیان کر تا جاتا ہے ۔

5
ان تما م شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انشائیہ طنزیہ مزاحیہ مضامین سے قدرے مختلف چیز ہے ۔یہ عناصر انشائیہ میں جگہ تو پا سکتے ہیں لیکن ان کی حیثیت معاون قوت ہی کی طرح ہے نیزانشائیہ میں ان کا مقام بھی وہی ہے جو ان دیگر اجزا کا ہے جن کی شمولیت انشائیہ میں ممکن ہے مثلاً رامائیت ، افسانوی انداز ،شاعرانہ احساس 
فلسفیانہ تفکر وغیرہ ،لیکن ان تمام یاکسی ایک عنصر کی موجودگی میں بھی انشائیہ انشائیہ ہی رہے گا نہ کہ ڈرامہ، افسانہ یا شاعری کہلائے گا۔ اسی طرح ان ہی اصناف میںاگر انشائیہ کی کو ئی خصوصیت در آ ئے تو محض اسی بنیاد پر اسے انشائیہ کے زمرے میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
ہمارے ہاں پائے جانےوالے اس تصور کے باوجود کہ مزاح یا طنز اور انشائیہ ایک ہی چیز ہے ، انشائیہ کی فنی اور فکری تنظیم و تشکیل ،شگفتگی اورشوخی کی متحمل تو ہو سکتی ہے مگر اس کا وجود لازمی نہیں ہے ۔ 
انشائیہ طنزیہ و مزاحیہ مضامین سےقطعی مختلف قسم کے مزاج ،طریقہ کار 
اور تاثر کو جنم دیتاہے۔اسی لیے ان دونوں کے درمیان واضح حدِّ فاصل موجود ہے۔ 
حواشی

1۔ انیس ناگی، بحوالہ :انشائیہ کی بنیاد ، ڈاکٹر سلیم اختر ،1986ص365
2۔ڈاکٹر وزیر آغا ،انشائیہ کا سلسلہ نسب ،مشمولہ: تنقید اور مجلسی تنقید ،نئ دہلی، 
1982     ،ص53
3۔کلیم الدین احمد ،اردو میں طنز و ظرافت،مشمولہ: طنز و مزاح ۔تاریخ و تنقید،
مر تّبہ :  طاہر تونسوی ،دہلی 1986ص27
4۔ڈاکٹر وزیر آ غا،اردو ادب میں طنز و مزاح ،نئ دہلی ،1978ص24
5۔ڈاکٹر انور سدید ،اردو انشائیہ،مشمولہ: ذکر اس پری وش کا،سرگودھا،1982 
 ص30




Sunday, September 20, 2015

Inshaiya - Gaon Ke Raste

Published in Inquilab Mumbai on 20th September 2015


Sunday, June 07, 2015

Tuesday, May 12, 2015

Aazadi e Izhar ka Mazhar Inshaiya by Muhammad Asadullah

آزادی اظہار کا مظہر انشائیہ ۔۔۔۔ مطبوعہ انقلاب ممبئی، مئی 2015





Thursday, May 07, 2015

Urdu Translation of a Marathi Personal Essay

Urdu Translation of a Marathi Personal Essay ( Inshaiya) by Mohammad Asadullah




Friday, April 03, 2009

Being Friendly With Students - Generation Gap


 Being Friendly With Students 

Generation Gap

Muhammad Asadullah

Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier


Yesterday someone asked me, what is the generation gap?

I tried to explain him by examples from day today life. The first event narrated by a retired teacher. Near about forty years ago when he had just joined his duty in a high school. At that time movies were the most popular source of entertainment. Seeing a new movie on first day amidst crowd in a theatre had its own charm. Religious minded people sternly condemned films .Teachers too sermonized against it, still, particularly young teachers would not hold back themselves from the attraction of silver screen.


Now a day’s television had wiped out all those notions, as theatre has itself entered in every home through the T.V. frame. Now these things seem to be unbelievable.

Mr.’s., the teacher was, once, in a queue for purchasing ticket of a new movie. One of his students came near him and offered for purchasing his ticket by saying, Sir,Bhid Bahut Hai Laiye Main Aap Ka Ticket Nikal Kar La Deta Hoon. He took ten Rupees Note and disappeared in crowd and returned with ticket just a few moment .Mr. S says “That was the last film I saw in a theater never visited any theatre after that.


Last month a new teacher appointed in our school .The most remarkable thing about such types of people become popular among students in no time. Their efforts to develop student, enthusiasm towards their duties and ambitious character take them closer to the pupils. Sometimes these teachers loose the sense of dignity and become friendly with their students with no barrier. Once the newly appointed teacher was also in the queue for purchasing ticket of a new movie. He also experienced same situation with his student but with a slight difference as Mr.S had gone through. His student came near him and said “Sir,Bheed Bahot hai, Please Aap Meri Bhi Ticket Le Len Kya? (Sir, it is too much crowdie, Will you please purchase a ticket for me too?


Once I was busy in shopping along my wife in a market, one of my students saw us and come near us and introduced her mother. The girl had left school four years ago. She informed me that she had been married and before leaving inquired about my health. My wife surprised, how free your students are with you! I said,”There is nothing wrong if they talk with their teacher in a market place.What would you have done if you have been in her place?”
My wife told me,’ Students of our time had never talked like this, if I was your student, I would have departed just after a simple Assalamo -Alaikum.

I think much water had been flown under the bridge of time. Students of past not only full of respect but they were so afraid from their teachers that they never dared to ask questions related to the subjects. Modern students have no hesitation to raise his objections too.


Last year a teacher shared his experiences of board work with me. He said that many times students write their mobile numbers in answer papers and more over, the convenient time too when they me be contacted. According to the board’s instructions such cases should be informed to the board authority for disciplinary action, but teachers rarely adopt this thorny way, some time to avoid unnecessary trouble and mostly to rescue students from spoiling their future. The most astonishing aspect of this phenomenon is that these students feel nothing wrong in inviting the teachers for corrupt practices.

It also reveals that students offer dealing for unfair means to these valuers because some of them had got positive response from other corner. Such practices are spreading in society by irresponsible, greedy and corrupt teachers.


New generation is no doubt advance as per requirement of their age, the time has also been changed and the mentors of this period have also been metamorphosed.


Tuesday, August 05, 2008

Muhavron ki duniya - Inshaiya

محاوروں کی دنیا( انشاءیہ)

محاوروں کی دنیا عجیب و غریب ہے،ہمارے شاعروں کی طرح جنھیں کہنا کچھ ہو تا ہے اور کہتے کچھ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے ،اس سوال میں وہ طلبا بری طرح فیل ہو تے ہیں جو عید کے چاند کو واقعی عید کا چاند سمجھتے ہیں ۔جب انھیں اس محاورے کا صحیح مفہوم معلو م ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کبھی کبھار یا ایک مدّت بعد دکھائی دے تو بیچارے حیران ہو کر اپنا سر اتنی دیر تک کھجاتے ہیں، کہ عیدکا چاند دکھائی دے جائے ۔

اسی قسم کا ایک اور محاورہ ہے ،سر آ نکھوں پر، اس کے معنی ہیں دل و جان سے یا بڑی خوشی سے ۔اسی طرح سر آ نکھوں پر بٹھانا ،یہ محاورہ کسی کی آ ؤ بھگت کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس محاورہ میں نہ سر سے سروکار ہے نہ آ نکھوں سے ۔ اگر کو ئی شخص یہ خوش خبری سنائے کہ وہ مہمان بن کر آ پ کے گھر آ رہا ہے تو بظاہر یہ کہنے کا رواج ہے ۔ ۔۔’’ ضرور تشریف لا ئیے ،آپ کی آمد سر آ نکھوں پر ‘ ‘یہ اور بات کہ آپ کا دل اندر ہی اندر درج ذیل تراکیب کا ورد کر رہا ہو گا ۔’’برے پھنسے،ہو گیا ستّیاناس ،گئے کام سے ،آ گئی شامت،بن گیا گھر والوں کا کچومر ،اب تو ہو گئے دیوالیہ ،یہ مصیبت میرے ہی گلے پڑنی تھی، جل تو جلال تو آ ئی بلا کو ٹال تو وغیرہ وغیرہ ۔ پھر آ پ کا ذہن اس بن بلا ئے مہمان سے بچنے کی تراکیب سوچنے لگے گا ۔

کل ہی کی بات لیجئے ،ہمارے دوست نقیب مجتبیٰ نے جب یہ خبر ہمیں سنائی کہ’’ کو ئی صاحب آپ سے ملنے کے لئے آ رہے ہیں تو‘‘ ہم نے کہا ،خوش آ مدید ،ان کا آ نا سر آ نکھوں پر ۔یہ سن کر انھوں نے یہ فقرہ چست کیا ،’ ’مگر وہ بیٹھیں گے کسی ایک ہی پر ‘‘۔

اب ہم انھیں کیسے سمجھائیں کہ وہ صاحب ہمارے کرایہ دار ہیں ہمارے گھر کی بالائی منزل پر (یعنی ہمارے سر پر ) کرائے سے رہتے ہیں ۔ اور ہم ہر ماہ کرایہ کے انتظار میں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے رہتے ہیں۔سر آنکھوں پر ،کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آ نے والے صاحب یا تو سر ہو کر رہیں گے یا آ نکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے ۔

کسی کو آ نکھو ں پر بٹھانے یا اس کے راستے میں آنکھیں بچھانے کا خیال خالص شاعرانہ ہے ۔ دیگر محاوروں کی طرح اسے بھی عملی شکل دینے کی کوشش کی گئی ،تو سارا مزہ کر کرا ہو جائے گا ۔محاورے تو بس زبان کا چٹخارہ ہیں، مزہ لینے کے لئے ۔یہ صابن کے جھاگ سے بنے بلبوں کی طرح ہیں اک ذرا چھوا اور غایب ۔کسی شاعر نے آنکھ بچھانے والے محاورے کو بڑی عمدگی سے استعمال کیاہے ۔

اے بادِ صبا کچھ تو نے سنا مہمان جو آ نے والے ہیں

تو کلیاں نہ بچھانا راہوں میں ہم آنکھ بچھانے والے ہیں

کسی کو دیکھ کر مارے حیرت کے آنکھیں کتنی ہی کیوں نہ پھیل جائیں وہ اس قدر وسیع نہیں ہو سکتیں کہ ان پر کو ئی تشریف فرما ہو سکے ۔ سر آ نکھوں پر اس محاورہ کو عملی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو خالقِ حقیقی نے یہ کام پہلے ہی کر رکھا ہے ۔اس سے ظاہر ہے کہ سر کا مرتبہ آ نکھوں سے بلند ہے ۔آنکھیں دھوکہ کھا سکتی ہیں مگر عقل جس کا ٹھکانہ سر ہے، اس دھوکہ کو بھانپ لیتی ہے اور اپنے بچاؤ کا راستہ نکال لیتی ہے ۔

سر کی جگہ اگر آنکھیں ہو اکرتیں تو ہم دن میں آ سمان بادل پرندے اور دھنک دیکھا کرتے ،رات میں ستارے گنتے ۔زندگی ایک سفر ہے اور انسان ٹھہرا مسافر۔ اسی لئے خدا نے آنکھیں ہمارے سر پر اس انداز سے فٹ کی ہیں کہ ہم منزلوں پر نظر جمائیں ،راستے کی اونچ نیچ پر نظر رکھیں اور چلتے رہیں ۔آنکھیں سر کے پیچھے اس لئے نہیں لگائیں کہ جو گذر گیا اس کا ماتم فضول ہے۔ہرو قت اپنے ماضی میں کھوئے رہنا کو ئی اچّھی بات نہیں ۔ گاہے بگاہے پیچھے مڑ کر دیکھ لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔اسی لئے گردن میں مڑنے کی صلاحیت رکھ دی گئی ہے ۔سر تسلیم خم کر دینا یعنی اپنے پورے وجود کو جھکا دینا ہے ۔سر جو پورے جسم کا کنٹرول روم ہے جھک جائے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہمارے سر کو جو بلند مرتبہ عطا کیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر اس کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ جھکے تو بس اپنے بنانے والے کے آ گے ۔ہر کس و ناکس کے آگے ماتھا ٹیکنے والے یوں بھی سب کی نظروں سے گر جاتے ہیں ،اسی لئے آن بان سے جینے والے خدا کے سوا کسی کے آ گے سر جھکانے کے بجائے اسے کٹانا پسند کرتے ہیں ۔ سر واقعی ہے ہی ایسی چیز !

Saturday, July 05, 2008

Bukhar بخار


بخار
(انشاءیہ)
محمّد اسد اللہ
ناگپور


نہ جانے کیوں مجھے اکثر یہ محسوس ہو تا ہے گویا بخار بھی کسی مہمان کی طرح ہے ۔ یہ عام طور پر شرعی مہمان کی طرح آ تا ہے اور دو تین دن سے زیادہ نہیںٹھہرتا ۔اس کے آتے ہی ہم ڈاکٹر انجکشن اور دوائی کی فکر میں لگ جاتے ہیں دیکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ بخار کو بھگانے کی تیّاریوں ہو رہی ہیں ،حالانکہ یہ سب اس معزز مہمان کی خاطر مدارت کے لیے ہو تا ہے ۔ کئی عدد گو لیاں ،انجکشن ،پھل اور دواؤں کے علاوہ کافی کی کئی پیالیاں حلق سے نیچے اتارنے کے بعد بخار جب رخصت ہو نے لگتاہے تو مریض چپکے سے اس کے کان میں کہتا ہے ،۔۔۔۔۔ بھائی ! کبھی کبار ادھر آ تے رہا کرو ، اسے اپنا ہی گھر سمجھو ۔تمہارے آ نے سے مجھے آ رام مل جاتا ہے ، ورنہ گھر میں میرے آ رام کی کسے فکر ہے ۔ تم ہی ان سب کو سمجھا سکتے ہو ، تمہا را کہا کو ئی نہیں ٹالتا ۔ تمہارا حوالہ نہ مو جود ہو تو چھٹّی کی دراخواست تک منظور نہیں ہو تی ۔
میں اکثر محسوس کر تا ہوں کہ بخار یا بیماری ایک بڑی طاقت ہے جو ہماری مصروفیات بھری زندگی کے پہیے کو روک دیتی ہے ۔ ہمیں بخار میں مبتلا کر کے قدرت یہ سوچنے پر مجبور کر تی ہے کہ اس دنیا کا سارا کام ہمارے ہی دم قدم سے نہیں ہے جیسا کہ ہمارا گمان ہے ۔ہم زندگی کی ہماہمی میں ذرا دیررک کر یہ سوچتے ہیں کہ ہی باور کراکے ہمیں کہیں بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مشین کے سارے پرزے ہمارے ہی چلانے سے چل رہے ہیں ۔
بخار در اصل ایک مراقبہ ہے جس میں مریض پر انکشافات کے نت نئے در وازے کھلتے ہیں ۔ بخار میں جہاں ہمیں بر ے برے خواب دکھائی دیتے ہیں وہیں کچھ حقیقتیں بھی ہمارے آگے دست بستہ حاضر ہو تی ہیں ۔انسان کے سامنے اس کی شخصیت کے دونوں پہلو آ ئینہ ہو جاتے ہیں کہ حد درجہ کا رآ مد سمجھا جانے والا انسان وقت پڑے تو اتنا ہی ناکارہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ ہماری خوبیوں کے سارے پتّے کھل جاتے ہیں اور جن پتّوں پر تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگتے ہیں ۔
بخار کے با رے میں لو گ باگ کچھ بھی کہیں ،ڈاکٹروں کی رائے جو بھی ہو میرا یقین ہے کہ بخار انسان کی ایک اندرونی ضرورت ہے ۔ بخار ہماری ہڈّیو ں اور خون کی تہ نشیں مو جوں میں بے کسی کی زندگی گذارتا ہے ۔ اندر ہی اندر لا وے کی طرح پکتا رہتا ہے ۔ ہماری شخصیت کے وہ اجزا جنھیں اپنی کسمپر سی اور عدم توجّہی اور زمانے کی نا قدری کا احساس آتش زیر پا رکھتا ہے ،جسم کے اندریکجا ہونے لگتے ہیں ۔ہماری سوچوں کے پنڈال مین جلسے منعقد ہو تے ہیں ،تقریریں ہو تی ہیں ،زمانے کو کوسا جاتاہے اور ایسی جگہ سے بھاگ چلنے کا مشورہ ہو تا ہے جہاں چارہ گر کو ئی نہ ہو اور نو حہ خواں کو ئی نہ ہو۔
ہماری ہستی کے ایسے تمام بے کل اجزا کا یہ مجمع جسم کے شہر میں ۔’’ شہر بند ‘‘ کا نعرہ لگا کر ہڑتال پر نکل پڑتا ہے تب جسم جاں سلگنے لگتے ہیں۔چھینکوں پر چھینکیں آ نے لگتی ہیں ۔ دردِ سر ہمارے پو رے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے،تب آس پاس کے لوگ دوڑ دوڑ کر آ تے ہیں ۔ خیریت دریافت کر تے ہیں ۔ ’ بھئی کیا ہوا ،بخار کیسے آ گیا ؟ اس قد ر دوڑدھوپ اچّھی نہیں ،کچھ اپنی صحت کا خیال رکھو ،وغیرہ وغیرہ ۔
تسلّی کے یہ کلمات دواؤں کی مہک کی طرح فضا میں بکھر جا تے ہیں ۔اندھا کیا چاہے د و آ نکھیں ۔ ہمارے اندر چھپا بیٹھا بخاربھی دراصل یہی چاہتا ہے کہ کو ئی ہمارے حال پر ترس کھائے اور ہمدردی کے دو میٹھے بول بول کر ہمارا کلیجہ ٹھنڈا کردے ۔ ہم رات دن جن لو گوں کے لئے مرے جا رہے ہیں انھیں ہماری خدمات کا احسا س ہو ۔
عام حالات میں یہ فضا مفقود تھی ۔ بخار اپنے ساتھ ہمدردی کا موسم لایا ۔ لوگ اندھے آ ئینوں کی طرح تھے بخار نے ان میں ایک صحت مند آ ئینہ فٹ کر دیا جس میں ہمارا اصل چہرہ دکھائی دینے لگا ۔ اس آئینہ میں ہمدردی کا وہ عکس ابھر آ یا جس کی پیاس ہی بخار کا پیش خیمہ تھی ۔ عیادت اور مزاج پرسی کے آئینے میں نظر آ نے والے چہرے کو بخار نے در یافت کیا۔ اگر بخار اڑیل ٹٹو بن کر اس عکس کو ڈھونڈ نہ نکالتا تو وہ ہمیں کبھی نظر نہ آ تا۔ بخار نے ہی ملنے جلنے والو ں کے جذبات کو ظاہر کر دیا ۔ان عطر دانوں کو کھول دیا جن میں اپنائیت ،محبّت اور ہمدردی کا عطر بھرا ہوا تھا ۔بس پھر کیا تھا ہر طرف ایک خوشگوار محبّت بھرا ماحول پید ہو گیا ۔
واقعی بخار بڑے کا م کی چیز ہے ۔

Thursday, July 03, 2008

ڈاڑھیاں


ڈاڑھیاں ۔۔انشائیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمّد اسد اللہ
ناگپور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھوڑیوں سے اگ کر مسلسل پھیلتی ہؤی بالوں کی وہ آ بادی جو کا نوں کی لوءوں تک چلی جا تی ہے ڈاڑھی کہلا تی ہے ۔ بعض ٹھوڑیوں پر بالوں کا ایک جزیرہ بھی پا یا جا تاہے جو فرینچ کٹ ڈاڑھی کہلا تا ہے۔ دنیا کی بڑھتی ہؤی آبادی کو دیکھ کر لو گ اب نہ صرف بال بچّوں سے بلکہ چہرہ پر اگنے والے با لوں سے بھی ڈر نے لگے ہیں ۔ اسی لئےیہ خطّہ کبھی سیفٹی ریزر کی زد میں رہتاہے، کبھی سیدھے اور کبھی الٹے استرے سے مونڈھا جاتا ہے ۔ اوزیادہ ترزبانوں کی چلتی ہو ءی قینچیوں کے درمیان پھنسا رہتا ہے ۔

ٍ لوگ کہتے ہیں ڈاڑھی بزرگی کیی علامت ہے اور مونچھ مردانگی کی نشانی ۔گذشتہ دنوں چند عقورتوں کے چہرے پرہلکی ہلکی مونچھیں دیکھ کرہم قدرت کی منصف مزاجی کے قا ءل ہو گۓ کہ اس نے مر دانگی پر مردوں کی اجاہ داری نہ رکھی۔ بلکہ عورتوں کو بھی اس سے معقول حصّہ عطا کیا ۔
مونچھوں کی عقلمندی دیکھٔے کہ انھوں نے مردانگی کو اپنے ساتھ وابسہ کر لیا۔ اسی لٔے بن مونچھوں والے کبھی کبھار ہی مونچھ والوں کی شان میں کچھ کہنے کی جرآت کرتے ہیں ۔اس کے برعکس ڈاڑھیاں اپنی بزرگی میں گم رہیں،یہی وجہ ہے کہ سال بھرکا بچّہ بھی گود میں پہنچتے ہی سب سے پہلا حملہ ڈاڑھی پر کرتا ہے ۔ بال ترشواتے وقت حجّام کی سرر زور قینچی بھی با ربار ڈاڑھی کا رخ کرتی ہے ۔ مائیں اپنے بچّوں کو یہ کہہ کر ڈراتی ہیں کہ سو جا نہیں تو ڈاڑھی والا بڈّھا آ جا ٔے گا ۔

پہلے پہل ہم آٔ ئینہ میں اپنا چہرہ دیکھتے سبزہ دیکھ کخیال آتا تھا کہ شاید ہماری ذات میں کوئ بزرگ چھپے بیٹھے ہیں اوربا ہرآ ناچاہتے ہیں ،ہم ہر بار استرا اٹھا کران کی راہ کھوٹی کردیا کرتے تھے ، مگر وہ تو جان کو ہورہے تھے ۔
در اصل آ دمی اپنے اندر کے اس بزرگ او ذمّد دار آ دمی کو اپنانے سے کترا تا ہے ۔ لوگ اسی لٔے بلا ناغہ شیو بنانے کو اپنا شیوہ بنا ٔے ہؤے ہیں۔
لو گوں کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ چہرے پرکھونٹیاں زیادہ بڑھ گٔیں تو کچھھ خاص قسم کے یو نی فارم لاکر ان پر ٹانگ دۓ جا ٔیں گے کہ لو انھیں پہنو ۔ اس خام خیالی کے با وجود ڈاڑھیاںمعرضِ وجود میں آ تی ہیں ۔ بچّوں کو اور ڈاڑھیوں کو پیدا ہو نے سے بھلا کون روک سکتا ہے ۔

ڈاڑھیوں کے پیدا ہو نے کی کئ وجوہات ہیں ۔ کبھی مذہب بزرگانہ شان کے ساتھ ڈاڑھی کے روپ میں جلوہ افروز ہو تا ہے کبھی کو ئ فیشن ڈاڑھی کی شکل میں اپنی بہار دکھا تا ہے ۔بعض اوقات خود نما ٔی کے ہاتھ ڈاڑھی بڑھاتے ہیں اور ڈاڑھی سمیت چند تصویریں کھنچوانے کے بعد پہلے جیسا نظرآ نے کی خواہش ڈاڑھی پر استرا پھیر دیتی ہے۔