Saturday, May 30, 2026

Mujhe Kitabon Se Bachao ,,Inshaiya


 مجھے کتابوں سے بچاؤ )انشائیہ )
محمدا سدا للہ
Zarnigar2006@gmail.com


دنیا میں بے شمارآ فتیں ، بلائیں اور مصیبتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے کچھ زمینی ہیں کچھ آ سمانی ۔ان سے بچاؤ کی خاطر ہم رات دن دعائیں مانگتے ہیں ۔بلاؤں کی اس قطار میں طوفان ،زلزلے ،اور فسادات ہیں،اس میں نصف بہتر بھی کھڑی ہیں ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آ خر الذکر، اول الذکر تمام مصیبتوںکا مجموعہ ہے ۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بیگم کو ارضی و سماوی دونوں قسم کی بلاؤں میں شمارکیا جاتا ہے کیونکہ مشہور ہے :
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آ سمان کیوں ہو
مصائب کی اس فہرست میں یقینا کہیں بھی کتابوں کا ذکرنہیں ہے ۔پھر ہم کیوں کتابوں سے پناہ مانگ رہے ہیں ؟
کتابوں کی اشاعت سے متعلق موجودہ صورتِ حال سے اگر آ پ واقف ہیں تو یہ جانتے ہوں گے کہ آ سمانی کتابوں کے منکریں کے علاوہ زمینی کتابوں سے بیزار لوگوں کا بھی ایک بڑا طبقہ روئے زمیں پر موجود ہے ۔ یقیناکتابیں علم کا خزانہ ہیں اور نعمت کہلاتی ہیں ،تاہم وقت اور انسانوں کو بدلتے اور رحمتوں کو زحمتوں میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی ۔یہی کچھ فی زمانہ کتابوں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔بہت زیادہ وقت نہیں گزرا اردو کے کسی نامور محقق کا ایک بیان ہم نے کسی رسالے میں پڑھا (پھر چند دیگر ادیبوں نے بھی اس بیان کو دہرادیا )بہر حال اس محقق نے اپنے مداحوں اور دوستوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ تحفتاً انھیں اپنی کتابیں نہ بھجوائیں کیونکہ اب ان کے گھر میں کتابیں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ یہ پڑھ کر اس صاحبِ علم کے بارے میں ہمارے نیک خیالات اور خوش فہمیوں کے سارے قلعے مسمار ہوگئے بلکہ غصّہ بھی آ یا کہ جس زبان نے انھیں یہ مرتبہ عطا کیا اس کی کتابوں کی ایسی تحقیر!

کل جس صورتِ حالو ہم قابلِ نفریں سمجھتے تھے وقت نے ہمیں ان ہی حالات میں لا کھڑا کر دیا ہے۔مذکورہ محقق کے نظریاتِ بد میں آ ج ہم خود کو گھرا ہوا پاتے ہیں ۔ہم اب کتابوں سے اسی طرح بیزار ہیں جیسے کوئی مفلس کثرتِ اولاد سے پریشان ہوجاتا ہے اور ہم اس پریشانی کی واحد مثال نہیں ہیں ،بے شمار مل جائیں گے ، خاص طور پر ادیب اور شاعر ۔

ادیبوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کتابوں کے درمیان جنم لیتے ہیں اور پھر کتابیں ان سے تولّد ہونے لگتی ہیں ۔ تخلیقا ت کو اولادِ معنوی کہا جاتا ہے ۔یہ اور با ت ہے کہ موجودہ دور کی اکثر تخلیقات میں معنویت مفقود ہے اور اولادیت باقی رہ گئی ہے ۔ کبھی یہی معنویت کتابوں کو گھر میں سینت سنبھال کررکھنے کا جواز تھی اب کتابوں کا پھیلتا ہوا مادی وجودانھیں گھر سے چلتا کرنے کا سبب ہے ۔ اب اکثر لوگ اپنے گھروں میں کتابیں سجا کر مہذب اور تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں ، ظاہر ہے ڈگریاں تو کتابوں ہی کی مدد سے حاصل کی جاتی ہیں ۔ ہمارے ایک شناسا خود کو ادیب ثابت کر نے کے لیے ان ہی کتابوں کو محبوب کی زلفوں کی طرح گھر بھر میں بکھرا کر رکھتے ہیں ۔ کوئی ادیب ،ناقد یا محقق اگر واقعی ادبی کام انجام دے رہا ہے تو اس کی الماریوں میں کتابیں دھول کھاتی پڑی نہیں رہ سکتیں اور نہ انھیں سجا نے کا اسے ہوش ر ہ پاتا ہے ۔ کتابوں کی تزئین کاری ہوش والوں ہی کا کمال ہے۔
بھلا ہو اردو اکادمیوں کا اور سر کاری اداروں کا جن کی فیاضیوں کے طفیل ہماری کتابیں دھڑا دھڑ چھپ کر آ نے لگیں تو ایسا لگا ہمارا غریب خانہ، ہمارا گھر نہیں رہا ’کتاب گھر ‘

بد قسمتی سے ہم بھی ادیب ہیں اور چند دوستوں کے اصرار پر ان کی کتابوں پر تبصرے چھپوانے کی خطا کر بیٹھے چنانچہ اب کئی ادیبوں کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی ہر کتاب پر ایک مضمون یا تبصرہ لکھیں۔اسی دوران ایک مقامی رسالے کے ایڈیٹر نے ہمیں پکڑا کہ کوئی مبصر نہیں مل رہا ہے یہ کہہ کر یہ ذمہ داری اور کتابوں کا ایک بنڈل تھمادیا۔ ستم ظریفی یہ کہ جن ادیبوں کی وہ کتابیں تھیں ان کو خبر ملتے ہیں انھوں نے بھی اپنی نہ صرف تازہ تصنیف بلکہ پچھلی تمام کتابیں بھجوادیں کہ ان کی روشنی میں کچھ لکھو ۔انھیں کیسے سمجھاتے کہ ہمارا دولت کدہ پہلے ہی تجلی زار بنا ہوا ہے ۔ ہمارے گھر میں ہماری اپنی ڈیڑھ درجن کتابوں کے بنڈلوں کے علاوہ ہمارے شوقِ مطالعہ کا حاصل کتابیں اور قلم کاروں اور دوستوں کی سوغاتیں،غرض سارا گھر کتابوں سے بھر گیا۔ گھر والے اس طوفانِ ادب سے گھبراگئے ۔

ہم نے جب مکان تعمیر کیا تھا تواس نیک کام کے دوران یہ بھلا بیٹھے کہ ہمارے اندر کتابوں کے مطالعے کا شوقین شخص اور ایک ادیب بھی تشریف فر ما ہے ۔ عام لوگوں کی طرح ہم نے گھرمیں کتابوں کا کوئی کمرہ نہیں رکھا ۔ وقت کے ساتھ جب گھر کے مکین پھولنے پھلنے لگے تو ہمارامکان اس قدر سکڑتا ہوا محسوس ہونے لگا کہ اس کا ’گھر پن‘خطرے میں گھر گیا۔ تب ہم نے کچھ کر نے کی ٹھانی ۔کسی نہ کسی چیز کو تو دیس نکالا دینا ہی تھا ؛نظرِانتخاب سب سے پہلے کتابوں پر پڑی، بلکہ لگتا ہے وہ پہلے ہی سے نظر میں تھیں ،بس کھٹکٹنے کا عمل ذرا دیر میں شروع ہوا۔ اب جو ان کتابوں پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ کتابیں پورے گھر میں اس طرح پھیلی ہوئی ہیں جیسے کسی ملک میں بے کاری اور بے روز گاری پھیل جاتی ہے ۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھاکہ ان کتابوں کا اپنا کوئی ملک یعنی کمرہ نہیں تھاجہاں کی شہریت انھیں حاصل ہوتی ۔ وہ مختلف کمروں مثلاً ڈرائینگ روم ،بیڈ روم ،اسٹور روم ،حتیٰ کہ کچن ( کوکنگ سے متعلق کتابیں )اورگاہے بگاہے ڈائینگ روم کے ٹیبل پر بھی پڑی ہوئی پائی جاتی تھیں ۔ جہاں پڑھا وہیں چھوڑ دیاگیا ۔

بیوی کے لیے تو خیر ان کی حیثیت سوتن کی تھی ،مگر گھر کے دیگر افراد کے ٹھکانوں پر بھی کتابوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھاتھا۔ ہرچند ہم ہر دوچار ماہ بعد پڑھی ہوئی یا فضول کتابوں کو چور اچکوں اور اٹھائی گیروں کی طرح پکڑ پکڑ کر شہر کی لائیبریری کے حوالے کر آ تے تھے ۔ایک سست قسم کے لائبریرین نے تو ایک مرتبہ ہمیں سخت سست بھی کہہ ڈالا ۔اس کا یہ جملہ اب تک یاد ہے کہ ’جناب ! لوگ لائبریری میں کتابیں لینے آ تے ہیں اور آ پ کتابیں دینے ۔ ‘بات در اصل یہ تھی کہ ہمارے اس لینے کے دینے پڑجانے پر اس کا کام بڑھ جاتا تھا،رجسٹر میں کتابوں کی انٹری جو کرنی پڑتی تھی ۔

کتابوںکو لائبریریوں اور ضرورت مند اور غیر ضرورتمند دوستوں کے حوالے کر کے ہم اکثر خود کو احساسِ جرم کا شکار پاتے ہیں ۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جو ان باضمیر یا سست ضمیر لوگوں کو ہوا کرتا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آ تے ہیں ۔کبھی کتابیں ہماری سوجھ بوجھ اور دانشمندی کی مائی باپ تھیں اب ان کتابوں کا کوئی مائی باپ نہیں ہے ۔
ہم کتابوں کے مجرم ہیں اس لیے کہ ہم انھیں چھپواتے ہیں؛ خریدتے ہیں ،بیچتے ہیں ، ان کے پی ڈی ایف جمع کر کے یا انھیں الماریوں میں سجا کر اور لوگوں کو ان کی تعداد بتا کر ان پر رعب جماتے ہیں ، کتابوں سے شہرت پاتے ہیں ، ان کی مدد سے ملازمت اور عہدے حاصل کرتے ہیں ،انھیں اونچی ایڑی کی سنڈل بنا کر پہنتے ہیں اور خود کو سماج میں اونچا اٹھاتے ہیں ، ان کی مدد سے لوگوں کو نیچا دکھاتے ہیں، مگر انھیں پڑھتے نہیں یا کم پڑھتے ہیں اور زیادہ بتاتے ہیں ۔ کتابوں کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے ۔ ہم یہ حق ادا نہ کر کے ان کے مجرم ہیں مگر یہاں معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا ہے ۔میں جب بھی کتابوں کو الماریوں میں دیکھتا ہوں
بیوی کے لیے تو خیر ان کی حیثیت سوتن کی تھی ،مگر گھر کے دیگر افراد کے ٹھکانوں پر بھی کتابوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھاتھا۔ ہرچند ہم ہر دوچار ماہ بعد پڑھی ہوئی یا فضول کتابوں کو چور اچکوں اور اٹھائی گیروں کی طرح پکڑ پکڑ کر شہر کی لائیبریری کے حوالے کر آ تے تھے ۔ایک سست قسم کے لائبریرین نے تو ایک مرتبہ ہمیں سخت سست بھی کہہ ڈالا ۔اس کا یہ جملہ اب تک یاد ہے کہ ’جناب ! لوگ لائبریری میں کتابیں لینے آ تے ہیں اور آ پ کتابیں دینے ۔ ‘بات در اصل یہ تھی کہ ہمارے اس لینے کے دینے پڑجانے پر اس کا کام بڑھ جاتا تھا،رجسٹر میں کتابوں کی انٹری جو کرنی پڑتی تھی ۔
کتابوںکو لائبریریوں اور ضرورت مند اور غیر ضرورتمند دوستوں کے حوالے کر کے ہم اکثر خود کو احساسِ جرم کا شکار پاتے ہیں ۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جو ان باضمیر یا سست ضمیر لوگوں کو ہوا کرتا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آ تے ہیں ۔کبھی کتابیں ہماری سوجھ بوجھ اور دانشمندی کی مائی باپ تھیں اب ان کتابوں کا کوئی مائی باپ نہیں ہے ۔
ہم کتابوں کے مجرم ہیں اس لیے کہ ہم انھیں چھپواتے ہیں؛ خریدتے ہیں ،بیچتے ہیں ، ان کے پی ڈی ایف جمع کر کے یا انھیں الماریوں میں سجا کر اور لوگوں کو ان کی تعداد بتا کر ان پر رعب جماتے ہیں ، کتابوں سے شہرت پاتے ہیں ، ان کی مدد سے ملازمت اور عہدے حاصل کرتے ہیں ،انھیں اونچی ایڑی کی سنڈل بنا کر پہنتے ہیں اور خود کو سماج میں اونچا اٹھاتے ہیں ، ان کی مدد سے لوگوں کو نیچا دکھاتے ہیں، مگر انھیں پڑھتے نہیں یا کم پڑھتے ہیں اور زیادہ بتاتے ہیں ۔ کتابوں کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے ۔ ہم یہ حق ادا نہ کر کے ان کے مجرم ہیں مگر یہاں معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا ہے ۔میں جب بھی کتابوں کو الماریوں میں دیکھتا ہوں
بیوی کے لیے تو خیر ان کی حیثیت سوتن کی تھی ،مگر گھر کے دیگر افراد کے ٹھکانوں پر بھی کتابوں نے غاصبانہ قبضہ کر رکھاتھا۔ ہرچند ہم ہر دوچار ماہ بعد پڑھی ہوئی یا فضول کتابوں کو چور اچکوں اور اٹھائی گیروں کی طرح پکڑ پکڑ کر شہر کی لائیبریری کے حوالے کر آ تے تھے ۔ایک سست قسم کے لائبریرین نے تو ایک مرتبہ ہمیں سخت سست بھی کہہ ڈالا ۔اس کا یہ جملہ اب تک یاد ہے کہ ’جناب ! لوگ لائبریری میں کتابیں لینے آ تے ہیں اور آ پ کتابیں دینے ۔ ‘بات در اصل یہ تھی کہ ہمارے اس لینے کے دینے پڑجانے پر اس کا کام بڑھ جاتا تھا،رجسٹر میں کتابوں کی انٹری جو کرنی پڑتی تھی ۔
کتابوںکو لائبریریوں اور ضرورت مند اور غیر ضرورتمند دوستوں کے حوالے کر کے ہم اکثر خود کو احساسِ جرم کا شکار پاتے ہیں ۔ یہ احساس ایسا ہی ہے جو ان باضمیر یا سست ضمیر لوگوں کو ہوا کرتا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آ تے ہیں ۔کبھی کتابیں ہماری سوجھ بوجھ اور دانشمندی کی مائی باپ تھیں اب ان کتابوں کا کوئی مائی باپ نہیں ہے ۔
ہم کتابوں کے مجرم ہیں اس لیے کہ ہم انھیں چھپواتے ہیں؛ خریدتے ہیں ،بیچتے ہیں ، ان کے پی ڈی ایف جمع کر کے یا انھیں الماریوں میں سجا کر اور لوگوں کو ان کی تعداد بتا کر ان پر رعب جماتے ہیں ، کتابوں سے شہرت پاتے ہیں ، ان کی مدد سے ملازمت اور عہدے حاصل کرتے ہیں ،انھیں اونچی ایڑی کی سنڈل بنا کر پہنتے ہیں اور خود کو سماج میں اونچا اٹھاتے ہیں ، ان کی مدد سے لوگوں کو نیچا دکھاتے ہیں، مگر انھیں پڑھتے نہیں یا کم پڑھتے ہیں اور زیادہ بتاتے ہیں ۔ کتابوں کا ہم پر یہ حق ہے کہ ان کا مطالعہ کیا جائے ۔ ہم یہ حق ادا نہ کر کے ان کے مجرم ہیں مگر یہاں معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا ہے ۔میں جب بھی کتابوں کو الماریوں میں دیکھتا ہوں,ہم پر کتابوں کا یہ حق ہے کہ انھیں پڑھا جائے ۔مصیبت یہ ہے کہ ہم یہ حق ادا نہیں کرتے بلکہ بعض لکھنے والے بھی اس کارِ فصول سے جان چراتے ہیں ۔ اس سلسلے میں دوران گفتگو ایک نوخیز ، ابھرتے ہوئے ،بلکہ اچھلتے ہوئے ادیب نے اپنی گردن ٹیڑھی کر کے یہ بتا یا کہ وہ پڑھتے نہیں صرف لکھتے ہیں ۔ ہم نے وجہ جاننے کی کو شش کی تو فرمانے لگے ،دوسروں کی کتابیں پڑھنے سے ہمار ا رائٹنگ اسٹائیل خراب ہوتا ہے ۔ ہم نے کہا: بڑے ادیبوں کی تصانیف کے مطالعے میں تو یہ خطرہ نہیں ہے ۔کہنے لگے ایک دو مرتبہ کوشش کی تھی مگر میرے اندر احساسِ کمتری پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔بھلا ایک رائٹر میں اعتماد کی کمی پیدا ہوجائے تو وہ کیسے لکھے گا۔

یہ تو ایک ادیب کی رائے تھی ،کسی حد تک صحیح بھی تھی کہ گھٹیا کتابیں یقینا ہمارے ذوق کو متاثر کرتی ہیں ۔عام طور پرہم کتابیں پڑھتے ہیں نہ اوروں کو پڑھنے دیتے ہیں کہ اچھی کتابیں ہمیں جینے کی جو راہ بتاتی ہیں،ہم اس پر چلنا نہیں چاہتے کیونکہ ہم نے اپنے الگ راستے بنا رکھے ہیں ،پھر ان پر کون چلے گا۔ میں جب کبھی الماریوں کے شیشوں سے جھانکتی ہوئی عمدہ اور عظیم کتابوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہمیں اس قید خانے سے باہر نکالو ،ہمیں بھی اپنی زندگی کے سفر میں شریک کرلو اور کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ لوگوں کو ان کتابوں کی جگہ قید کر دوں اوران کتابوں کو وہاں سے آ زاد کر کے سماج،سیاست ،ادب ،مذہب اور تعلیم و تدریس وغیرہ کے سب میدان ان اچھی اچھی کتابوں کے حوالے کر دوں کہ ،لو ، زندگی کے سارے شعبے اب تم سنبھالو! ہم نے تو ہر جگہ کھیل بگاڑنے کے سوا کچھ کیا ہی نہیں ۔
عام آ دمی کا کتابوں سے کبھی نہ کبھی ایک تعلق ضرورہوا کرتا ہے خواہ درسی کتابوں کی صورت میں ہو یا بینک کے پاس بک کی شکل میں ۔ ہم ٹھہرے ادیب ۔کتابیں ہمارا اوڑھنا بچھونا ہیں ۔(ہم انھیں بچھاتے ہیں اور لوگ اوڑھتے ہیں ؂،اوڑھی ہوئی چیزوں کو اتار پھینکنا کس قدر آ سان ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ) در اصل مکان کی تعمیر کے وقت یہ قطعی خیال نہ آ یا کہ زندگی کے اس سفر میں کتابیں بھی ہماری ہم سفر ہیں اور ضروریاتِ زندگی کا حصہ ہیں ۔ہمارے گھروں میں مرغیوں، کبوتروں ، بکریوں ،کتّوں اور دیگر جانوروں کی رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے ۔کتابوں کے لیے ایک کمرہ بنانے کا خیال تک نہیں آ تا ،شاید اس لیے کہ کتابیں بے جان چیزیں ہیں ۔ وہ تو چھپکلیوں ، مکڑیوں ،مچھروں، کاکروچ اور چیونٹیوں کی طرح گھر کے کسی کونے میں رہ سکتی ہیں ۔
گذشتہ ماہ ایک صاحب نے جن سے ہماری جان نہ پہچان، کہیں سے ہمارا پتہ حاصل کر لیا اور کتابوں کا ایک بنڈل ہمارے نام داغ دیا ۔ پہلے یہ مصیبت ایک فون کی شکل میں نازل ہوئی ۔کسی کوریئر سینٹر سے کال کر کے بتایا گیا کہ آ پ علاقے میں ہماری خدمات معطل ہیں اس لیے اپنا پارسل آ پ کو خود ہی ہمارے آ فس سے لے جانا پڑے گا۔اس ڈر سے کہ کوئی اہم چیز نہ ہو ہم ہفت خواں طے کر کے اس آ فس پہنچے تو دیکھا اس بنڈل میں کسی نے اپنے سات شعری مجموعے بھجوادئے تھے ۔ کتابوں کی رسید کی اطلاع نہ دینا بد اخلاقی ہے یہ سوچ کر ہم نے انھیں فون کیا تو ادھر سے حکم صادر ہوا کہ جناب اب ان کتابوں پر تبصرے بھی لکھ دیجئے ۔ ہم نے تنگ آ کر وہ کتابیں کسی نیکی کی طرح ایک مقامی لائیبریری کے دریا میں ڈال دیں اور اب ہم اسی نامور محقق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ اعلان کر تے ہیں کہ خدا کے لیے ہمیں کتابیں نہ بھجوائیں کیونکہ اب کتابوں کے لیے اب صرف ہمارے دل میں جگہ بچی ہے ،گھرمیں نہیں ہے اورجو کتابیں ہمیں عزیز ہیں ان کے پی ڈی ایف ہم نے موبائیل اور کمپیوٹر کے دل میں ناکام حسرتوں کی طرح محفوظ کر رکھے ہیں ۔


         شروع شروع میں ہمیں یہ شکایت رہی کہ کتابیں تو چھپ گئیں مگر ادبی دنیا نے انھیں نظر بھر کر دیکھا تک نہیں مگر جلد ہی نظر انداز کئے جانے کا یہ گلہ جاتا رہا کہ اب کتابیں گھر والوں کی نظر میں آ نے لگی تھیں بلکہ کھٹکنے لگی تھیں ۔ مذکورہ تصانیف دوائے دل تو تھی نہیں کہ کاروبار آ گے بڑھتا ،شومیِ قسمت سے سر مہ مفت نظر ثابت ہوئیں ۔ہم نے کسی سے ان کے فروخت نہ ہونے کا ذکر کیا تو کہنے لگے: جناب ان کا ولیمہ کر وائیے ، دھوم دھام سے رسمِ اجراء کا جشن منا ئیے ۔ ایک ہی کتاب کا کئی شہروں میں،’ مکرر ارشاد ہے‘ کہہ کر اجرا دہرائیے ۔ شہر کے ادب نواز موٹے مرغوں کو پکڑئیے ۔کتاب بیچنے کے کئی شریفانہ طریقے ہیں ۔ صرف اچھا ادیب ہونا کافی نہیں ہے ،اسے اچھا بز نس مین ہونا چاہئیے ورنہ ایسا آ دمی وقت گزرنے پر ادیب بھی نہیں رہ پاتا ،آ ثارِ قدیمہ بن جاتا ہے ۔ جنابِ عالی آ پ تو کتاب چھپواکر اپنے منھ میں دہی جما کر بیٹھ گئے ۔ادب کے کاروبار میں ایسے رنگ نہیں چڑھتا’ لو دھی لودھی ‘ کہہ کر پھیری والے کی طرح اسے بیچنا پڑتا ہے ۔ اگر آ پ بذاتِ خود اپنی کتاب کی شان میں ایک جملہ بھی کہیں گے تو ادب کے وہ چرب زبان ستون جو دوسروں سے اپنی تصانیف پر تھوک کے بھاؤ سے مضامین لکھواکر چھپواتے ہیں ،آ پ کے سر پر خود ستائی کا الزام لگا کرستانے سے باز نہ آ ئیں گے ۔ ا ن کی اس حرکت میں یہ پیغام چھپا ہے کہ آ پ بھی دوسروں سے یا دوستوں کے نام سے اپنی اور کتاب کی شان میں قصیدے لکھوا کر دنیا کو بتائیے کہ اب اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرہ ۔

 ( خواہ کسی کی ذاتی ملکیت ہو یا عوامی لائبریری کی )مجھے محسوس ہوتا ہے ؛ الماری میں کتابیں نہیں جیل کے اندر قطار میں بیٹھے ہوئے مجرم ہیں ۔

محمد اسد اللہ ، ۳۰ گلستان کالونی ، ناگپور ،( مہاراشٹر) ۴۴۰۰۱۳

Wednesday, July 16, 2025

Zafar Kaleem Nagpur ۔۔۔۔ ظفر کلیم ناگپور۔۔۔۔۔۔ شخصیت و شاعری

 


ایک نوائے حرفِ خموش ۔ظفر کلیم

.............................................................
محمد اسد اللہ ( بھارت )

zarnigar2006@gmail.com   

 9579591149Mob: 

……………………………………………………………………………………………………………..

جب بھی ہم کسی ایسے شہر کا نام لیتے ہیں جو علم و ادب کی روایات کا امین رہا ہوتو شعر و ادب کے حوالے سے چند نام ضرور یاد آ تے ہیں۔ وسط ہند ( مہاراشٹر )کے شہر ناگپور کے اہم شعرا میں ایسا ہی ایک نام ظفر کلیم بھی ہے ۔ظفر کلیم کئی دنوں کی علالت کے بعد

۱۳! دسمبر ۲۴ ۲۰ کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔
نرم لہجہ ، مہذب طرزِ گفتگو اوروضع داری ،غرض متاثر کر نے والے کئی عناصرظفر کلیم کی شخصیت میں موجود تھے ۔ ہر ملنے والے کو ان کا مخصوص انداز یہ باور کر وانے کے لیے کافی تھا کہ یہ شخص عام لوگو ں سے مختلف ہے ۔ ہر ملاقات پر خلوص ، شفقت و محبت کا اظہار ان کی شخصیت کو دل و دماغ میں بسا دیتا تھا۔ مشرقی تمدّن کی پہچان مخصوص تہذیب ،شرافت رکھ رکھاؤ اور حسن اخلاق جیسی خوبیاں ان کی شخصیت اور شاعری دونوں میں رچی بسی ہوئی تھیں ۔
ظفر کلیم کا اصل نام شمشیر خاں تھا ،وہ
۵! دسمبر ۱۹۳۸ کو ناگپور میں پیدا ہوئے ۔ ایچ ایس سی ڈی ایڈ کر نے کے بعد اسلامیہ ہائی اسکول میں ملازمت اختیار کی ۔ انھوں نے لائف انشورنس ایجنٹ کی حیثیت سے بھی کام کیا اور زمینوں کی خرید و فروخت کے میدان میں اتر کر بلڈر بن گئے ۔ ناگپور کے علاقۂ چھاؤنی میں واقع ظفر کلیم کا تعمیر کردہ ’غزل اپارٹمنٹ ‘ ان کے ادبی ذوق کا ضامن ہے ۔ ظفر کلیم کی ابتدائی زندگی ایک آ سودہ حال گھرانے میں بسر ہوئی لیکن ان کے والد کے انتقال کے بعد انھیں مختلف پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑا ان میں ظفر کلیم کی اہلیہ اور جوان بیٹے کی رحلت بھی شامل ہے ۔ انھوں نے ان مصائب کا صبر و تحمل کے ساتھ مقابلہ کیا۔ ان کی شاعری میں ان سانحات اور زندگی کی جدوجہد کی جھلکیاں واضح طور پر نظر آتی ہیں ۔ ظفر کلیم اپنی زندگی کے آ خری دور میں سماجی طور پر مشہور شخصیات کے رابطے میں رہے ۔ ان کا کلام مختلف ذرائع سے اور مشاعروں کے توسط سے مقبولیت حاصل کر تا گیا ۔
ظفر کلیم نے
۱۹۵۳ سے شاعری شروع کی جب ان کی عمر صرف پندرہ برس تھی ۔ پہلی غزل ادبی رسالے’ پیامِ نو ‘میں شائع ہوئی ۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ’ طلسمِ غزل‘ ۱۹۸۱ میں اور دوسرا شعری مجموعہ’ نوائے حرفِ خموش ‘ ۲۰۰۷ میں منظرِ عام پر آ یا ۔ ’ نوائے حرفِ خموش‘ ۴۷۲ صفحات پر مشتمل ہے جس میں گیارہ پابند ، معریٰ اور آزاد نظمیں اور غزلوں کے علاوہ قطعات بھی شامل ہیں ۔ظفر کلیم کے دوسرے مجموعے کلام ’ نوائے حرفِ خموش ‘ کی اشاعت سے پہلے اس کے دو بار گم ہونے کا قصہ بھی دلچسپ ہے ۔ اس کتاب کی ابتدا میں ظفر کلیم نے اپنے حالاتِ زندگی بیان کر تے ہوئے اپنے مضمون ’ سر نامۂ ماضی و حال ‘ میں اس کی تفصیلات پیش کی ہیں ۔
’تبدیلیِ مکان کے درمیان کچھ ذہنی الجھنوں اور کچھ لا پر واہی کے سبب نوائے حرفِ خموش ‘ کا مسودہ کہیں چھوٹ گیا۔ مگر مسودہ کی زیراکس کاپی کے سبب حوصلہ نہیں ٹوٹا لہٰذا از سرِ نو مسودہ تیار کر نا شروع کیا‘۔
1
دوسری مرتبہ ممبئی سے ناگپور ٹرین میں سفر کر تے ہوئے جو حادثہ پیش آ یا اس کے متعلق لکھتے ہیں :
بس ایک ہی بات ذہن میں تھی کہ ناگپور پہنچتے ہی مسودہ پریس کے سپر د کر کے فوراً اشاعت کا کام شروع کر وادوں گا کہ آ نکھ لگ گئی اور صبح
۶ بجے سے کچھ پہلے آ نکھ کھلی تو یہ دیکھ کر آ نکھوں میں اندھیرا چھا گیا کہ سوٹ کیس اپنی جگہ پر نہیں ہے ۔ زنجیر کھینچی ، گاڑی رکی ، تلاش کیا لیکن سوٹ کیس نہیں ملا۔
اس سانحے نے انھیں ذہنی طور پر بری طرح متاثر کیا ، یہ ان کے لیے کسی عزیز کی موت سے کم نہیں تھا۔ چند دنوں بعد پھر ان کے دوسرے شعری مجموعے کی تیاری کی سبیل نکل آ ئی ا س کے متعلق لکھتے ہیں :
سوچ لیا تھاکہ اب مکمل طور پر شاعری ہی ترک کر دوں گاکہ ایک دن اچانک ایک گٹھے میں بندھے ہوئے ردی پیپیرس الٹ پلٹ کر رہا تھاکہ ’نوائے حرفِ خموش‘ میں شامل غزلیات کے مصرعوں کی فہرست ملی تو جیسے یوں لگا کہ جیسے میرے بے جان حوصلوں میں جان پڑ گئی ۔خدا کا شکر اداکیا اور ایک بار پھر بسم اللہ کہہ کر تیسری بار اپنے دوسرے شعری مجموعے’ نوائے حرفِ خموش‘ کی تیاری میں جی جان سے جٹ گیا ۔ جتنے اشعار یاد آ تے لکھتا اور باقی نئے اشعار کہہ کر غزل پوری کر تا ۔غرض کہ سیکڑوں اشعار نئے کہے طبعِ موزوں نے بھی خوب ساتھ دیا اور اللہ کی جانب سے اس طرح غیبی مدد ہوئی کہ محض تقریبا ڈھائی سال کے مختصر سے عرصے میں نوائے حرفِ خاموش کا نیا ضخیم مسودہ گم شدہ دونوں ہی مسودوں سے میرے تئیں بہتر ثابت ہوا۔
۱ ظفر کلیم کی شاعری میں غزل کے روایتی موضوعات کے علاوہ زندگی کے نئے مسائل اور عہدِ حاضر کے وہ موضوعات بھی شعری اظہار کا مرکز بنے ہیں جنھیں جدید شاعری نے متعارف کروایا ۔ ان کے متعلق ڈاکٹر آ غا غیاث الرحمان لکھتے ہیں :
ظفر کلیم اپنے ہم عصروں میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں ۔ ان کا شعری اسلوب سب سے جدا گانہ ا ور منفرد ہے ۔انھوں نے شاعری میں نئی نئی راہیں اور جہتیں نکالیں ہیں ۔ نئی علامتوں اور استعاروں سے اپنے اشعارمیں زور اور نیا پن پیداکیا ہے ۔ انھوں نے تمام اصناف میں شعر کہے ہیں ۔ لیکن غزل ان کی پسندیدہ صنف ہے ۔ ‘
2
ظفر کلیم کا کلام روایتی شاعری سے جدیدت کی طرف سفر کا ایک سلسلہ ہے ۔ جس زمانے میں انھوں نے طبع آ زمائی شروع کی ناگپور میں پیرِ مغان خمخانۂ سخن مولانا ابوالحسن ناطق اور ضمیر الشعرا امین الفن حضرت طرفہ قریشی اپنے اپنے تلامذہ کے ساتھ پر ورشِ لوح و قلم کا فریضہ انجام دے رہے تھے ۔ ظفر کلیم نے صوفی شاعر ڈاکٹر عبدالحمید خاں آذر سے شاعری کی تربیت حاصل کی اور علم وا دب کے رموز سیکھے ۔ مشاعروں میں ہونے والی ہوٹنگ ، نوک جھونک اور روایتی شاعری کے عروج کے اس زمانے میں منظور حسین شور جیسے شاعر بھی یہاں موجود تھے جو ترقی پسند تحریک کے ہمنوا تھے ۔ اسی کے ساتھ جدیدیت کی ہوائیں بھی ادیبوں او ر شاعروں کے ذہنوں میں تخلیقی شگوفے کھلا رہی تھیں۔ ناگپور اور اس سے دس کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر کامٹی جسے ناگپورکے ادبی منظر نامے کی توسیع کہا جا سکتاہے ، ان دونوں مقامات کے فنکار جدیدیت کے ان رجحانات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ اس وقت یہاں شاہد کبیر ،مدحت الاختر ،عبد الرحیم نشتر ،س۔ یونس ،غیور جعفری ،ضیا انصاری، شریف احمد شریف ،اقبال اشہر ،ڈاکٹر بدرِ جمیل وغیرہ موجود تھے۔ ا ن فنکاروں کا کلام ماہنامہ شب خون ،کتاب
،جواز، شاعر وغیرہ میں شائع ہونے لگا۔ اسی ادبی فضامیں ظفر کلیم نے اپنے مشاہدات ،احساسات اور تجربات کو شعری پیکر عطاکئے ۔ ظفر کلیم کی شاعری جدید رجحانات کے ساتھ اخلاقی قدروں کو بھی بحسن و خوبی پیش کرتی ہے ۔ اس پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ملک زادہ منظور لکھتے ہیں ۔
تہذیب ، شرافت ،اخلاقیات جو ہمارے مشرقی معاشرے کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں ان کی ترجمانی بھی بہت خوبصورت انداز میں ان کے کلام میںملتی ہے ۔ فنی سطح پر معتبر اور فکری سطح پر ’ روحِ عصر ‘ سے باخبر ظفر کلیم ہمارے ان شعرا میں ہیں جو ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہوکر شعر و ادب کی خدمت کر رہے ہیں ۔ اس خیال کی تصدیق ظفر کلیم کے ان اشعار سے ہوتی ہے ۔


بچا سکو تو بچا لو وجود کو اپنے ضمیر بیچ کر جینے سے فائدہ کیاہے
نادان یاد رکھ کہ عداوت وہ آ گ ہے بھڑکے تو بجھ نہ پائے گی پھر انتقام تک
اجسام بے ضمیر میں روحیں علیل ہیں اس عہدِمیں بدن کی نفاست کے باوجود
نہ دے مجھے وہ بلندی خدائے ارض و سما جو پستیوں سے مرا سلسلہ ختم کر دے
ظفر کلیم کے ہاں ندرتِ خیال ہے ،وہ برتے ہوئے موضوعات کو نئے انداز سے پیش کر نے کی کو شش کرتے ہیں ۔بقول حسن کمال ظفر کلیم کئی خرمنوں کے خوشہ چیں نظر آ تے ہیں ۔یہ ممکن نہیں کہ کو ئی ایسا خیال ڈھونڈ لائیں جو بالکل اچھوتا ہو۔ پاما ل موضوعات کو بھی اپنا لہجہ دے دینا ایک قابلِ قدر فن ہے اور ظفر کلیم کے یہاں یہ نیاپن مجھے کئی جگہ نظر آ تا ہے ۔ (حسن کمال)
جب ملے رفیقوں سے زخم ہی ملے ہم کو

بے سبب رہا دل میں دشمنوں کا ڈر بر سوں
سوال یہ ہے کہ خاموش کیوں ہیں لوگ اتنے

جواب یہ ہے سوالات کر کے دیکھتے ہیں
پیرہن
ِتن پہ نہ جا جوہری

دام بتا گوہرِ نایاب کے
ظفر کلیم کی نظموں میں عصری زندگی کے مسائل کی گونج سنائی دیتی ہے ان کے ہاں نا انصافیوں اور بے اعدالیوں پر احتجاج میں درد مند دل کی پکار موجود ہے ۔ ان کی نظم ’ فساد اور یکجہتی ‘ میں فسادات کی تباہ کاریوں کی منظرکشی پوری شدت کے ساتھ ابھر آ ئی ہے ۔ شاعر ان فسادات کے پیچھے کار فرما سیاست دانوں کی سازشوں کو گہر دکھ کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔
اس کے پیچھے ہے تعصب کی نوازش کا اثر شہر در شہر ہے اس آ گ کی سازش کا اثر
یہ سلگتی ہے رئیسوں کے گھروں سے پہلے یہ دہکتی ہے پراگندہ سروں سے پہلے
ہر طرف لوٹ کے بازار سجے ہوتے ہیں گھات میں اپنی سیاہ کار لگے ہوتے ہیں
ان لعینوں سے بھلائی کی کوئی آ س نہیں ان کو مریم کے تقدس کا بھی احساس نہیں

نظم’ اردو ‘میں اس ملک میں قومی اردو کو قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔ ظفر کلیم کی نظم ’ پیاس ‘ شدتِ پیاس اور کر بِ ذات کی ترجمانی کرتی ہے ۔ نظم ’بوڑھا بر گد ‘میں بزرگوں کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے ۔ ان کی دیگر ںنظموں میںشہر کی ہنگامہ آ رائیاں اور سیاست،فسادات اور تعصب کی تباہ کاریوں پر صدائے احتجاج بلند کی گئی ہے ۔ ظفر کلیم کی نظم نگار ی کے متعلق ڈاکٹر شر ف الدین ساحل لکھتے ہیں ۔
ایک بیانیہ نظم ’ بمبئی‘ میں اس شہر کی ہنگامہ آ رائیوں کا تفصیلی ذکر ہے ۔ نظم’ فیصلہ‘ جو انتیس اشعار پر مشتمل ہے سب سے طویل ہے ، گودھرا کانڈ کے تناظر میں کہی گئی ہے، جس نے ریاست گجرات میں انسانیت کو جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ اس بیانیہ نظم میں اس فساد کی جڑکو تلاش کر نے کی کو شش کی گئی ہے ۔
۴ ظفر کلیم کی شاعری میں زندگی کی بے ثباتی ، انسانی رشتوں کی شکست و ریخت اور اخلاقی قدروں کے زوال کے مناظر او ر ان پر افسوس کا اظہار بھی ملتا ہے ۔
ہنسے کوئی مگر رونے میں کتنی دیر لگتی ہے

 اچانک حادثہ ہونے میں کتنی دیرلگتی ہے ۔
یوں دوستوں میں ڈھونڈ رہے ہیں خلوص ہم

صحرا میں جیسے کھوج کسی سائبان کی
کون جانے تیری آ نکھوں سے چھلکتا آ نسو

کتنے سوئے ہوئے طوفان جگا کر آ یا
ظفر کلیم نے حمد و نعت میں اپنے احساسات اور و جذبات کو بحسن و خوبی بیان کیا ہے ۔ ان کے درج ذیل اشعار ان کی شخصیت کے مذہبی پہلو کو نمایاں کر تے ہیں ۔
اسی کے نام سے اپنا سخن منسوب کرتا ہوں

زبان گونگوں نے پائی ہے جس کے اعجازِ تکلم سے
چھین لیں جب بلندیاں اس نے

یاد آ یا کہ ہے خدا سب کچھ
ہر اک عروج کے پیچھے زوال ہے لیکن

مجھے عروج دے ایسا جسے زوال نہ ہو
ظفر کلیم کی رحلت سے نہ صرف شہر ناگپور کے ادبی حلقے نے ایک معتبر اور پر اثر آ واز کو کھودیابلکہ جدید شاعری کی دنیا بھی ایک اہم شاعر سے محروم ہو گئی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی :
۱۔سر نامۂ ماضی و حال ، ظفر کلیم ، نوائے حرفِ خموش ، ناگپور ۲۰۰۷ ، ص ۲۶
۲۔ ڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن ،شخصیاتِ ودربھ ۔ناگپور ۲۰۱۵ ۔ ص ۱۵۰
۳۔نوائے حرفِ خموش ، ناگپور ۲۰۰۷ ، فلیپ پر تحریر
۴۔ ڈاکٹر شر ف الدین ساحل ۔ناگپور میں اردو شاعری ،۲۰۱۶ ناگپور ص ۱۹۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

Sunday, July 06, 2025

Manzoom Lateefa منظوم لطیفہ۔۔۔ چور سپاہی

 

 چور سپاہی

(منظوم کہانی)


محمد اسد اللہ



پاکٹ اڑا کے  چور کوئی بھاگتا ہوا

اک روز اک پولس کے شکنجے میں آ گیا

 یہ سوچ کر کہ غیر اڑا تا ہے مالِ تر

فوراً غریب چور کے پیچھے نکل پڑ ا

 آ واز دے کے اس سے کہا،اے میاں رکو

جاتے کہاں ہوا مال لیے اپنے باپ کا

سب کر صدا سپاہی کی وہ چور چونک کر

رفتار اور تیز کی اور ڈوڑ تاہے

یہ سوچ کر کہ چور میری مانتا نہیں

 غصے میں بھر کے اور بھی وہ سرخ ہوگیا

کہنے لگا کہ خود کو سمجھتا ہے کیا رنر

ہر گز نہ میرے ہاتھ سےتو بچ کے جائے گا

تجھ کو دکھائوں آ ج میں ہوتی ہے کیا رننگ

چل جائے گا تجھے بھی پتہ چیز ہوں میں کیا

پیچھا کیا جو چور کا پولس نے دوڑ کر

جوش ِ جنوں میں چور کے آ گے نکل گیا

کچھوا اور خرگوش - منظوم کہانی - Tortoise and the Hare (Urdu Story in Poem)

 ادب اطفال

کچھوا اور خرگوش

)نظم)

محمد اسد اللہ



اک خرگوش تھا اک کچھوا تھا

اک جنگل میں ان کا ڈیرا تھا


اک دن ہنس کر بولا خرگوش

کیوں نہ خود کو آ زمائیں

آ ؤ مل کر دوڑ لگائیں

کچھوا بولا: میں تم جیسا تیز نہیں ہوں

پھر بھی حاضر ہوں


مقابلہ شروع ہوا تو

دوڑ پڑا خر گوش

دھیرے دھیرے کچھو اچلا

پر نہ کھوئے ہوش

دور بہت آ نکلا تھا خرگوش


اس ماحول میں تھی گھاس بہت

خر گوش کو آ یا راس بہت

ایسا سویا سب کچھ کھویا


دھیرے دھیرے چلنا

اک پل نہ غافل ہونا

کچھوے کو منزل تک لے آ یا


ہار گیا خرگوش

تو اپنی شیخی پر پچھتایا


جو جاگتا ہے وہ پاتا ہے

جو سوتا ہے وہ کھو تا ہے !

Sunday, September 10, 2023