A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Saturday, April 22, 2017
Saturday, October 09, 2010
Thursday, October 29, 2009
Tuesday, October 13, 2009
Friday, October 09, 2009
Sunday, May 03, 2009
Ulti Seedhi Ghazal ,Bachchon ke liyeالٹی سیدھی غزل
میرے پنجے میں چوہا ہے
پڑھاتے ہیں سبھی بچّے
مدرّس پڑھتا رہتا ہے
دیا آکاش میں جلتا
ستارہ گھر میں چمکا ہے
چلی ہے ناؤ بادل میں
ندی میں چاندبہتاہے
ہوا بستے میںٹھہری ہے
قلم کاغذ پہ اُڑتا ہے
میرے ہونٹوں پہ سِم سمِ ہے
ہر اک دروازہ کھلتا ہے
ہمارے پاؤں بے حرکت
مگر رستہ تو چلتا ہے
دکھا ئی کچھ نہیں دیتا
مگر کوئی ہے لگتا ہے
Saturday, January 17, 2009
A Poem for children (Urdu)ایسا ہو جیسا ہے گمان
(نظم )
محمّد اسد اللہ
.....................................................
ایساہو جیسا ہے گمان
دنیا ہو یہ باغ سمان
پھول پرندوں کی مانند
چہکے مہکے ہر انسان
رہے شہر میں امن و امان
لوگ بھی سارے عالی شان
ہر چہرے پر سجی رہے
کھلی کھلی سی اک مسکان
ایسے بھی ہو تیر کمان
کام کرے جادو سمان
ر کے سب کنگالوں کو
پل بھر میں کر دے دھنوان
ایسا بھی ہو ایک مکان
جس میں خوش ہو ہر انسان
جب بھی سجا ہو دستر خوان
رنگ برنگے ہو پکوان
Friday, January 16, 2009
Wednesday, September 10, 2008
مہاتما گاندھی - اپنے افکار کے آ ءینے میں Thoughts of M.K.Gandhi
موہن داس کرم چند گاندھی
اپنے افکار کے آ ئینے میں
۱۔ اگر ہندوستان تلوار کے راستے کو اپناتا ہے تو ہو سکتا ہے اسے فوراً کامیابی حاصل ہو جائے لیکن اس صورت میں تشدّد بھرا بھارت میرے دل کا ٹکڑا نہیںہو سکتا ، پوری دنیا کو راستہ دکھانے کے لئے ہندوستان کا یہی مشن ہو نا چاہئے کہ جو بات اخلاقی طور پر غلط ہے وہ سیاسی طور پر بھی غلط ہے ۔
۲۔ جب تک ہندوستانی عورتیں عوامی زندگی میں حصّہ نہیں لیتیںتب تک ملک ترقّی نہیں کر سکتا ۔
۳۔ گناہ سے نفرت کرو گناہ گار سے نہیں ۔
۴۔ ’’ اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔
۵۔ اگر آنکھ کا بدلہ آنکھ ہو تو پو ری دنیا اندھی ہو جا ئے گی ۔
۶ ۔ شراب جسم اور روح دونوں کو فنا کر دیتی ہے ۔
۷۔ میں اپنی شخصیت کے اظہار کے لئے مکمّل آ زادی چاہتا ہوں ۔
نہ کہیں ہندو مر رہے ہیں نہ مسلمان مارے جا رہے ہیں ۔ ہر جگہ انسان مررہا ہے ۔
۸۔ ایک کمزور کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔ معافی تو طاقتور کا اظہار ہے
۹۔ ہر گاؤں کو خود کفیل جمہوری اکائی ہو نا چا ہئے ۔
۱۰۔ایماندارانہ اختلاف ترقّی کی نشانی ہے ۔
Sunday, September 07, 2008
A letter of a tree پیپل کا خط پپّو کے نام
ماحولیات اور درختوں کی حفا ظت سے متعلق تخیٔل پر مبنی ایک تحریر ۔۔۔۔
پیارے پپو !
تم سوچ رہے ہوں گے بھلا ایک درخت کو کیا ضرورت پیش آ ئی کہ وہ پپو کو خط لکھے ؟ تم تو جانتے ہو دوست ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے ہیں ۔ سارے پیڑ پو دے انسانوں کے دوست ہی تو ہیں اور سچّاد وست وہی جو مصیبت کے وقت کا م آ ئے ۔
دوست کچھ دیر پہلے تم میری چھاؤں میں بیٹھے تھے ۔ ایک لکّڑھارا میرے بھائی یعنی آم کے پیڑ کو کاٹ رہا تھا ۔ تم کیسے پتّھر دل اسے ٹک لگائے دیکھتے رہے ۔ اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں ۔ اس ظالم کوسمجھایا نہیں کہ پیڑ کاٹے جا ئیں گے تو انسانوں کو اس کی کتنی بھا ری قیمت چکانی پڑے گی ۔ ذرا سوچو ہم انسانوں کے لئے کس قدر کا ر آ مد ہیں ۔
ہم جیتے جی لکڑیاں مہیّا کرتے ہیں ۔ بے رحمی سے کاٹ دئے جاتے ہیں تب بھی پیچھے نہیں ہٹتے ۔ ہماری لکڑیاں مکانوں کی چھت میں لگتی ہیں اور سائیبان بن کر سب کو راحت پہنچاتی ہیں ۔ذرا سوچو جس آ رام دہ کر سی پر تم بیٹھے ہو ئے یہ خط پڑھ رہے ہو وہ بھی تو لکڑی ہی کی بنی ہے ۔ یہ حکایت تو تم نے سنی ہو گی کہ صندل کے پیڑ پر کو ئی کلہاڑی چلائے تو وہ لکڑی اس کلہاڑی کو بھی خوشبو دار بنا دیتی ہے۔ خود دھوپ میں تپ کر انسانوں کو سایہ دینے والے پیڑ انسانیت کا کتنا بڑا درس دیتے ہیں ۔ ہماری شاخوں پر کھلے پھول فضا کو معطّر کر دیتے ہیں ۔ تمہارے ارد گرد بکھرے ہو ئے حسین مناظر کی یہ ساری خوبصورتی ہمارے ہی دم قدم سے ہے ۔
ہم سر سے پیر تک انسانیت کی خدمت میں جٹے ہو ئے ہیں ۔ ہماری جڑیں، پتّیاں، پھول، تنہ ،اور چھال سے نہ جانے کتنی دوائیں بنائی جا تی ہیں ۔ ربڑ سے بنی بے شمار چیزیں تم رات دن استعمال کرتے ہو بتاؤ یہ ربڑ آتا کہاں سے ہے ۔درختوں ہی سے نا؟ آج دنیا بھر میں فضائی آ لودگی بڑھ رہی ہے ۔ اس کی روک تھام کرنے سے انسان قاصر ہیںمگر اس زمین کی سلامتی اور اس کی فضا کے تحفّظ کے معاملے میں بھی ہم نباتات سب سے آ گے ہیں ۔
برسات کے پانی سے بہنے والی مٹّی کو زمین پر اگنے والی گھا س تھامے رہتی ہے ۔بارش کے پا نی کو پیڑپودے جذب نہ کریں تو سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ ہماری جڑیں مضبوط پنجوں کی طرح زمین کے کٹاؤ کا عمل روک کر مٹّی کی حفاظت کر تی ہیں۔ درختوں کی پتّیاں جھڑ جاتی ہیں تو کھاد بن کر زمین کی زرخیزی میں ضافہ کرتی ہیں ۔ ہماری لکڑیاں ایندھن کے طور پر کام آ تی ہیں ۔ اور کہیں ضروری ساز و سامان بن کر فائدہ مند ثابت ہو تی ہیں ۔ پرانے زمانے میں ہتھیار سے لے کشتیوں تک میں لکڑی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ لکڑی نہ صرف دفتروںاور گھروں کی استعمال کی چیزوں میں لگتی ہے بلکہ سجاوٹ کے کام بھی آ تی تھی ۔
لکڑی کے بنے جھولے اور کھلونے سے لے کر چتا میں جلنے والی،تابوت اور قبروں میں استعمال ہو نے والی لکڑی بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک درختوںنے ہر قدم پر انسان کا ساتھ نبھایا ہے ۔
دیکھو! وہ لکّڑ ھارا کلہاڑی اٹھائے ہو ئے ایک کے بعد دوسرا پیڑ کاٹتا چلا جا رہا ہے ۔ آج ان درختوں کی کل میری باری ہے ۔
اے دوست! کیا اس مصیبت کے وقت بھی تم کام نہ آ ؤگے ؟ جاؤ اس بے وقوف کو سمجھاؤ کہ ہو پیڑوں پر نہیں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا رہا ہے۔ درخت ا س زمیں کے پاؤں ہی نہیں ہاتھ بھی ہیں۔ فضاؤں میں پھیلے ہو ئے یہی دعاؤں کے ہاتھ خدا سے بارشیں مانگتے ہیں ۔ یہ دھرتی کاجسم بھی ہے اور روح بھی ۔ہماری پتّیوں سے یہ زمیں سانس لیتی ہے ۔ یہ پیڑ پو دے نہ ہوں گے تو زمین زندگی سے محروم ہو جائیگی۔ خدا کے لئے ہمیں زندگی سے محروم نہ کرو ۔ خدا حافظ ۔
تمہاری مدد کا منتظر
پیپل کا پیڑ


























