A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Showing posts with label Characters. Show all posts
Showing posts with label Characters. Show all posts
Friday, March 02, 2018
Friday, October 27, 2017
Thursday, November 08, 2007
مرزاغالب اورآم (Mirza Ghalib)
مرزا غالب
مرزا غالب، اردو کے شاعر
آموں کے بھی رسیا تھے
اک دن
اک صاحب کے ساتھ
جنھیں آموں سے
اتنی ہی چڑ تھی
بیٹھے گفتگو فرمارہے تھے
غالب
آموں کی خوبیاں اور
وہ خامیاں گنوا رہے تھے
تبھی سڑک سے
گزرتے ہوئے
چند گدھوں نے
وہاں پڑے ہوئے
آم کے چھلکوں کو سونگھا
اور یہ دیکھ کر
کہ آم ہیں (کچھ خاص نہیں)
آگے نکل گئے
وہ صاحب
اچھل کر بولے
: دیکھا غالب
پتہ نہیں تمہیں آم ہیں
کیوں اتنے بھاتے
ارے !
آم تو گدھے تک نہیں کھاتے
مرزا غالب نے
سر ہلا کر فرمایا
ہاں حضور !
آپ سچ ہی ہیں فرماتے
بے شک،
گدھے آم نہیں کھاتے !
آموں کے بھی رسیا تھے
اک دن
اک صاحب کے ساتھ
جنھیں آموں سے
اتنی ہی چڑ تھی
بیٹھے گفتگو فرمارہے تھے
غالب
آموں کی خوبیاں اور
وہ خامیاں گنوا رہے تھے
تبھی سڑک سے
گزرتے ہوئے
چند گدھوں نے
وہاں پڑے ہوئے
آم کے چھلکوں کو سونگھا
اور یہ دیکھ کر
کہ آم ہیں (کچھ خاص نہیں)
آگے نکل گئے
وہ صاحب
اچھل کر بولے
: دیکھا غالب
پتہ نہیں تمہیں آم ہیں
کیوں اتنے بھاتے
ارے !
آم تو گدھے تک نہیں کھاتے
مرزا غالب نے
سر ہلا کر فرمایا
ہاں حضور !
آپ سچ ہی ہیں فرماتے
بے شک،
گدھے آم نہیں کھاتے !
Sunday, November 04, 2007
مسٹر چیونگم (Mr. Chewing Gum)
مسٹر چیونگم
ان سے ملئیے
یہ ہیں مسٹر چیونگم
منھ میں اپنے رکھ لو ان کو
دانتوں سے پھر کچلو ان کو
چکھ لو پر نہ نگلو ان کو
چکھنے سے نہ ہوں گے کم
یہ ہیں مسٹر چیونگم
بچّے بڑے ان کے دیوانے
چلے ہیں سارے ان کو کھانے
جان کے بنتے یہ انجانے
ان کو کوئی نہیں ہے غم
یہ ہیں مسٹر چیونگم
لال ہرے اور پیلے ہیں
کپڑے بھی بھڑکیلے ہیں
نٹ کھٹ چھیل چھبیلے ہیں
مزہ ہے ان کا یا سرگم
یہ ہیں مسٹر چیونگم
ان سے ملئیے
یہ ہیں مسٹر چیونگم
منھ میں اپنے رکھ لو ان کو
دانتوں سے پھر کچلو ان کو
چکھ لو پر نہ نگلو ان کو
چکھنے سے نہ ہوں گے کم
یہ ہیں مسٹر چیونگم
بچّے بڑے ان کے دیوانے
چلے ہیں سارے ان کو کھانے
جان کے بنتے یہ انجانے
ان کو کوئی نہیں ہے غم
یہ ہیں مسٹر چیونگم
لال ہرے اور پیلے ہیں
کپڑے بھی بھڑکیلے ہیں
نٹ کھٹ چھیل چھبیلے ہیں
مزہ ہے ان کا یا سرگم
یہ ہیں مسٹر چیونگم
Wednesday, October 31, 2007
ان سے ملئے (Meet Him)
ان سے ملئے
آئیے ان سے ملواتے ہیں یہ ہیں مسٹر انسٓ
نام ہے ان کا ننّھا منّا عمر بھی ہے دو برس
کالے کالے بال نرالے جیسے شام اودھ کی
نکھرا نکھرا گورا مکھڑا جیسے صبحِ بنارس
چوکڑیاں یوں بھرتے ہیں یہ جیسے ہرن جنگل میں
دھیان میں ایسے مست کھڑے ہیں جیسے کوئی سارس
بڑے نڈر ہیں بڑے بڑوں سے نہیں یہ ڈرنے والے
اپنے سے چھوٹوں پر لیکن کھا لیتے ہیں ترس
ہر شے کو چھوتے پھر نے کی ادا اچھوتی ان کی
جیسے خود کو سمجھ رکھا ہو چلتا پھرتا پارس
جہاں یہ جائیں رنگ جمائیں ،ایسے ان کے ڈھنگ
جس محفل میں یہ نہ ہو وہ محفل ہے بے رس
آئیے ان سے ملواتے ہیں یہ ہیں مسٹر انسٓ
نام ہے ان کا ننّھا منّا عمر بھی ہے دو برس
کالے کالے بال نرالے جیسے شام اودھ کی
نکھرا نکھرا گورا مکھڑا جیسے صبحِ بنارس
چوکڑیاں یوں بھرتے ہیں یہ جیسے ہرن جنگل میں
دھیان میں ایسے مست کھڑے ہیں جیسے کوئی سارس
بڑے نڈر ہیں بڑے بڑوں سے نہیں یہ ڈرنے والے
اپنے سے چھوٹوں پر لیکن کھا لیتے ہیں ترس
ہر شے کو چھوتے پھر نے کی ادا اچھوتی ان کی
جیسے خود کو سمجھ رکھا ہو چلتا پھرتا پارس
جہاں یہ جائیں رنگ جمائیں ،ایسے ان کے ڈھنگ
جس محفل میں یہ نہ ہو وہ محفل ہے بے رس
ماما (Uncle)
ماما
الٹا کرتہ پہنیں ، الٹا ہی پاجامہ
ساری دنیا کہتی ہے ان کو ماما
جوتے کی جوڑی کا بچھڑ گیا اک جوتا
دیکھو ان کے گھر میں برپا ہے ہنگامہ
نام ہی نام ہے ان کا کوئی کام نہیں ہے
نام نہ لکھنا جانےں کہلائیں علّامہ
بہادری میں ان کا کوئی نہیں ہے ثانی
گلی میں جیسے چوہا ، گھر کے اندر گاما
سورج ان کی چہرہ میں اپنا مکھڑا دیکھے
صورت سے وہ لگتے ہیں خود بھی چندا ماما
خواب نگر کے اندر وہ دن اور رات بِتائیں
جانے کب پہنائیں گے خواب کو عملی جامہ
Monday, October 29, 2007
مسٹرٹوٹ بٹوٹ (Mr. Toot Batoot)
مسٹرٹوٹ بٹوٹ
آئیے ا ن سے ملواتے ہیں یہ ہیں مسٹر ٹوٹ بٹوٹ
اپنی دسویں سالگرہ پر سلوایا ہے کیسا سوٹ
ٹھنڈی راتوں جیسی ان کی لمبی سی اک ٹائی
جھل جھل کرتا ان کا چشمہ ،چم چم کرتا ان کا بوٹ
سالگرہ کی تیّاری کا کچھ ایسا ہنگامہ تھا
ان کے ڈیڈی کے بٹوے کی مچی ہوئی ہو جیسے لوٹ
اتنے لوگوں کو دیکھا تو تن میں جوش سمایا
کیک کو اتنے زور سے کاٹا ،گئی چھری ہی ٹوٹ
چچانرالے (chaca nirale)
Now some poems for children based on imaginary and funny characters. Have a look,
چچانرالے
چھتری تالے کولر والے
چاچا ہیں اک بڑے نرالے
کام سے ان کے ہے یہ ظاہر
اپنے فن میں ہیں یہ ماہر
ہر شے کی یہ کریں مرمّت
لوگوں کو پہنچائیں راحت
گرمی میں پنکھا بنوالو
کولر روٹھ گیا ہو لائو
چھتری سے گر ٹپکے پانی
ہوئی ہو ٹیڑھی کوئی کمانی
پھٹا ہوا ہو اس کا کپڑا
ٹوٹ گیا ہو کوئی پرزہ
ٹارچ میں ، اسٹو میں ،کولر میں
کوئی خرابی ہو مکسر میں
ہر گڑبڑ پر نظریں گہری
غضب کے ہیں یہ کاریگر بھی
چپکے سے برسات گئی تو
چھتری اس کے ساتھ گئی لو
جب جب دھندہ پڑا ہے مندہ
چاچا نے تب بدلا دھندہ
چابی گم ہو جائے جب بھی
چاچاجی کو ڈھونڈیں سب ہی
بن تالے کی چابی لائو
ہر تالے کی چابی پائو
ساری چیزیں ان سے بولیں
اپنے دل کا دکھڑا رولیں
ہرشے کا یہ کریں علاج
اس پیشے میں ان کا راج
چھتری تالے کولر والے
چاچا ہیں اک بڑے نرالے
چچانرالے
چھتری تالے کولر والے
چاچا ہیں اک بڑے نرالے
کام سے ان کے ہے یہ ظاہر
اپنے فن میں ہیں یہ ماہر
ہر شے کی یہ کریں مرمّت
لوگوں کو پہنچائیں راحت
گرمی میں پنکھا بنوالو
کولر روٹھ گیا ہو لائو
چھتری سے گر ٹپکے پانی
ہوئی ہو ٹیڑھی کوئی کمانی
پھٹا ہوا ہو اس کا کپڑا
ٹوٹ گیا ہو کوئی پرزہ
ٹارچ میں ، اسٹو میں ،کولر میں
کوئی خرابی ہو مکسر میں
ہر گڑبڑ پر نظریں گہری
غضب کے ہیں یہ کاریگر بھی
چپکے سے برسات گئی تو
چھتری اس کے ساتھ گئی لو
جب جب دھندہ پڑا ہے مندہ
چاچا نے تب بدلا دھندہ
چابی گم ہو جائے جب بھی
چاچاجی کو ڈھونڈیں سب ہی
بن تالے کی چابی لائو
ہر تالے کی چابی پائو
ساری چیزیں ان سے بولیں
اپنے دل کا دکھڑا رولیں
ہرشے کا یہ کریں علاج
اس پیشے میں ان کا راج
چھتری تالے کولر والے
چاچا ہیں اک بڑے نرالے
Wednesday, October 24, 2007
National Anthem in Urdu
Here's an Urdu version of our national anthem(Indian) ,
راشٹر گیت (منظوم ترجمہ)
ہر ذہن و دل پہ یا رب پر تیری ہی حکمرانی
بھارت کا ہو مقدّر ہر گام کامرانی
پنجاب ہو کہ مہاراشٹر ،بنگال یا اڑیسہ
گجرات و سندھ کی ہو یا ہو زمیں دکن کی
بامِ فلک کو چھوتے یہ وندھیہ یہ ہماچل
گنگ و جمن کی موجیں ،بحرعرب کا پانی
ہر چیز پر ہے گویا تیرا نشان،عظمت
ہر لہر میں ہے تیرا ذکرِ مدام جاری
تیرا ہی نامِ اقدس لے کر اٹھے زباں پر
ہم خیر کے ہیں طالب مصروفِ حمدِباری
خوشیاں جہان بھر میں تقسیم کرنے والے
بھارت کا ہو مقدّر تاحشر کامرانی
ہر ذہن و دل پہ یا رب پر تیری ہی حکمرانی
بھارت کا ہو مقدّر ہر گام کامرانی
پنجاب ہو کہ مہاراشٹر ،بنگال یا اڑیسہ
گجرات و سندھ کی ہو یا ہو زمیں دکن کی
بامِ فلک کو چھوتے یہ وندھیہ یہ ہماچل
گنگ و جمن کی موجیں ،بحرعرب کا پانی
ہر چیز پر ہے گویا تیرا نشان،عظمت
ہر لہر میں ہے تیرا ذکرِ مدام جاری
تیرا ہی نامِ اقدس لے کر اٹھے زباں پر
ہم خیر کے ہیں طالب مصروفِ حمدِباری
خوشیاں جہان بھر میں تقسیم کرنے والے
بھارت کا ہو مقدّر تاحشر کامرانی
Subscribe to:
Posts (Atom)











