منگل, اپریل 12, 2011

Mehar Dulhan Ka Haque Urdu مہر ۔دلہن کا حق


مہر ۔دلہن کا حق


انجم آ راء ناگپور

دیگر قوموں کی طر ح مسلم سماج میں بھی خواتین ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اسلام نے دین کے ذریعے عورتوں کو بہترین حفاظتی انتظامات مہیا کئے ہیں جن میں ان کا سماجی اور معاشی تحفظ بھی شامل ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کئے ہیں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔اس کے باوجود آج اکثر مسلم گھرانوں میں خواتین حقوق سے محروم ہیں اور زیادتیوں کا شکار ہیں تو اس کی وجہ جہالت اور اسلامی اصولوں سے ناواقفیت ہے کہیں اسلام کے قوانین کو جاننے کے باوجود ان کی نافرمانی کر کے عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محرو م رکھا جاتا ہے۔

اسی کی ایک مثال ہمارے سماج میں مہر سے محرومی ہے۔ مہر دلہن کا حق۔ عام مشاہد ہ یہی ہے کہ نکا ح کے وقت مہر کی رقم طے تو کر لی جاتی ہے مگر ادائیگی نہیں کی جاتی بعض لوگ تو اسے ادا کرنے کی نیت تک نہیں کرتے ۔ ظاہر ہے یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔
اکثر مسلم خواتین نہ صرف مہر کے متعلق کچھ نہیں جانتیں بلکہ اسلام نے انھیں کون سے حقوق عطا کئے ہیں اس سے بھی ناواقف ہوتی ہیں اور نہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں۔ جب کہ اسلامی طریقے بہترین زندگی کی ضمانت ہیں۔


مہر کا رواج اسلام سے پہلے بھی تھا لیکن اسلام نے مردوں پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ نکاح کرنے پر عورتوں کو مہر ادا کریں اسلام سے پہلے لڑکی کا ولی مہر کا حقدار ہوا رتا تھا لیکن اسلام نے لڑکی کو جس کا نکاح ہو، مہر کا مالک قرار دیا ہے۔ کوئی بھی نکاح بغیر مہر کے صحیح نہیں ہوسکتا۔ نکاح کے وقت مہر طے کیا جاتا ہے ۔ مہر کی دو صورتیں ہیں۔
۱۔ مہر معجل: جو نکاح کے وقت ہی بہ عجلت،(فوراً:ادا کردیا جاتا ہے۔
۲۔ مہر موجل: سے مراد وہ مہر ہے جسے ادا کرنے کے لئے کوئی مدت طے کی گئی ہو یا مہلت دی گئی ہو یا بغیر کسی مخصوص مدت طے کئے اس کاادا کرنا طے پایا ہو۔
عام طور پر ہمارے یہاں نکاح کے وقت مہر معجل نقد یا زیورات کی شکل میں ادا کردیا جاتا ہے یہ ادائیگی مہر کی بہترین صورت ہے۔

قرآن نے مہر کے لئے ’صدقہ اور اجورون‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صدقہ سے مراد وہ صدقہ جو سچائی اور ایمانداری سے دیا جائے اور خلوصِ نیت پر مبنی ہو نہ کہ ریا کاری اور احسان جتانے کے لئے ۔ قرآن نے مہر کے لئے جو دوسرا لفظ استعمال کیا ہ وہ نحلا ہے۔ نحلہ نحل سے ماخوذ ہے جس کے معنی شہد کے ہیں۔ جس طرح شہد کی مکھی بنا کسی ذاتی مفاد کے شہد کی پیداوار کرتی ہے اسی طرح مہر بھی بغیر کسی ذاتی فائدے کے دیا جاتا ہے۔
ہمارے سماج میں ایسے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں کہ کسی مسلمان کے انتقال کے بعد اس کی بیوی کو شوہر کی نعش کے پاس لاکر گھر کی بڑی عورتیں اس عورت سے یہ کہتی ہے کہ اس کا مہر معاف کردو۔ظاہر ہے کہ یہ زبردستی ہے اور کسی کے حقوق زبردستی معاف نہیں کروائے جا سکتے۔اگر عورت دل سے معاف نہ کرے تو مرنے والے پر اس عورت کا حق باقی رہے گا جو اسے آخرت میں ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ میں فضول کاموں پر ہزاروں روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے لیکن مہر ادا کرنے کے معاملے میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے عوام میں بیداری پیدا کی جائے۔

1 تبصرہ:

  1. آپ نے درست فرمایا اس طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتو ہے کہ زیورات کی صورت حق مہر ادا کر دیا جاتاہے۔

    جواب دیںحذف کریں