ہفتہ, اپریل 16, 2011

1857 خواجہ حسن نظامی . جنگ آزادی کی ایک کہانی

۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کی ایک کہانی

خواجہ حسن نظامی

1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں ، خاص طور پر علما اور مغلیہ خاندان پر جو قیامت برپا کی وہ تاریخ کا المناک باب ہے۔ ہزاروں بے گناہ پھانسیوں کی بھینٹ چڑ ھادیے گئے اور شہزادیاں اور شہزادے کسمپرسی اور بے بسی کی اذیت ناک تصویر بن کر رہ گئے۔ اس ہنگامے میں کئی لوگوں کو غلط فہمی کے سبب بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اردو کے مشہور ادیب خواجہ حسن نظامی نے ان واقعات کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے کی ایک کہانی یہاں پیش کی جا رہی ہے۔

جس زمانے میں دہلی پر گولہ باری ہو رہی تھی اور شہر کے سب باشندے بھاگ رہے تھے اس وقت یوسف کے چچا نے یوسف کے باپ سے کہا کہ انجام برانظر آتا ہے بہتر ہے کہ یوسف کا نکاح کردیاجائے۔ تاکہ جب ہم سب باہر نکلیں تو پردے کی دقّت نہ رہے۔ یوسف کے باپ نے اس رائے کو پسند کیا اور یوسف کی شادی ہوگئی مگر نکاح ہوتے ہی خبر ہوئی کہ انگریزی فوج دہلی میں داخل ہوگئی اور بادشاہ قلعے سے نکل کر مقبرہ ہمایوں میں چلے گئے۔ یوسف کے والدین او ر سب کنبے والے بھی رتھوں میں بیٹھ کر بھاگے اور سیدھے قطب صاحب پہنچے ۔ یوسف نے اس وقت تک دلہن کا چہرہ بھی نہ دیکھا تھا۔ قطب صاحب میں جہاں ٹھہرے وہ جگہ بہت خراب تھی اور اتنی کہ اس کنبے کا گزارہ دشوار تھا۔ دستور کے مطابق اس پریشانی میں بھی دلہن نے شرم وحیا کا لحاظ رکھا۔ آدھی رات کو جب لوگ سوگئے تو فوج آئی اور اس نے سب مردوں کو گرفتار کرلیا۔ اور نام معلوم کرکے یوسف ، اس کے باپ اور چچا کو ساتھ لے گئے۔ جس وقت یوسف رخصت ہوا اس کی ماں بے قرار ہوگئی۔ اور اس نے رورو کر کہا کہ یہ میری بیس برس کی کمائی ہے۔ یہ میرا کلوتا بیٹا ہے اس کے بغیر زندہ نہیںرہوں گی کل اس کی شادی ہوئی ہے ابھی تو اس نے اپنی دلہن کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تم اسے کہاں لیے جاتے ہو اور کیوں لیے جاتے ہو۔ ایک فوجی نے کہا کہ یہ بڑا باغی مجرم ہے اس کو پھانسی دی جائے گئی تم اس سے آخری بارمل لو اب یہ دوبارہ تمہارے پاس نہیں آئے گا یہ سن کر یوسف کی ماں تو بے ہوش ہوکر گر پڑی۔

یوسف کی بیوی ابھی تک گھونگھٹ نکالے شرمائی ہوئی بیٹھی تھی فوجی کی یہ بات سن کر اس نے گھونگھٹ اٹھا دیا اور دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کھڑی ہوگئی ۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ نکلا۔ اس کے ہونٹ شدت غم سے لرز رہے تھے وہ منہ سے کچھ نہ بولی اور حسرت بھری نگاہوں سے یوسف کو دیکھنے لگی اور ٹکٹکی باندھ کر برابر دیکھتی رہی۔ یوسف بھی یہ منظر دیکھ کر بے تاب ہو گیا اور مایوس نظروں سے اپنی دلہن کو دیکھنے لگا۔ وہ بھی چپ تھا اور دلہن بھی چپ ۔ دلہن کی آنکھوں کا سرمہ آنسوؤں کے ساتھ بہ بہ کر سرخ وسفید رخساروں پر دھبے لگا رہا تھا اور یوسف کا چہرہ بھی یاس و ہراس سے زرد اور خشک ہو چکا تھا۔ یوسف اور اس کے چچا کے ہاتھ رسی سے باندھ دیے گئے اور سواران کو لے کر روانہ ہونے لگے تو یوسف کی دلہن نے بہت دھیمی آواز سے کہا ’’جاؤ میں نے مہر معاف کیا ‘‘

صبح کو یوسف اور اس کے چچا کو پھانسی دے دی گئی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں