بدھ, اگست 11, 2010

Ramazan ..۔رمضان المبارک

ذوالجلال والے اکرام کے مہینہ کا احترام کیجئے
Muhammad Shareef Nagpur
.....................................

یوں تو سارا زمانہ اللہ کا ہے۔ پوری کائنات تن تنہا اللہ ہی کی ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود تمام آسمانوں اور زمینوں کو اپنی ملکیت فرمائی ہے۔ ارشاد ہے للہ ما فی السموت ومافی الارض ترجمہ : ’’ جو کچھ آسمانوں او زمین میں ہے اللہ ہی کے لئے ہے ‘‘۔لیکن دنیا میں جن چیزوں کی نسبت اللہ کی طرف کردی جائے وہ بہت زیادہ قابل احترام ہوجاتی ہے۔ مثلاً بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر۔ ہر مسلمان پر بیت اللہ کا احترام واجب ہے۔ کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب قرآن پاک کا احترام ہر مسلمان کرتا ہے۔ نہ کوئی مسلمان بیت اللہ کی طرف پیر کرتا ہے نہ قرآن کی طرف۔ قرآن کی طرف تو کوئی پیٹھ بھی نہیں کرتا ۔ رسول اللہؐ یعنی اللہ کے رسولؐ کا احترام ہر مسلمان واجب سمجھتا ہے۔اسی طرح اولیاء اللہ یعنی اللہ کے ولی کا احترام بھی ہر مسلمان کرتا ہے حتیٰ کہ وفات کے بعد ان کی مزاروں کا بھی اکرام کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی رمضان المبارک کو اللہ کا مہینہ ہونے کی خصوصی شرافت حاصل ہے۔ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے الشعبان شھری والرمضان شھر اللہ (اوکماقال) یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔ اس لئے ہر مسلمان پر رمضان المبارک کا احترام واجب ہے۔رمضان المبارک میں روزے جو اسلام کی بنیادوں میں سے ہیں ، مسلمان کے لئے شعائر اسلام میں سے ہیں۔ اور شعائر اسلام کی تعظیم کرنے کو تقویٰ کی علامت بتایا گیا ہے۔ قرآن پاک میں ہے ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقویٰ القلوب ترجمہ : ’ جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ ان کے دلوں کا تقویٰ ہے ‘‘۔رسول اللہؐ خود رمضان المبارک کا انتظار فرماتے تھے اور رمضان تک پہنچنے کے لئے رجب اور شعبان ہی سے دعافرماتے تھے۔ آپؐ سے یہ دعا منقول ہے اللھم بارک لنا فی رجب والشعبان وبلغنا الیٰ رمضان ترجمہ : ’’ اے اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور رمضان تک ہمیں پہنچادے ‘‘۔

اب سنئے کہ رمضان کا احترام کیا ہے۔ رمضان میں دو خصوصی اعمال مسلمان پر عائد ہوتے ہیں ایک تو روزہ ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے سوائے مسافر اور مریض کے۔ روزہ ارکان اسلام میں سے ایک ہے حضورؐ کا ارشاد ہے بنی الاسلام علی خمسٍ شھادۃ ان الاالٰہ الااللہ والصلوٰۃ و صوم رمضان و زکوٰۃ والحج ترجمہ : ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اول اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز، رمضان کے روزے ، زکوٰۃ اور حج ‘‘۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے جس میں رمضان کی فضیلت بھی شامل ہے۔ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ترجمہ : ’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور جس میں حق و باطل میں تمیز کرنے کے لئے نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو اس مہینہ کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے ‘‘

اس حکم میں صرف دو لوگ مثتشنٰی کئے گئے ہیں ، ایک مسافر دوسرے مریض۔ مسافر بھی شرعی مسافر جس کی مقدار ۴۸! میل ہے اور وہ بھی اس زمانہ کے لحاظ سے بہت معمولی چیز ہے اس لئے ہمارے اس زمانہ میں مسافر کو بھی حتی الامکان روزہ رکھنا چاہئے نہ رکھ سکے تو اس کے بعد کسی اور مہینہ میں روزہ رکھنا ہوگا۔ اسی طرح ایسا مریض جس کے لئے دیندار ڈاکٹر یا حکیم روزہ کو منع کریں تو رخصت ہے چاہے بعد میں رکھ لے یا فدیہ دے دے ۔ یہ دونوں طبقات بھی اگر معذوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں تو ان کے لئے بھی رمضان کا احترام ضروری ہے کہ کھلم کھلا کھاتے پیتے نہ پھریں۔ اسی طرح چھوٹے بچے جو روزہ کا تحمل نہ کرسکیں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں بھی روزہ کے احترام کی عادت ڈالیں کہ وہ گھر میں جلدی سے چھپ کر کچھ کھا پی لیں اور باہر اپنا روزہ دار نہ ہونا معلوم نہ ہونے دیں۔ ہٹے کٹے مسلمان کھلے عام بازار میں کھاتے پیٹے نظر آتے ہیں ، مسلمانوں کے محلہ میں ہوٹلیں کھلی ہوتی ہیں۔ چائے کے ریسٹورینٹ اور پان کے ٹھیلے کھلے ہوئے بلکہ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی چیز ہے شعائر اسلام کی بے عظمتی ہے۔ اگر کوئی غیر قوم ہمارے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرے تو ہم مشتعل ہوجاتے ہیں لیکن ہم خود ہی توہین کررہے ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ ایسے ہوٹل والے، چائے کی دوکان اور پان کی دوکان والوں کو سمجھائیں کہ وہ دن میں اپنی ہوٹلیں بند رکھیں افطار کے بعد کھولیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ دن بھر ہوٹل بند رکھنے کے بعد بھی شام کے چند ہی گھنٹوں میں پوری روزی دے دے ۔ اگر کوئی ایک آدھ ہوٹل پورے مسلم ایریا میں کھلی بھی ہو تو مسافروں کی نیت سے اور اس طرح کہ سامنے پردے پڑے ہوئے ہوں۔ مسافر بھی پردہ کے ساتھ کھاپی لے۔ صحت مند مسلمان کا کھلے عام کھانا پینا، سڑک پر پان کھاتے پھرنا یا بیٹری سگریٹ پیتے ہوئے گذرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اسلامی حکومت کو ایسے شخص کے لئے قتل کا حکم ہے کہ یہ اللہ کے شعائر کی توہین کررہا ہے۔ اگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی صورت میں کوئی قتل نہ کرسکے تو یہ مطلب نہیں کہ بچ گئے بلکہ اللہ کا بے آواز کوڑہ اپنا کام ضرور کرتا ہے۔ اگر افراد ایسے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو ڈاکٹروں کے ذریعہ ان کا کھانا پینا بند کرادیاجاتا ہے اور مجمع جب عام طور پر رمضان کی توہین کرتا ہے تو قحط سالی، فسادات اور سیلاب جیسے مصائب ڈال کر، بغیر روزے کے اللہ انہیں بھوکا اور پیاسا رکھتا ہے۔ اس لئے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لئے روزوں کا اہتمام کریں جس میں اپنا ہی نفع ہے۔
دوسرا اہم عمل رمضان المبارک میں تراویح کی نماز ہے۔ روزانہ عشاء کی نماز کے بعد ۲۰! رکعت نماز پڑھنا سنت موکدہ (قریب واجب) ہے۔ بہت سے لوگ رمضان کے صرف ابتدائی ایام میں تراویح پڑھتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں اور آخری کے چند روز پڑھ لیتے ہیں۔ بعض لوگ ایک نومولود مسلک اہل حدیث کہلانے والے مسلک کی اقتداء کر کے صرف آٹھ رکعت پر اکتفا کرتے ہیں۔ جو مسلک خیر والقرون میں وجود میں آنے کی بجائے ۱۲! سو سال کے بعد وجود میں آیا ہو وہ حق کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ حضورؐ کا ارشاد ہے خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم یعنی بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر اس کے بعد کا اور پھر اس کے بعدکا ۔ یہ مسلک تو مسلمان کے ۴! مسلکوں پر اجماع کو توڑنے کے لئے باطل کی سازش ہے۔ اس لئے تمام مسلمان ۲۰! رکعت تراویح کا اہتمام کریں۔ باقی پنج وقتہ نمازوں کو بھی اس اہتمام سے پڑھیں کہ پورا سال نماز کے اہتمام کی توفیق ہو۔ تراویح میں قرآن پاک سننے کے ساتھ ساتھ ویسے بھی ناظرہ قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ اور جو بھی خیر کا کام زیادہ سے زیادہ اس مہینہ میں کرنے کی کوشش کریں۔ اس ماہ میں نوافل کا ثواب فرض کے برابر اور فرج کا ثواب ۷۰! فرائض کے برابر کردیا جاتا ہے۔ اس ماہ کاپہلا عشرہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا آگ سے خلاصی کا عشرہ ہے۔ یہ مہینہ اللہ سے اپنے تعلق کو بڑھانے کے لئے عطا ہوا ہے۔ خوب اللہ کی طرف متوجہ ہوں دعاؤں کا اہتمام کریں۔ خصوصاً افطار اور تہجد کے وقت دعاؤں میں سستی نہ کریں۔ صدقہ و خیرات کی کثرت کریں۔ اور ہر طرح کی خیر اس ماہ میں سمیٹنے کی کوشش کریں کیا پتہ یہی رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


1 تبصرہ:

  1. Roza aur Niyyat
    Part 1
    http://www.youtube.com/watch?v=CVa0vuIe_L0

    Part 2
    http://www.youtube.com/watch?v=gfXCBhAwCFM

    Part 3
    http://www.youtube.com/watch?v=u9VkUjleLUs

    جواب دیںحذف کریں