جمعرات, اپریل 22, 2010



اے مِرے دل
نظم
غزالہ امرین
uuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuuu
اے مِرے دل دور چل 
بہت دور 
جہاں کو ئی نہ ہو 

جہاں بندش نہ ہو 
نہ ڈر ہو 
جہاں شکوہ نہ ہو کسی سے ،
بلند و پست کا سایہ نہ ہو جہاں 
نہ رنگ و نسل کا امتیاز کو ئی ،
گناہ ہو 
نہ گناہوں پہ کو ئی پچھتاوہ 
آ نسوؤں کی بارش ہو 
نہ ما یو سیوں کی زرد دھوپ 

اے مِرے دل دور چل 
بہت دور 
جہاں کو ئی نہ ہو 

جہاں محفل میں رہ کر بھی
 کو ئی کبھی تنہا نہ ہو 
جہاں نہ بھیڑ کی گھٹن ہو
 نہ بھیڑ میں کھونے کا ڈر ستائے 


جہاں ہر طرف
 آ سودگی ہو رقصاں
ہر طرف خو شی ہو 

جہاں لالچ نہ ہو ،ہوس نہ ہو
ہو جہاں 
اُنس محبّت اور وفا 
جس زمیں پر کو ئی بے وفا نہ ہو 

اے مِرے دل دور چل 
بہت دور 
جہاں کو ئی نہ ہو 

جہاں پھولوں کی خوشبوؤں کے
 ڈھیر ہوں 
جہاں بکھر اپڑا ہو خزانہ چاندنی کا
جہاں مستی ہو ،رعنائی ہو 
 ہر خواب کی تعبیر ہو ، خوشی ہو

کیا کبھی آپ نے 
 دیکھی ہے ایسی سر زمیں 
جہاں میں اور 
میرا یہ بے چین دل 
قدم رکھ سکے ؟




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں