منگل, جون 16, 2009

الماس سیّد کی امتیازی کامیابی



اس سال مہاراشٹر میں ایچ ۔ایس ۔سی بورڈکے امتحان میںشہر ناگپور کی ایک طالبہ الماس سیّد نے اوّل مقام حاصل کرکے اور پی ایم ٹی کے امتحان میں امتیازی کامیابی حاصل کر کے پورے علاقے میں حیرت اور مسرّت کی ایک لہر دوڑادی ۔
بورڈ امتحان میں اس امتیازی کامیابی کے بعد الماس نے MH-CET امتحان میں بھی ودربھ میں دوّم اور ناگپور ڈیویژن میں اوّل مقام حاصل کیا ۔اس انٹرنس امتحان میں الماس نے ۲۰۰ میں سے۱۹۴ نمبرات لئے ہیں ۔ 

شری شیواجی سائنس کالج ناگپور کی طالبہ الماس سیّد نے سینٹ جوزف کانوینٹ سے ایس ایس سی کا امتحا ن پاس کیا تھا تو ۹۳ فیصد نمبرات حاصل کئے تھے ۔ الماس سیّد کی اس غیر معمولی کامیابی پر گذشتہ دنوں جہاں شہر کی متعدّد سماجی اورتعلیمی انجمنوں کی جانب سے استقبال اوراعزازات کا تانتا بندھ گیا وہیں ممبئی کے معروف ادارے انجمنِ اسلام نے الماس کو الما لطیفی ہال میں ۰ا گرام گولڈ میڈل اور پچاس ہزار روپئے کے چیک سے نوازا اور اس کے والدین کے ساتھ الماس کا پر جوش خیر مقدم کیا ۔ 
الماس سیّد شہر ناگپور کے ایک معزّز خاندان کی چشم و چراغ ہے ۔ اس کے والدین پیشے سے ڈاکٹر ہیں ۔ والد ڈاکٹر سیّد ناظم ( جنرل فزیشین) اور والدہ ڈاکٹر شفیقہ ناظم( گائناکولوجسٹ) کے علاوہ اس کے حقیقی چچا ڈاکٹر سیّد الیاس مشہور ماہر سرجن ہیں اور نہ صرف سرجری کے میدان میں اپنے حیرت انگیز کارناموں سے اخباروں کی سرخیوں کا حصّہ بنے رہے بلکہ گذشتہ برسوں میں لندن میں پیش آ ئے بم دھماکوں کے دوران بھی ان کے خدمات کو لندن کے اخباروں میں سراہا گیا۔الماس سیّد کے دادا مشہور شاعر سیّد یونس مرحوم، اپنے ان اشعار کے حوالے سے اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں ۔
وقت وعدوں کا سخت دشمن ہے آدمی بے وفا نہیں ہو تا۔
قتل کر نا ہو تو کب زہر دیا جاتا ہے ان دنوں بس نظر انداز کیا جا تا ہے۔
ان کا ایک شعری مجموعہ’ انکشاف‘ منظرِ عام پر آیا جسے مہاراشٹر اردو اکادمی نے انعام سے نوازا تھا۔اسی طرح الماس سیّد کی دادی صفیہ سلطانہ بھی شہر ناگپور کی خواتین افسانہ نگاروں میں شامل ہیں ا ن کی کہانیوں کا مجموعہ’ دل کے آنگن‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ غرض،
ایں خانہ ہمہ آفتاب است ۔ 

اس تعلیم یافتہ گھرانے کی پر وردہ الماس سیّد نہایت منکسرالمزاج اوربا اخلاق ہونے کے علاوہ نہ صر ف نمازوں کی پابند ہے بلکہ کلامِ پاک کی تلاوت اس کے معمولات میں شامل ہے۔ وہ بھی اپنے والدین کی طرح ڈاکٹر بن کر خدمتِ خلق کے لئے خود کو وقف کر نا چاہتی ہے ۔ امتحان کی تیّاری کے دوران اس نے زیادہ سے زیادہ وقت اپنی پڑھا ئی پر صرف کیا ۔ انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کر نے کے علاوہ بچپن میں قران مجید سیکھتے ہو ئے اس نے اپنے اندر اتنی استعداد پیدا کر لی کہ وہ اردو بہ آ سانی پڑھ سکتی ہے ۔ جہاں مسلم طلبا غیر مسلم ادروں میں تعصّب کا رونا روتے ہیں وہیں الماس نے ہمیں انٹر ویو کے دوران بتایا کہ نہ صرف میٹرک کے دوران مشنری اسکول کے اساتذہ نے اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ کالج کے پڑھائی کے دوران بھی بغیر کسی بھید بھاؤ کے اسے اپنے اساتذہ کی رہنمائی حاصل رہی ۔ وہ ابتدا ہی سے میڈیکل لائن میں اپنا کریر بنا نا چاہتی تھی ۔
الماس سیّد کی یہ غیر معمولی کامیابی یقیناً مسلم طلبا و طالبات کے مشعلِ راہ ہے بلکہ مایوسیوںکا شکار طلبا کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ محنت ، لگن اور منزلوں کی جستجو کا حوصلہ راستوں کے دشواریوں کا مداوا بن جاتا ہے بس ایک قدم اٹھا نے کی دیر ہے۔ 


1 تبصرہ: