اتوار, مئی 03, 2009

Ulti Seedhi Ghazal ,Bachchon ke liyeالٹی سیدھی غزل

الٹی سیدھی غزل
 
محمّد اسداللہ
قلم پنجرے میں اٹکا ہے 

میرے پنجے میں چوہا ہے 

پڑھاتے ہیں سبھی بچّے 

مدرّس پڑھتا رہتا ہے 

دیا آکاش میں جلتا 

ستارہ گھر میں چمکا ہے 

چلی ہے ناؤ بادل میں 

ندی میں چاندبہتاہے 

ہوا بستے میںٹھہری ہے 

قلم کاغذ پہ اُڑتا ہے 

میرے ہونٹوں پہ سِم سمِ ہے 

ہر اک دروازہ کھلتا ہے 

ہمارے پاؤں بے حرکت 

مگر رستہ تو چلتا ہے 

دکھا ئی کچھ نہیں دیتا 

مگر کوئی ہے لگتا ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں