Saturday, September 06, 2008

Maulana Abul Kalam Azad


میرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد
School Essay 
Maulana Abul Kalam Azad  

اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔ 
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ 
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۱۹۲۳ کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں

 کہا تھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔ 
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیںمیرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد 
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔ 
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ 
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۳ ۱۹۲؁ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا:
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔ 
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیںمیرا پسندیدہ رہنما ۔ مو لانا ابوالکلام آ زاد 
اس دنیا میں ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لو ہا منوایا ۔ ملک و قوم کے لئے انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں ، ایسی عظیم شخصیات کے کارنامے آج بھی تاریخ کے صفحات پر سنہری حرفوں سے لکھے ہیں ۔ ان میں سیاسی رہنما ، سماجی خدمت گار ،مذہبی پیشوا، مفکّر ،شاعر ادیب وغیرہ سبھی ہیں ۔ ایسے ہی لو گوں کے بارے میں شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے کہا تھا ۔ 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 
ہمارے ملک کی ایسی ہی عظیم اور مثالی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد،میرے پسندیدہ رہنما ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا آ زاد ایک سیاسی رہنما اور مجاہدِ آزادی ہی نہ تھے بلکہ ایک تعمیری سوچ رکھنے والے شعلہ بیان مقرر اور بیدار ذہن علمَِ دین بھی تھے ۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کئی شعبوں کا احاطہ کئے ہو ئے تھی ۔ وہ ایک بے مثال مفکّر ،مدبّر ،مفسّرِ قرآن،دانشور ، ادیب و صحافی بھی تھے ۔ انھوں نے اپنی ان خدا داد صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے استعمال کیا ۔
مولاناآزاد کے آ باء و اجداد شہنشاہ بابر کے زمانے میں افغانستان سے یہاں آکر آ باد ہوگئے تھے ۔ مولانا آزاد ۱۱! نومبر ۱۸۸۸ میں مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ۔اسی تعلیم و تربیت کا اثر تھا علم و ادب سے انھیں گہرا شغف رہا ۔ انھیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔ انھوں نے کم عمری ہی میں علم و ادب کی تصنیف کا سلسہ شروع کردیا تھا اور ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خاصے مشہور ہو گئے تھے ۔جب انھیں ایک علمی تقریب میں مدعو کیا گیا اور وہ وہاں پہنچے تو مولانا آ زاد کو دیکھ کر لو گ یہ سمجھے کہ یہ مولانا آزاد کے بیٹے ہیں ۔ ان کی خدا داد ذہانت اور صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ سروجنی نائیڈو نے ان کے متعلق کہا تھا کہ مو لانا ابوالکلا م آ زاد جب پیدا ہو ئے تو پچاس سال کے تھے ۔ 
مولانا آ زاد نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ جنگِ آ زادی کی کئی تحریکو ںمیں حصّہ لیا اور کئی مرتبہ جیل گئے ۔پنڈت جوہر لعل نہرو انھیں’ میرِ کارواں‘ کہا کرتے تھے ۔ مولاناآ زاد نے پندرہ سال کی عمر میں کلکتّہ سے رسالہ’ لسان الصدق ‘جاری کیا تھا ۔ انھوں نے’ الہلال‘ اور’ البلاغ‘ جیسے رسائل شائع کر کے ہندوستان کی عوام کے دلوں میں آزادی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا کیا ۔
مولانا آ زاد ایک صاحبِ طرز ادیب بھی تھے ۔ان کا اسلوبِ نگارش نہایت دلکش تھا ۔ ان کی تحریر میں عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ فارسی اشعار کا کثرت سے استعمال ہوا کر تا تھا ۔ ان کے اسی طرزِ تحریر کی وجہ سے علمی حلقوں میں ان کی شخصیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا ۔جنگِ آزادی کے دوران جب انھیں احمد نگر کی جیل میں قید کیاگیا تھا وہاں انھوں نے جو خطوط لکھے وہ بعد میں ’غبارِ خاطر‘ کے نام سے شائع ہو ئے ۔ یہ دلچسپ اور معیاری خطوط ہمارے ادب کا حصّہ ہیں ۔ اس کتاب کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ 
ان خطوط سے پتہ چلتاہے کہ مو لانا کی شخصیت کتنی پہلو دار تھی ۔ ان کے سینے میں ایک حسّاس اور درد مند دل تھا جونہ صرف انسانوں بلکہ جانداروں کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔
مولانا آ زاد قومی یکجہتی کے زبردست حامی تھے ۔ مطالبۂ پاکستان کی پر زور مخالفت کر نے والوں میں ان کا نام سرِ فہرست ہے ۔
۱۹۲۳ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس میں انھوں نے سب سے کم عمر صدر کی حیثیت سے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا:
"آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اترآ ئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج 24 گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتّحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بر دار ہو جا ؤں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہو ئی تو یہ ہندوستان کا ن٘قصان ہو گا لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے ‘‘(خطباتِ آ زاد) ۔مولانا آ زاد کسی بھی قیمت پر قومی ایکتا کو قائم رکھنا چاہتے تھے ۔''
مولانا آ زاد کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم ہو نے کا شرف حاصل ہے ۔ اس وقت ملک کئے حالات ایسے نہ تھے کہ کو ئی آ سانی سے تعمیری کام انجام دے سکے اس کے باوجود مولانا نے مفت پرائمری تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے لئے یونی ورسٹی گرانٹ کمیشن کے قیام پر زور دیا ۔ مولانا نے تعلیم کے میدان میں جو کارنامے انجام دئے اس نے آ زاد بھارت کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 
مولاناآزاد جیسے عظیم لوگ صدیوں میں کبھی کبھا ر ہی پیدا ہو تے ہیں ان کی زندگی ، ان کے خیالات اور کارنامے ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ۔
مت سہل ہمیں جانو ،پھر تا ہے فلک بر سوں
تب خاک کے پر دے سے انسان نکلتے ہیں










2 comments:

  1. بہت اچھا لکھا آپ نے اسد صاحب۔

    مولانا آزاد میری بھی پسندیدہ شخصیت اور پسندیدہ ادیب ہیں اور 'غبارِ خاطر' کا تو میں قتیل ہوں۔

    ان جیسی نابغہ روزگار شخصیت بھی چشم فلک نے کم ہی دیکھی ہوگی۔

    ReplyDelete
  2. اظارِ خیال اور حوصلہ افزأی کے لٔے شکریہ
    محمّد اسد اللہ

    ReplyDelete