سوموار, اپریل 30, 2012

Maharashtra Day...یکم مئی.. یومِ مہاراشٹر..Yakum May Yaume Maharashra..


 یکم مئی 
یومِ مہاراشٹر

از 
محمّد اسد اللہ 
    Muhammad     Asadullah


یکم مئی مہاراشٹر میں اس ریاست کے قیام کی یاد میں منایا جا تا ہے ۔یکم مئی 1960 کو سابق بامبے اسٹیٹ کو مہاراشٹر اور گجرات ان  دو صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔  تقسیمِ ہند کے بعد لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تقسیم عمل میں آ ائی تھی ۔
یہ تقسیم Bombay    re-organization  Act  کے تحت عمل میں آ ئی تھی ۔
ہندوستان جب آ زاد ہواتو مغربی ہندوستان میں بومبے ایک الگ ریاست کے طور پر وجود میں آیا ۔1950 میں
a Samiti  Samyukt  Maharashtr aنے لسانی بنیاد پر ایک علاحدہ ریاست کا مطالبہ کیا اس اندولن میں سو سے زیادہ لوگوں کو اپنی جان قربان کر نی پڑی۔ہر چند آزادی سے قبل کانگریس پارٹی نے لسانی بنیادوں پر ریاستوں کے قیام کی حمایت کی تھی لیکن مراٹھی بولنے والے علاقے کو ایک الگ ریاست بنانے کے مطالبے کو ایک تحریک چلانی پڑی اور آ خر کار یکم مئی 1960 کو یہ خواب پو را ہوا ۔

بومبے جو بعد نام کی تبدیلی کے سبب  ممبئی کے نام سے موسوم ہوا ،ریاست مہاراشٹر کا ایک اہم شہر ہے اور اس ریاست کی راجدھانی بھی ہے ۔مہاراشٹر کی دوسری راجدھانی وسط ہند کا شہر ناگپور ہے جو سنتروں کی پیداوار کے لئے مشہور ہے۔ مہاراشٹرودھان سبھا  کا سرمائی  اجلاس بھی یہیں ہوتا ہے ۔ 
ممبئی نے فلمی صنعت کے سبب خوب نام کمایا،ریاست کی راجدھانی ہونے کے علاوہ تجارت،اور روزگار کے بے شمار وساْل ہو نے کے سبب ملک بھرسے لوگ یہاں سمٹ کر آ ئے اور اس شہر نے انھیں اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔


ریاست مہاراشٹر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ یہاں کے باشندوں میں جہاں ناسک کے انگوروں کی شیرینی ہے وہیں ناگپور کے سنتروں کی مٹھاس بھی ہے ۔علاقہ ودربھ جو کپاس کی پیداوار کے لئے مشہور ہے ۔یہاں کے لو گوں میں سادگی اور کر دار کا اجلا پن بھی ہے ۔مہاراشٹر میں اجنتا ایلورا جیسی قدیم تہذیبی وراثت بھی ہے ۔ 
مراٹھی اس ریاست کی سر کا ری زبان ہے اس زبان کا ادب خاص طور پر ڈرامائی ادب اور طنز و مزاح اس کی امتیازی خوبیوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ 

خدا نے اس زمیں پر مختلف ذاتوں اور قبیلوں کو اس لئے وجود بخشا تاکہ ہم ایک دوسرے کو پہچان سکیں اور ہماری یہ شناخت ہمیں زندگی کی دوڑ میں آ گے بڑھنے میں معاون ثابت ہو سکے ۔ ہم لسانی اور علاقائی بنیاد پر لڑنے اور ٹکراو پیدا کر نے کے بجائے اس رنگ برنگی تہذیب کا ایک حصہ بن کر اختلافِ رنگ و بو کو چمن کی زینت بننے میں معاون ثابت ہوں ۔

1 تبصرہ:

  1. اسلام علیکم ،
    مکرمی ، آپ کا بلوگ دیکھا ، کافی مفید معلوم ہوا ، اور یہ جان کر کافی خوشی ہوئی کہ آپ کا تعلق بھی مہاراشٹر سے ہے۔ میں بھی اردو کے لحاظ سے انتہائی پسماندہ علاقے منماڑ سے ایک شمع اردو نقوش سخن نامی بلوگ کے ذریعے روشن کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
    www.nuqoosh.blogspot.com
    شعر و ادب کے علاوہ اردو کمپیوٹنگ کا بھی خبط ذہن پر سوار ہے اور بلاگس کی دنیا میں ایک عدد بلاگ اردو کمپیوتنگ اور بلاگنگ ٹرکس کو لے کر یہ بندہ بھی ٹیکنیکل بلاگرس کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی جرائت کر رہا ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
    www.saifsstuff.blogspot.com

    دعائے خیر کا طالب
    ڈاکٹر سیف قاضی

    جواب دیںحذف کریں