بدھ, مئی 11, 2011

hazal....Izhare Ishq Karte Hain Jooton Se Mar Ke


ہزل

محمّد اسد اللہ

ناگپور

اظہارِ عشق کرے ہیں جو توں سے مار کے

معنی بدل گئے ہیں یہاں کل سے پیا ر کے

سر ہے وبالِ جان تو اس کی بھی ہے دوا

رکھ دیتے ہیں ہمارے یہاں سر اتا ر کے

ہیں مبتلائے حالتِ فکرِ معاشِِ بد

سب تھک گئے ہیں قوم کی حالت سدھار کے

سن رکھ کہ کان پو ر میں ہڑ تال ہو گئ

سن سن کے یہ تقاضے ترے بار بار کے

کچھ ایسا کر کہ تو بھی اسے بے قرار کر

سنتا نہیں وہ نا لے دلِ بے قرار کے

ہم نقدِ جاں لئے ہو ئے بس سوکھتے رہے

سپنے وہ لے کے چل دیا ان سے ادھار کے

پبلک میں کیا سدھار ہے ہر گز نہ پو چھئے

لیڈر کے رخ پہ دیکھئے جلوے نکھا رکے

دانے گرے تو پیڑوں سے سارے اتر پڑے

پنچھی بنے ہو ئے ہیں سبھی ایک ڈار کے

کیونکر زبانِ درازی ِ بلبل و گل رکے

دیکھے ہیں سب نے فائدے چینخ و پکار کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں