بدھ, اگست 19, 2009

Ghazal - Rastay Manzilon Ke


غزل
محمّد اسد اللہ

راستے منزلوں کے نو حہ گر

منزلیں راستوں کے ماتم میں



زندگی دم بہ دم یہی طوفاں

تم ہراساں ہو ئے ذرا دم میں



خاک پیروں تلے وہی لیکن

سانس لیتے ہیں اور عالم میں



رات رانی سا تو مہکتا ہے

میری یادوں کے
سبز البم میں



ایک شمعِ امیدِ صبح تو ہے

اس پگھلتی ہو ئی شبِ غم میں


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں