Wednesday, March 03, 2010

Ladkiyon Ki Taleem Aur Nae Halat تعلیمِ نسواں



تعلیمِ نسواں اور بدلتے ہؤے حالات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لمحۂ فکریہ 

انعام الرحیم، ناگپور 
کککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککککک

اس کائنات کا تمام تر نظام مکمّل طور پر اعتدال اور توازن پر قائم ہے ۔خالقِ کائنات نے قرآن کریم میں اور سرورِ کائنات ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے اوراعتدال اور میا نہ روی کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے ۔
قدرت نے سماج کو مرد و زن میں تقسیم کیا ہے اور ان دونوں کی تعلیم و تربیت ،ضروریات ،حقوق و فرائض ،اور دائرۂ کار کا تعین ان دونوں کی فطری ساخت کے مطابق کیا ہے ۔اسی وجہ سے پوری کائنات اعتدال پر قائم ہے ۔اگر انسان قدرت کے متعین کردہ دائرۂ اختیار سے نکل کر خود کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط پر سماجی و معاشرتی نظام کوکھڑا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ کا فطری توازن خود بخود بگڑ نا شروع ہو جائے گا اور سماجی زندگی بکھراؤ کا شکار ہو جائے گی جس کا مشاہدہ ہم دورِ حاضر میں کر رہے ہیں ۔ 

بین الذات شادیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
INTERCASTE MARRIAGE

گذشتہ چند برسوں میں شہر ناگپور میں ایک مسلم انجینئر لڑکی اور ایک ڈاکڑ لڑکی نے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ غیر مسلم رسم و رواج کے مطابق شادی کرکے ہندو مذہب کو اختیار کرلیا ۔ اس واقعہ نے ہر ذی ہوش مسلم کے دل کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف اس شہر میں بلکہ ملک گیر پیمانے پر اس قسم کے بیشمار واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔اور ان میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے اس کے باوجود مسلم والدین میں بین الذات شادیوں کو جدید تہذیب کا حصّہ سمجھ کر بخوشی قبول کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مسلم لڑ کیوں کا بین الذات شادیوں MARRIAGE INTERCASTE 
کا تناسب دوسری قوموں کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر قلم اٹھانا پڑا۔

تحریکِ آزادیِ نسواں کے اثرات 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دورِ جدید میں مساواتِ مرد و زن ،عورتوں کی تعلیم و تربیت ،عورتوں کے حقوق ،روزگار ،معاش ،اور ان کی آزادی کو بنیاد بنا کر عالمی پیمانہ پر کئی تحریکیں چلائی جاتی رہی ہیں جن میں ایک نام نہاد تحریک، تحریکِ آزادیِ نسواںWOMEN'S LIBERATION بھی ہے ۔اس تحریک کا محرّک کون ہے ؟اس کی جائے پیدائش کیا ہے ؟اور اس تحریک کی غرض و غایت کیا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جانے بغیر امّتِ مسلمہ کا ہر خاص و عام اس کی تقلید کر رہا ہے۔مسجدوں کے منبر و محراب ، مسلم محلّوں ،گلی کوچوں اور چھوٹے بڑے جلسوں میں بھی اس کی حمایت میں آوازیں سنائی دیتی ہیں۔اس تحریک کی تبلیغ میں علماء، دانشور،مفکّر ، ادیب، شاعر،سرپرست ، اساتذہ اور مصلحینِ قوم اس قدر منہمک ہوئے کہ قوم کے لڑکوںکو عضوِ ناکارہ سمجھ بیٹھے ، ان پر تعلیم و تربیت، ،معاش،روزگار،حقوق و فرائض ،اخلاق و اصلاح وغیرہ کے دروازے دانستہ یا نادانستہ طور پر بند کردئے گئے ۔امّتِ مسلمہ کے نوجوانوں کی کثیر تعداد آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے کہ الاماں والحفیظ ۔یہ نوجوان اس کے نتیجے میں جس بے راہ روی کی طرف جا رہے ہیں ان سے کو ئی قبیح فعل ایسا نہیں بچا جس کا ارتکاب انہوں نے کیا نہ ہو۔ ذرائع ابلاغ میں امّت کے ان نوجوانوں کے کارناموں کا کافی چرچا ہے ۔یہ صورتِ حال امّتِ مسلمہ کے حق میں نہایت خطرناک ہے۔ عالمی تحریکِ آزادیِ نسواں ،مساواتِ مرد و زن کی جدّو جہد اور موجودہ تعلیمی نظام اور ماحول کا جو ردِّ عمل ان نوجوانوں میں ظاہر ہورہا ہے اس کے نتیجہ میں ان میں اپنی تہذیبی قدریں ،شرم و حیا ،ادب لحاظ اور احترام سب کچھ مٹتا جا رہا ہے ۔ موجودہ تعلیمی نظام کا تربیتی و اصلاحی پہلو سے خالی ہونا،اس خرابی کا ایک اہم سبب ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂ 


جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن 
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت 


الحاد اور بے راہ روی 

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم 

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ 


انگریزوں کی آمد کے بعد مغربی تہذیب کو جو زبردست فروغ حاصل ہوا اس نے ہندوستان کے سبھی ریفارمرس کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔مسلم علماء اور دانشوروں کے سامنے اس وقت کفر و الحاد اور مغرب پرستی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے راہ روی ،آوارگی اور جنسی انارکی ایک زبردست فتنہ کی شکل میں منہ پھاڑے کھڑی تھی۔ آزادی کے بعد امّت کا ایک بڑا طبقہ اس الحاد کے معاملہ میں کسی حد تک بے فکر سا ہوگیا اس کا سبب شاید یہ بھی رہا ہو کہ ہمارے سماج میں اپنی تہذیبی قدروں کی بازیافت کا شعور پیدا ہوا اور مختلف مذہبی تحریکوں نے ہمارے اندر دین کو مضبوطی سے تھامنے کا جذبہ پیدا کردیا چنا نچہ الحاد سے کسی حد تک امن نصیب ہوا ،لیکن آج شعبۂ تعلیم میں تعلیمِ نسواں کے فروغ اور مخدوش ماحول نے الحاد کے اس سوئے ہوئے جن کو دوبارہ جگا دیا ہے ۔ 
معاشی عدم استحکام کے اثرات 
موجودہ دور میں ہر قوم میں تعلیمِ نسواں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اس کی ایک اہم وجہ معاشی عدم استحکام بھی ہے ۔ بڑھتی ہوئی ضروریاتِ زندگی اور اچّھے رشتوں کی تلاش بھی اس کا ایک محرّک ہے ۔لڑکی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بر سرِ روزگار ہونا اس کے مستقبل اور خوشحال ازدواجی زندگی کا ضامن سمجھا جاتا ہے جو ہرحالت میں صحیح ثابت نہیں ہوتا ۔چونکہ لڑکیوں کے معاشی استحکام کو ان کی فطری ضروریات کا متبادل سمجھاجانے لگا ہے ،معاشی ا ستحکام نے لڑکیوں اور ان کے والدین میں انانیت پیدا کردی ہے جس نے زندگی سے مفاہمت کے سارے دروازے بند کر دئے ہیں ۔بے جوڑ رشتے قائم ہونے لگے ہیں جن میں معمولی کھٹ پٹ سے بکھراؤ پیدا ہوجاتا ہے ۔

یہ سچ ہے کہ تعلیمی بیداری نے لڑکیوں میں تعلیم کا گراف کچھ اونچا کردیا ہے لیکن دوسری طرف مسلمانوں میں لڑکے تعلیم کے میدان میںپسماندگی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ مسلم طلباء میں تعلیم کے شعبہ میں آگے بڑھنے والوں کی شرح اسقدر کم ہے کہ اس معاملہ میں اربابِ حل و عقد اور مصلحینِ قوم کو فکر مند ہوکر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے ۔  لڑکیوں کے کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے سے لڑکوں کو جن خرابیوں میں مبتلا کیا ہے ان میں ان کا کام چور ہونا ،کاہلی ، غیر ذمّہ داری ہٹ دھرمی اورتشدد پر آمادہ ہونا اہم ہیں ۔تصوّر کیجئے ایک ایسی قوم کا جس میں بیشمار لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور چند نوجوان پڑھے لکھے ہیں ۔کیا یہ عدم توازن ایک فتنہ بن کر نہیں ابھرے گا ۔ کیا اس صورتِ حال سے ایک صحت مند معاشرہ کی توقّع کی جا سکتی ہے ؟
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طویل مدّتی تعلیم کے لڑکیوں پر اثرات
،،،،،،،،،،،،،

دورِ حاضر میںلڑکیوں کے والدین یا سرستوں نے لڑکیوں کو قومی اثاثہ سمجھ کر اپنی ضروریات ، و خواہشات،اور جذبات کی تسکین کا بوجھ ان کے کمزور کاندھوں پر ڈال دیا ہے اور اپنے ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے طالبات کو طویل مدّتی پروفیشنل کورسسیس میں داخلہ دلوا کر ان کی زندگی اور عمر کے اہم حصّہ کو داؤ پر لگا رہے ہیں ۔اسی لئے ان لڑکیوں میں چڑچڑا پن ،افسردگی،اور نفسیاتی امراض گھر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ عوامل بعض اوقات انھیں سماج سے بغاوت پر بھی آمادہ کردیتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ بین الذات شادیوں کا رواج ہماری قوم میں بھی وبا کی طرح پھیلنے لگا ہے ۔ تربیتی ،اخلاقی و اصلاحی زیور سے آراستہ بے شمار لڑکیاں جبراً صبر کرکے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئیں ۔یہ تمام باتیں رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات سے سراسر انحراف ہے ۔ اسی لئے اس کے برے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ لڑکیوں کے بالغ ہونے پر ان کے نکاح میں جلدی کرو ،ورنہ سماج میںجو فتنہ و فساد برپا ہوگا اس کی ذمّۃ داری والدین پر ہوگی ۔

چند تجاویز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں طالبات کی تعلیم پر توجّہ دی جا رہی ہے وہیں طلبا کی تعلیمی پسماندگی کا بھی کچھ علاج کیا جائے۔ 

۲۔قوم کے ہمدرد اور مصلحین اس مسئلہ پے سنجیدگی سے غور کریں اور ایسے ادارے قائم کریں جہاں صرف لڑکیوں کی تعلیم کا ،انتظام ہو اور وہ ہر طرح کی بے راہ روی اور گمراہیوں سے محفوظ رہ کر تعلیم حاصل کر سکیں ۔

۳۔ ہمارے مسلم اداروں میں سے بھی اکثرکو اس بات کی قطعی پروا نہیں ہوتی کہ وہاں موجود خراب نظامِ تعلیم اور دیگر بد انتظامیوں کی وجہ سے قوم کی بیٹیوں کووہ گمراہیوں کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں ۔ اس سلسہ میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ 

۴۔ موجودہ صورتِ حال میں لڑکیوں کے سر پرستوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ تعلیمی ، معاشی اور نسبی معیار کو چھوڑ کر زند گی سے مفاہمت کو ترجیح دیں ۔

۵۔ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل کورسیس میںداخلہ دلوانے سے پہلے لڑکیوں کی فطری ساخت اور اسلامی نقطۂ نظر کا بھی خیال رکھیں 

۔ مذکورہ کورسیس طویل مدّتی نہ ہوں ۔

۷۔ کالج کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہاں کا ماحول صاف ستھرا ، بے راہ روی اور آوارگی سے پاک ہو ۔
۸۔ ایسے کالج کو ترجیح دی جائے جہاں لڑ کوں اور لڑ کیوں کے اختلاط کی گنجائش کم ہو ۔ 

۹۔لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے قلیل مدّتی کورسیس مناسب ہیں اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کورسیس معاش و روز گار سے منسلک ہوں تاکہ وہ جلد از جلدمعاشی اعتبار سے مستحکم ہوسکیں ۔ 

۱۰۔ لڑکیوں کو خواہ وہ اسکول میں زیرِ تعلیم ہوں یا کالج میں ان کے اوقات اور مصروفیات کی خبر گیری نہایت ضروری ہے۔ والدین کو ان کے ساتھیوں اور ملاقاتیوں کا علم بھی ہونا چاہئے ۔

امّتِ مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ اس صورتِ حال سے امّت کو باہر نکالنے کی کوشش کرے ۔ ملک گیر پیمانے پیمانے پر ایک ایسی تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے مسلم لڑکوں اور نو جوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا جاسکے اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے لئے انھیں آمادہ کیا جائے تاکہ ہماری معاشرتی زندگی میں جو عدم تواز ن بڑھتا جارہا ہے اسے توازن میں بدلا جا سکے۔

تتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت


Saturday, February 27, 2010

On Eid E Milad سیرتِ رسول



محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی
محمّد شریف ،ناگپور

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ ، والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ، تراھم رکعاً سجداً یبتغون فضلاً من اللہ ورضوانا ، سیماھم فی وجوھھم من اثراالسجود ، ذالک مثلھم فی التوراۃ و مثلھم فی الانجیل کذرغٍ اخرج شطہ فازرہ فاستغلظ فاستوٰی علٰی سوقہ یعجب الزرع لیغیظ بھم الکفار ، وعداللہ الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات منھم مغفرۃ واجراً عظیماً ۔ 

ترجمہ : ’’ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جولوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کفار پر بہت شدید اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ تم دیکھوگے کہ کبھی رکوع میں ہیں اور کبھی سجدے میں۔ اللہ کی طرف سے اس کے فضل اور رضا مندی کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ تم ان کے چہروں پر کثرت سجود کے نشانات دیکھ سکتے ہو۔ یہ ان کی مثال توراۃ میں بیان کی گئی ہے اور انجیل میں ان کی یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ شروع میں وہ بہت کمزور جیسے کہ کونپل نکلتی ہے پھر وہ اپنے تنہ پر سیدھی کھڑی ہوتی ہے اور تناور درخت بن کر کسانوں کو بھی تعجب میں ڈالتی ہے ایسے یہ صحابہ ہیں شروع میں کمزور پھر ایسے قوی کہ کفار دیکھ کر غصہ میں آجائیں کہ یہ کیا ہوگیا۔ اللہ کا وعدہ ہے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ، مغفرت کا اور اجر عظیم کا ‘‘

ان آیات میں والذین معہ سے مراد بالاتفاق صحابہ کرام ہیں۔ اور یہ تمام اوصاف جو بیان کی گئی ہیں صحابہ کرام میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ والذین معہ میں قیامت تک آنے والے وہ تمام اہل ایمان بھی داخل ہیں جو مقصد رسالت میں آپ کے ساتھ ہیں یعنی جو دعاۃ الی اللہ ہیں۔ یادوسرے الفاظ میں جو مبلغین حضرات ہیں۔ اس لئے کہ ان آیات میں صحابہ کرام کی صفات بیان کرنے سے پہلے حضورؐ کا رسول ہونا بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے تمام مبلغین چاہے وہ کسی زمانہ کے ہوں وہ ان آیات کے مصداق ہیں اور انہیں اپنے اندر ان اوصاف کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان میں سب سے پہلی صفت کفار کے ساتھ بوقت جنگ شدت اور قوت ہے اور آپس میں یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ مہربانی کرنا جس میں اخلاق کے تمام پہلو شامل ہیں۔ داعی الی اللہ حضرات کے لئے جن میں علماء کرام تو بدرجہ اولیٰ شریک ہیں اپنے اخلاق کو مزین کرنا لازمی ہے۔ ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ ہو بلاتفریق رنگ و نسل ہر مسلمان کا بھلا چاہنا ہو۔
مسلمان کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں ان کو بھی صبر و ضبط کے ساتھ جھیلنا یہ بھی اخلاق میں شامل ہے نہ کسی سے اپنے نفس کے لئے انتقام لینا ہے اور نہ ہی کسی کے لئے بددعا کرنا ہے۔ یہی حضورؐ کی سیرت کا نمونہ ہے۔ اپنے حقوق جو دوسروں پر ہوں انہیں چن چن کر ادا کرنا ہے کوئی حق اپنے ذمہ باقی نہ رہ جائے بلکہ حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرنا ہے۔ صرف برابر کا معاملہ نہ ہو بلکہ ایثار اور اکرام کا معاملہ ہو۔ اپنا حق جو دوسروں پر ہے اسے معاف کردیا جائے۔ اپنا حق لینے کے لئے کسی سے لڑائی جھگڑا نہ ہو نہ رشتہ داروں سے نہ پڑوسیوں سے نہ عام مسلمانوں سے نہ سفر کے ساتھیوں سے نہ اپنوں سے نہ غیروں سے۔ ان اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہو کر ہم جب دین کی محنت کرینگے تو ہم والذین معہ میں شریک ہونگے۔
دوسری صفت جو لوگ رسول اللہؐ کے ساتھ ہیں کثرت عبادت ہے۔ عبادت تو انسان کا مقصد زندگی ہے۔ اللہ نے انسان کو اپنی بندگی ہی کے لئے پیدا کیا ہے۔ پھر یہ دوسروں کو اللہ کی بندگی اور عبادت کی دعوت دینے والا خود کیسے اللہ کی عبادت میں کوتاہی کرسکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ترجمہ : ’’ میں نے نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں ‘‘۔ عبادت میں سب سے پہلے نماز ہے۔ نماز میں سب سے پہلے فرض نماز ہے۔ اس کی پابندی ہو کہ ہر فرض نماز جماعت کے ساتھ اور تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھی جائے۔ اس میں خود حضورؐ کا نمونہ عمل موجود ہے کہ آپ نے خود ایسے وقت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ آپ کے قدم مبارک زمین پر جمتے نہیں تھے۔ دو آمیوں کے سہارے گھسٹ کر آپؐ مسجد میں تشریف لائے اور امت کو یہ عملی تعلیم دی کہ میرے نزدیک یہ نماز باجماعت اتنی اہم ہے کہ میں اس حال میں بھی باجماعت نماز پڑھ رہا ہوں۔ فرائض کے اہتمام کے بعد نوافل کی کثرت ہے۔ اس میں بھی حضورؐ اور صحابہ کانمونہ ہمارے سامنے ہو کہ کس کثرت سے آپؐ عبادت کرتے تھے حتیٰ کہ پیروں پر نماز میں کھڑے رہنے کی وجہ سے ورم آجاتا تھا۔ اور اللہ کی طرف سے بھی آپؐ کو یہ حکم تھا کہ جب بھی آپ اپنے فرض منصبی یعنی دعوت سے فارغ ہوں اللہ کی طرف رغبت کیا کیجئے۔ فرمایا : فاذا فرغت فانصب و الیٰ ربک فارغب۔

اسی طرح اس زمانہ کے داعی الی اللہ بھی نوافل کی کثرت رکھیں۔ کم از کم چار مشہور نوافل اشراق، چاشت، اوابین، اور تہجد کا تو ضرور اہتمام ہو۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں تحیۃ المسجد پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت ڈالیں۔ جب بھی وضو ٹوٹ جائے دوبارہ وضو کر کے دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھ لیں۔ 
وضوء کو حدیث میں سلاح المومن فرمایاگیا ہے۔ یعنی وضو مومن کا اسلحہ ہے جب تک مومن باوضو رہتا ہے شیطانی وساوس سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ چلتے پھرتے میں ذکر ا اللہ کا اہتمام ہو۔ خصوصاً تین تسبیحات، سوم کلمہ، درود شریف اور استغفار کو لازم پکڑیں۔ جب بھی ہاتھ پاؤں سے کسی عمل میں مشغول ہوں تو ذکر سے زبان کے اہتمام سے پوری زندگی ذکر والی بن جاتی ہے۔ اور ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

تیسری اہم صفت ان لوگوں کی جو رسول اللہ ﷺ کے کام میں آپ کے ساتھی ہیں، اللہ کی رضا کی جستجو ہے۔ ہر عمل میں اللہ کی رضا ہی مقصود ہو۔ کوئی عمل چاہے بظاہر دنیاداری کا عمل نظر آتا ہو اس کو بھی اپنی نیک نیتی کے ذریعہ دین اور اجروثواب کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے جب بھی کسی عمل کے لئے اٹھیں تو نیت کریں کہ میں یہ عمل اللہ کے لئے کرتا ہوں۔ اگر کوئی فاسد غرض ذہن میں آئے تو اس کو نکال دیں۔ اس پر استغفار کریں۔ مثلاً ایک آدمی اپنا گھر تعمیر کررہا ہے اس میں کھڑکیاں لگائی جارہی ہیں، نیت کرے کہ ان کھڑکیوں سے اذان کی آواز سنونگا۔ روشنی اور ہوا تو مل ہی جائیگی۔ اذان کی آواز سننے کی نیت نے اس کھڑکی لگانے کے عمل کو بھی حصول اجر کا ذریعہ بنادیا۔ اسی طرح ہر کام میں نیک نیتی کی برکت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک گلاس پانی بھی کسی کو پلائیں تو نیت کرلیں شاید اللہ اس عمل سے راضی ہوجائے۔ بیوی بچوں کو کھلانا پلانا بھی اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس عمل کا کوئی اجر ہی نہیں عطا فرماتے جو اللہ کے لئے نہ کیا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اعلان فرمائینگے کہ جس نے جو عمل جس کے لئے کیا ہے آج وہ اس کا بدلہ اسی سے لے لے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس صرف ان ہی اعمال کا اجر ہے جو اللہ کے لئے کئے گئے ہوں۔

مبلغین حضرات بھی اس کا اہتمام فرمائیں۔ کہ ہر عمل اللہ کے لئے کیا جارہا ہو۔ دوسری کوئی غرض کسی عمل میں بھی شامل نہ ہو۔ اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی مردہ ہے۔ اور اخلاص سے ساتھ چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑا اور قابل معاوضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

kkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkkk

سیرت نبی ﷺ سے زندگی سنواریئے

محمّد شریف ،ناگپور


عموماً رواج یہ ہوگیا ہے کہ وبیع الاول کے مہینہ میں سیرت کے جلسے ہوتے ہیں۔ سیرت پر بیانات اور تقریریں ہوتی ہیں۔ اخبارات اور رسائل میں سیرت پر تحریریں لکھی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر حضورؐ کے معجزات کا بیان ہوتا ہے۔ آپ کے مرتبہ اورعلوشان کے تذکرے ہوتے ہیں۔ اور یہ ہونا بھی چاہئے۔ آپ کا ذکر گویا اللہ ہی کا ذکر ہے۔ اور آپ کی تعریف کرنا اللہ ہی کی تعریف کرنا ہے۔ آپ کے معجزات اللہ ہی کی قدرت کا مظہر ہے۔ مگر ان تقریروں اور تحریروں میں ایک پہلو نظر انداز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عمل سے بھی نظر انداز ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ ہم جب رحمت اللعالمین کے امتی ہیں تو ہم آپ کی سیرت سے کیافائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ کیاآپ کی زندگی ہمارے لئے قابل اتباع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو آپ کی زندگی کو ایمان والوں کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دے رہا ہے۔ فرمایا : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ، لمن کان یرجولقاء اللہ۔ رسول اللہ ﷺ میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے اس کے لئے جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے۔ 

حضورؐ کی سیرت کا ایک پہلو جو عام مسلمانوں کے لئے نہایت سہل اور قابل اتباء ہے وہ آپ کی معاشرت ہے۔ اگر ہم ذرا سا دھیان دیں اور عادت ڈالنے کی کوشش کریں تو ہمارے عام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوسکتے ہیں اور ہمارا سنت کے مطابق ان کاموں کا کرنا ہمارے لئے ذخیرہ آخرت اور دنیا میں برکات کا سبب ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہم نے رفتہ رفتہ ترقی کر کے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو اللہ کی طرف سے بہت بڑے بڑے انعامات کے مستحق بن سکتے ہیں۔ مثلاً رسول اللہؐ نے فرمایا من تمسک سنتی عند فساد امتنی فلہ اجر مائۃ شہید ۔ جس نے میری امت کے بگاڑ کے زمانہ میں میری سنت کو مضبوطی سے پکڑا اس کے لئے سو شہیدوں کا اجر ہے۔ اور حضورؐ کے معاشرت یعنی عام رہن سہن کے طریقہ ایسے نہیں ہیں جو ہمارے بس کے نہ ہو بلکہ آسان ہیںاور قابل عمل ہیں۔ اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اور ان میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ صرف تھوڑا دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً آپ کا کھانے پینے کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھا ہاتھ استعمال کریں ۔ بیٹھ کر کھائیںیا پئیں۔ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ کہہ لیں اور فارغ ہونے کے بعد الحمد للہ کہہ لیں۔ یہ ایسا کونسا مشکل کام ہے جو ہم سے نہیں ہو سکتا اس کے باوجود بہت سے مسلمان بائیں ہاتھ سے پانی اور چائے پیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ان کی غفلت ہے جو انہیں حضورؐ کی سنتوں سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ ایسے سادہ اور آسان پاکیزہ طریقے حضورؐ کی سنت میں موجود ہیں۔ مگر یہ فائدہ نہیں اٹھاتے ان کی مثال ان کروڑ پتی اولاد کی طرح ہے جو کروڑوںکی جائیداد کے باوجود پھٹے پرانے کپڑوں میں بھوک پیاس کی حالت میں پھر رہے ہیں اور جھوپڑوں میں زندگی گذاررہے ہیں۔ یعنی اپنی جائیداد سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ جب بھی مسجد میں داخل ہوں یا باہر نکلیں حضورؐ کا طریقہ ہے ۔ داخل ہوتے وقت دایاں قدم پہلے اندر رکھیں اور اللھم افتح لی ابواب رحمتک پڑھ لیں یعنی اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولدے۔ اسی طرح باہر نکلتے وقت اللھم افتح لی ابواب فضلک ۔یعنی اے اللہ میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔ یہ دستور ہے کہ جب آدمی مانگتا رہتا ہے تو ملتا بھی رہتا ہے۔ جب دن بھر میں کم از کم ۵! مرتبہ اللہ سے اس کا فضل اور رحمت مانگے گے تو کیا محروم رہے گے جبکہ اس کی طرف سے ادعونی استجب لکم کا وعدہ موجود ہے۔ 
حضورؐ کی معاشرت کا ایک طریقہ ہے السلام قبل الکلام یعنی بات سے پہلے سلام کرو۔ ایک گھر کے افراد اور باہر کے بھی بار بار ملنے جلنے والے لوگ بلا سلام سامنے آتے ہی بات شروع کردیتے ہیں۔ اس میں کیا مصیبت ہے کہ پہلے کوئی ایک السلام علیکم کہہ دے اسی طرح فون یا موبائیل سے بات کرتے وقت Hello کہنا غیروں کا طریقہ کیوں اختیار کررکھا ہے۔ اس میں کیا پریشانی ہے کہ جب ہمیں اپنے فون پر Bell سنائی دے ہم پہلے السلام علیکم کہیں۔ اگر اس کااحتمال ہے کہ فون کرنے والا غیر مسلم بھی ہوسکتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم اسے سلامتی کی دعا دے رہے ہیں اور سلامتی بغیر اسلام کے نہیں ملتی گو یا ہم اسے مسلمان ہونے کی ہی دعا دے رہیں ہے۔ اگر ہم نے کسی کو call کیا اور وہ Hello کہہ دے تو ہم سلام کرلیں۔ اگر وہ ہم سے چھوٹا ہے تو بھی پہل کرلینا نفع کی بات ہے نہ کہ نقصان کی۔ ایسے ہی ہمارے روازنہ کے معمولات میں ہے استنجا یا بیت الخلاء کے لئے جانا آنا۔ اس میں بھی حضورؐ کا طریقہ اختیار کرنا کونسا مشکل ہے۔ داخل ہونے سے پہلے اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث پڑھ کربایاں پیر اندر داخل کریں اور جب باہر نکلیں تو دایاں پیر باہر نکالیں۔ اور یہ دعا پڑھ لیں۔ غفرانک الحمد للہ الذی اذھب عنی الاذیٰ و عافانی ۔ اے اللہ تیری معافی، تما م تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھ سے اذیت کی چیز کو دور کر دیا اور عافیت بخشی۔ کیسا بہترین طریقہ ہے حضورؐ کا کہ بیت الخلاء بھی اللہ سے قرب دلانے والا ہے۔ ایمان بڑھانے والا ہے اور د نیا کے مصائب کو دور کرنے والا ہے۔ جو شخص اہتمام سے اس دعا کو پڑھتا ہے و ہ پیشاب پاخانہ رک جانے کی بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔ 

اسی طرح کپڑے پہنا ہمارے معمولات میں سے ہے۔ اس میں حضورؐ کا طریقہ کیا مشکل ہے۔ پہنتے وقت سیدھا ہاتھ یا سیدھا پیر پہلے داخل کریں۔ اور اتارتے وقت بایاں ہاتھ یا پاجامہ ہے تو بایاں پیر پہلے نکالیں۔ سائیکل ،موٹر سائیکل ،کا ر ،بس ، ریل ، ہوائی جہاز کی سواریوں کا استعمال عام ہے۔ جب بھی کسی سواری پر سوار ہوں ، دایاں پیر پہلے داخل کریں ، بسم اللہ کہتے ہوئے۔ جب سوار ہو جائیں الحمد للہ کہہ لیں۔ اور یہ دعا پڑھ لیں۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین و انا الیٰ ربنا لمنقلبو ن ۔ ذرا ترجمہ پر غور کریں کیسا اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس کو مسخر کردیا ہم ہر گز اس پر قابو نہ پاتے اگر وہ ہمیںقابو نہ دیتا اور ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔سواریوں کے استعمال کے وقت اس دعا کا اہتمام رہے تو آدمی سواری کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ Accidents کے تدار ک کا یہ آسان نسخہ ہے۔ مگر ہماری ظاہربیں نگاہیں وہی کہہ رہی ہیں جو بغیر ایمان والے کہہ رہے ہیں کہ traffic controll صحیح نہیں ہے۔ جب سواری چلنے لگے تو یہ استغفار پڑھ لیں۔ سبحانک انی ظلمت نفسی فاغفرلی لایغفر الذنوب الا انت ۔ یعنی ’’ تو پاک ہے بے شک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے پس مجھے معاف کردے، تیرے علاوہ گناہوں کا معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘‘ ۔
 
اس دعا کے پڑھنے کے بعد اپنے ساتھی یا آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ یہ مسکرانا بھی ایک خاص مصلحت سے ہے۔ جب بندہ یہ استغفار پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ اور مغفرت کردیتا ہے۔ کیسا بہترین دین ہے کہ دنیا بھی بن رہی ہے اور آخرت بھی۔ سواری کا استعمال کر کے لمبے لمبے فاصلے آسانی سے طے ہوجارہے ہیں حادثات سے بھی حفاظت ہورہی ہے اور اللہ سے تعلق بھی بڑھ رہا ہے اور مغفرت بھی ہورہی ہے۔ اس میں سواری کی تخصیص نہیںہے۔ حضورؐ کے زمانہ میں صرف جانوروں کی سواریاں تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں قیامت تک ایجاد ہونے والی تمام سواریوں کی خبر اجمالی طور پر دے دی ہے۔ فرمایا : الخیل والبغال و الحمیر لترکبواھا وزینۃ ویخلق مالا تعلمون ۔ یعنی ’’ ہم نے تمہارے لئے اونٹ، گھوڑے اور خچر پیدا کئے جن پر تم سوار ہوتے ہو، اور زینت دکھاتے ہو اور ہم ایسی چیزیں پیدا کرینگے جس کو تم جانتے نہیں ہو ‘‘۔ سائیکل سے لیکر ہوائی جہاز تک تمام سواریاں مالا تعلمون میں داخل ہیں۔ یہ سیرت نبی کا وہ حصہ ہے جو ہر مسلمان آسانی سے اپنا سکتا ہے اور اپنی زندگی کو مزین کر سکتا ہے۔ واقعی حضورؐ کے طریقے آدمی کی زندگی کے لئے رونق اور زینت ہیں۔ حضورؐ کی معاشرت کے بغیر مسلمانوں کی زندگی بے نور ، بے رونق اور ظلمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح اپنی زندگی کے ہر گوشہ میں غور کریں کہ ہم اس میں حضورؐ کی سیرت سے کیا داخل کرسکتے ہیں۔ ایک پہلو حضورؐ کی سیرت کا یہ ہے کہ ہم اپنا سلوک اور برتاؤ تمام انسانوں کے ساتھ بلکہ تمام مخلوق کے ساتھ منصفانہ اور کریمانہ بنائیں ۔ ہم اخلاق میں جتنی ترقی کرینگے حضورؐ سے مشابہت میں ترقی ہوگی، حضورؐ سے تعلق میں ترقی ہوگی۔ 
حضورؐ کے اخلاق کا ایک نمایاں وصف عدم تکبر یعنی تواضع ہے۔ حضورؐ کائنات کی تمام مخلوق میں سب سے بڑے ہیں لیکن تواضع کا یہ عالم ہے کہ فرماتے ہیں میں اس ماں کا بیٹا ہون جو سوکھا ہوا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھی۔ راستہ چلتی ہوئی کوئی غریب بڑھیا بھی آپ کو بلا تکلف روک کر آپؐ سے جتنی چاہتی بات کرلیتی تھی۔ مرتبہ تو اتنا بلند کہ جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کے پاس بغیر اجازت نہیں آتے تھے۔ اور تواضع اتنی کہ اعرابی یعنی دیہاتی بھی آپ کے مجلس میں بیٹھ کر سوالات کرلیتے تھے۔ معراج کے سفر میں براق آپؐ کی سواری ہے اور زمین پر اپنے گھر میں آپ اپنے نواسوں حسن اور حسین کے لئے خود سواری بنے ہوئے ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں انا سید ولد آدم ولا فخر یعنی میں اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن مجھے اس پر فخر نہیں ہے۔ سیرت پاک کا یہ پہلو بھی امت کے لئے قابل عمل ہے۔ گو کہ ہم اخلاق کی اس بلندی پر نہیں پہنچ سکتے مگر اس کی تمنا کر کے کوشش تو کرسکتے ہیں۔ آپ کے اخلاق کی عمدگی کی سند خود اللہ رب العالمین فرمارہا ہے۔ انک لعلیٰ خلق عظیم ۔یعنی ’’ آپؐ اخلاق عظمہ پر ہیں ‘‘۔ آپ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ خلقہ القرآن ، آپ کے اخلاق قرآن ہیں۔ یعنی قرآن میں اخلاق کی جو کچھ تعلیم دی گئی ہے بدرجہ اتم وہ آپؐ میں موجود ہیں۔ ہم بھی اس کی کوشش کریں کہ ہمارے اخلاق حضورؐ کے اخلاق سے قریب تر ہوتے جائیں۔ ورنہ سیرت مبارکہ صرف تقریر وتحریر کی زینت بن کر رہ جائیگی۔ دنیا کو اس کی ضرورت ہے کہ آپؐ کے ماننے والے اپنی زندگی میں ان اخلاق کا مظاہرہ کریں جو سیرت میں حضورؐ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ پھر دنیا آپ کی قدر کرینگی۔ ورنہ آپ کے اخلاق اور آپ کی زندگی کو حضورؐ کی زندگی سے مختلف پاکر آپ کی دشمن بنے گی۔ 

اس لئے تمام مسلمان حضورؐ کی سیرت طیبہ کو اپنانے کا فیصلہ کریں۔ آپؐ غصہ کے عالم مین بھی حد سے اور حق سے تجاوز نہیں فرماتے تھے۔ دشمن پر بھی کبھی آپؐ ظلم نہیں کرتے تھے۔ ظالموں کو معاف کرنا آپؐ کی عام عادت تھی۔ اللہ کی اطاعت کا آپ نے حق ادا کردیا اس کے باوجود اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ ہمیشہ اپنی بندگی کا اظہار کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو آپؐ کی سیرت پاک کی اتباء کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
tttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttttt
wwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwwww
iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii

Sunday, February 14, 2010

آغاز اچھا تو انجام اچھا ،،،، محمّد شریف


آغاز اچھا تو انجام اچھا
مضمون
ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییی 
محمّد شریف
ٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹٹ 


ایک بزرگ کا قول ہے ’’ جس کا بچپن اچھا اس کی جوانی اچھی ، جس کی جوانی اچھی اس کا بڑھاپا اچھا، جس کا بڑھاپا اچھا اس کی موت اچھی ‘‘

میں اضافہ کررہا ہوں کہ جس کی موت اچھی اس کی آخرت کی لامحدود زندگی اچھی۔ بچپن آدمی کی ناسمجھی کا زمانہ ہے۔ بچہ اپنے بچپن کو خود اچھا نہیں بنا سکتا یہ ذمہ داری والدین کی ہے۔ اگر والدین چاہیں تو اپنی اولاد کے بچپن کو سنوار کر پوری زندگی کو سنوار دیں یا غفلت اور لاپرواہی کر کے اپنے بچوں کے بچپن کو خراب کر کے پوری زندگی کو خراب کردیں

۔ حدیث میں رسول اکرم ﷺکا ارشاد ہے ۔

کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام فابواہ یھودانہ اوینصرانہ اویمجسانہ :

ترجمہ : ’’ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی، یا مجوسی بناتے ہیں ‘‘۔
اسطرح پہلے دنیا کی زندگی خراب ہوتی ہے اور مرنے کے بعد آخرت بھی تباہ ہوجاتی ہے۔ اسی لئے مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی جان کے ساتھ اپنے گھروالوں کو بھی جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربی ہے ۔
یایھالذین اٰمنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ علیھا ملٰئکۃ غلاظ شدادٌ لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایومرون :
ترجمہ: ’’ اے ایمان والوں اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔  ‘‘ 
جس پر ایسے سخت دل اور شدید فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ یہ فرشتے جو جہنمیوں کو عذاب دینے کے لئے مقرر ہیں وہ بہرے اور گونگے بھی ہیں کہ جن کو عذاب دیا جاتا ہے ان کی چینخ وپکار کو بھی نہیں سن سکتے اور دیکھ کر سمجھتے ہیں تو سخت دل ایسے کہ انہیںکوئی رحم نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

صاحب اولاد لوگوں کے لئے یہ بڑی فکر کی بات ہے کہ وہ بچوں کو اول دن ہی سے دینی ماحول مہیا کرنے کی فکر کریں۔ یہ نہ سوچیں کہ ابھی تو بچہ ہے بڑا ہوگا تو سکھا دینگے۔ بچہ دنیا میں آتے ہی غیر شعوری طور پر اپنے اطراف سے آنے والی آوازوں اور نظاروں کا اثرلینا شروع کردیتا ہے۔ اسی لئے اسلام کی تعلیم ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھی جائے۔ اگر بچہ اس وقت اثر نہ لیتا تو معلم شریعت ؐ اس کا حکم ہی نہ دیتے اسلئے کہ اسلام میں کوئی بھی عمل محض رسمی نہیں ہے بلکہ ہر حکم اور ہر عمل کے پیچھے مخفی حکمتیں ہیں۔ اس لئے گھر میں بچہ کو اول دن ہی سے ذکر وتلاوت ، نماز روزہ، سنتوں کا اہتمام، اخلاق حسنہ، حیا اور پاکیزگی کا ماحول ملنا چاہئے۔ 
اس کے برعکس اگر گانے بجانے ، گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑے، TV اور VCR کا ماحول ملا تو وہ اس کے اثرات بھی لے گا۔ اس لئے ہم گھروں کی معاشرت کو پاکیزہ بنائیں۔ جب بچہ بولنے لگے تو سب سے پہلے اسے اللہ کا نام لینا سکھائیں۔ باہر کے گندے ماحول سے حفاظت کی خاطر گھر ہی میں اس کو اس کی دلچسپی کا سامان مہیا کریں۔ گھر کے بڑے شرعی حدود کے اندر خود ان کے ساتھ کھلیں۔جیسا کہ رسول اللہ صلعم خود اپنے نواسے حسنؓ اور حسینؓ کے ساتھ کرتے تھے۔ آپ اپنے گھر میں بعض مرتبہ گھٹنوں اور ہتھیلیوں کے بل چلتے گویا آپ سواری بن جاتے اور لاڈلے حسنؓ اور حسینؓ آپؐ کی پیٹھ پر سوار ہوتے۔ کبھی آپ حالت نماز میں سجدہ میں ہوتے اور نواسے آپ کی پیٹھ پر چڑھ کر بیٹھ جاتے آپؐ ان کی رعایت میں سجدہ لمبا کردیتے۔ اگر گھر کے بڑوں کے ساتھ بچوں کا وقت گذرے گا تو انہیں باہر جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئیگی۔ جب وہ کچھ سمجھنے کے لائق ہوجائیں تو گھر میں انہیں نبیوں اور صحابہ اور اولیاء کے چھوٹے چھوٹے قصے سنائیں۔ آخرت کے احوال وجنت کے مناظر ان کے سامنے بیان کریں۔ اللہ کی قدرت اس کی بڑائی اور اس کی صفات کا ذکر بچوں کے سامنے کریں تاکہ بچے بچپن ہی سے اللہ کو پہچاننے والے بنیں ۔ اس بچپن میں اتنی ذہن سازی ہوجائے کہ اندر سے ان کو برائی اور بے حیائی سے نفرت پیدا ہوجائے۔

۲ سنتوں اور دینی اعمال کا شوق ان کے اندر پیدا ہوجائے۔ جب وہ کچھ پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائیں تو انہیں کلمہ نمازیاد کرائیں۔ چھوٹی چھوٹی سورتیں حفظ کرادیں۔ مختلف کاموں کو مسنون طریقے اور مسنون دعائیں انہیں یاد کرائیں۔ پھر آداب کے مطابق عمل کی مشق کرائیں۔ مثلاً آپ نے پانی پینے کا طریقہ سکھایا کہ بیٹھ کر سیدھے ہاتھ سے بسم اللہ کہہ کر تین سانس میں پانی پینا چاہئے۔ اگر بچہ اس کے خلاف کرے تو محبت اور نرمی سے اسی وقت اس کو تنبیہ کریں تا کہ وہ دوبارہ وہ سنت کو ترک نہ کرے۔ اس طرح دھیرے دھیرے وہ سنتوں کا عادی ہوجائیگا۔ جب وہ اسکول جانے کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے کسی مسلم اسکول میں ڈالیں۔ چاہے یہ ادارے پڑھائی میںکمزور سہی۔ اس کا تدارک ہوسکتا ہے۔ پڑھائی میں ترقی کے لئے اسکو گھر پر ٹیوشن لگاسکتے ہیں یا گھر کے بڑے خود انہیں گھر پر پڑھائیں ۔ بار بار اسکول جا کر اسکول کے اساتذہ کو متوجہ کریں۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر یا منتظمہ سے رابطہ قائم کریں۔ لیکن ہندی ، مراٹھی یا انگلش میڈیم کی ایسی اسکولوں میں ایڈمیشن نہ کرائیں جہاں کا اسٹاف غیر مسلم اور بچوں کی بھی اکثریت غیر مسلم ہوں۔ 

یہ ماحول آپ کے بچوں کو غیر اسلامی رنگ میں رنگ دے گا اور آپ کو اس کا پتہ اس وقت چلے گا جب وہ بڑے ہو چکے ہونگے۔ اور آپ کے قبضہ سے نکل چکے ہونگے۔ یہ ہمارے اسلامی شعور کی کمی ہے کہ ہم بچوں کو بچپن ہی سے غیر اسلامی ماحول کے حوالہ کر دیتے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ ہمارا بچہ فلاں اسکول میں پڑھ رہا ہے۔ جہاں اچھی خاصی فیس بھی دینی پڑتی ہے اور مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم خود مغربی کلچر سے مرعوب ہیں۔ شروع ہی سے ہم اپنے بچوں کے اسلامی تشخص کو برباد کردیتے ہیں۔ ان standard اسکولوں میں ہمارے بچے اور بچیاں جاتی ہیں تو اس یونیفارم میں کہ ان کے مسلمان ہونے کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ آپ سوچئے یہ بڑے ہو کر اسلامی تہذیب کو کیسے پسند کرینگے۔ اور آدمی کا دنیا میں معمولی آمدنی کے ساتھ سیدھی سادی، زندگی گذار لینا بہتر ہے اس زندگی سے جن میں دنیا کی زندگی تو بہت شاندار اور معیاری ہواور آخرت بربادہوجائے۔ اصل تو آخرت ہی ہے۔ لیکن یہ بات بھی نہین ہے کہ دنیا کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اسلام مسلمانوں کو اس لئے نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی دنیا کو خراب کرلیں۔ بلکہ اسلام پر چلنے سے دنیا اور بہتر بنتی ہے۔ حقیقی کامیابی دنیا کی بھی اسلام پر چل کر ہی مسلمانوں کو مل سکتی ہے۔ 

بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں والدین میں سے سب سے اہم رول ماؤں کا ہے۔ ماں کی گود بچہ کے لئے سب سے پہلا مدرسہ ہے۔ ماؤں کو بہت زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ خود اپنی دینداری کو برقرار رکھتے ہوئے بچوںکی تربیت کرے گی تو یہ بچے ان کے لئے ثواب جاریہ بنیں گے، رونہ یہی بچے عذاب جاریہ بھی بن سکتے ہیں۔ جتنے اہل اللہ، بزرگان دین، بڑے بڑے علماء، ائمہ ، محدثین گذرے ہیں اگر ان کی سیرت کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ ان کی شخصیت سازی میں سب سے بڑا ہاتھ ان کی ماؤں کا ہے۔
اس لئے میری بہنوں سے گذارش ہے کہ اگر وہ چاہتی ہیں کہ اہل اللہ اور اولیاء اللہ کی مائیں بنیں تو بچوں کی تربیت کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گی تو ممکن ہے کہ شیاطین کی ماں بننا پڑے گا۔ آپ کی عدم تربیت کی وجہ سے وہ جتنے شیطانی افعال انجام دیںگے اس کا credit آپ ہی کو ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Thursday, February 11, 2010

Because ,,,,,,,My name is Khan .



  Because   ,,,,,,,My name is Khan  ..


According to Shakespeare there may not be anything in the name, but recently a storm has been stored in the title of a film My Name Is Khan. Though similar statement has been made by Union Home minister a day before Shah Rhukh Khans comment which expressed his sadness over not including Pakistani Team in I.P.L.
Similar impressions were pronounced by a number of celebrities by saying that Shah Rukh Khan has a right to speak on it as it is related to the sports and it has nothing to do with ones patriotism a tiny matter has been turned into an issue just for the sake of political advantages .Those forces did not stand against Union Home Minister Why?
1. Diili Door Thi?
2. There were no chances to be a hero?
3. No film of Home Minister was in the queue for release in Mumbai?
This is a sorrow state of affair that we are living in a world, someone has liberty to play and destroy the freedom of expression of an individual and despite of a number of rules to curb the tyranny of dictators, in a democratic county ,we are tolerating all these happenings against democratic values ,Why?


Wednesday, February 10, 2010

Iqbal Ka Daiyana Usloob اقبال کا داعیانہ اسلوب


اقبال کا داعیانہ اسلوب 


؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
 محمّدا سداللہ
mmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmm
شاعرِ مشرق ،حکیم الامّت ،علاّمہ اور رحمت اللہ علیہ جیسے خطابات سے نوازے جانے والے شاعر محمّد اقبال کی شاعری کا محور اسلام اور مسلمان ہیں ۔ ربِّ ذوالجلال سے مخلوقاتِ الہٰیہ تک مختلف و متنوع موضوعات کا احاطہ کر تی ہو ئی اقبال کی فلسفیانہ سوچ اور تخیل کی جو لا نیاں در اصل اسلامی افکار کے خورشیدِ تاباں ہی کا پر تو ہے ۔

 اقبال کی شاعرانہ فکر ،تصوّرات ، لفظیات ،استعارے ،شعری تراکیب اور نکتۂ نظر اگر دیگر شعرا سے الگ ہے تو اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ اقبال بنیادی طور پر ایک مختلف اور منفرد سوچ کا شاعر ہے ۔ جس کا کائنات کے مظاہر کے دیکھنے کا انداز جدا ہے بلکہ شاعری کے ساتھ بھی اسکامعاملہTreatment اوروں سے مختلف ہے ۔ اسی رویّے نے اقبال کے اس انوکھے اسلوب کو جنم دیاہے جس کی سب سے اہم خصوصیت اس کا داعیانہ انداز ہے۔اقبال کی اسی ادّاعیت کو جہاں اسلام پسند طبیعتوں اور اور دینِ متین کے متوالواں نے لبیک کہا وہیں ایک طبقہ ادب نوازوں کا یہ بھی مانتا ہے کہ اقبال کے اس کومٹمنٹ نے اس کے فن کو نقصان بھی پہنچایا ہے ۔ کلامِاقبال کی دلفریبی اوراثر پذیری نے بلاشبہ اسے ادب کے جریدۂ عالم پر دوام اور قبولِ عام سے ہمکنار کیالیکن یہ بھی سچ ہے کہ اقبال کی شاہکار تخلیقات وہی ہیں جن میں کھلی ہوئی ادّاعت کے بجائے رمز و ایما اور اشارے و استعارے ہیں جہاں اس نے فن کی بلندی کے چھو لیا ہے ۔

 اقبال کو یہ احساس تھا کہ وہ اپنی من موہ لینے والی شاعری میں ایک اپدیشک کا رول ادا کر رہا ہے ۔ 
                     اقبال بڑا اپدیشک ہے موہ لیتا ہے من باتوں سے
                   گفتار کا غازی بن تو گیا کر دار کا غازی بن نہ سکا            
 اسی کے ساتھ اقبال نے اپنے اشعار میں اس حقیقت کا ااظہار بھی کیا ہے کہ شاعری اس کے لئے ایک وسیلہ ہے منزل نہیں ۔
  میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ کہ میں ہوں محرمِ رازِ درونِ مے خانہ 
 اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے ۔ 
 اقبال کے ہاں سازِ سخن ایک بہا نا ہے اس اونٹنی کو راہِ راست پر لا نے کاجواپنے راستے سے بھٹک گئی ہے ۔قوم کے لئے اونٹنی کا استعارہ بھی خوب ہے ،یہ مفہوم ہے اقبال کے ایک فارسی شعر کا۔
                 نغمہ کجا و من کجا سازِ سخن بہانا ایست
 
      سوئے قطار می کنم ناقۂ بے زمام را                    
اقبال کا مقصد ایک درد مند دل میںکروٹیں بدلتے ہو ئے احساس کی ترسیل ہے۔ اس کی شاعری اسی سوزِ دروں کا اظہار ہے ۔

     
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے       
         میرا عشق میری نظر بخش دے 
 میرے دیدۂ تر کی بے خوبیاں 
        میرے دل کی پو شیدہ بے تا بیاں
  مرے نالۂ نیم شب کا نیاز    
          مری خلوت و انجمن کا گداز 
 یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر    
             اسی سے فقیری میں ہوں میں امیر
 مرے قافلے میں لٹادے اسے    
        لٹادے ٹھکانے لگا دے اسے
.ساقی نامہ ..


اقبال کی شاعری ایک انقلاب کا داعیہ ہے ۔ شاعری کے متعلق اقبال کا نظریہ بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے سوئے ہو ئے ذہنوں کو جھنجھوڑ ا 
جا ئے اور جو ادب اپنی تخلیقی قوّت سے انسانوں میں بیداری ،حرکت و عمل اور کسی بڑی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بنتا وہ اقبال کے نزدیک بے سود ہے۔ 

 اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا
 مقصودِ ہنر سوزِ حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثلِ شرر کیا 
 جس سے دلِ دریا متلاطم نہیں ہو ت
ا اے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا وہ گہر کیا
 شاعر کی نوا ہو کہ مغنّی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا
 بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
قطعہ
قبال ایک نئی دنیا کا نقیب ہے وہ ماضی کا نو حہ خواں بھی ہے جس میں جذبۂ شوق کی سرد ہو تی ہو ئی آ گ اور تابندہ اسلامی روایات کے زوال پر اظہارِ افسوس کرنے پر اقبال نے اکتفا نہیں کیا، بلکہ نئے امکانات کی بشارت سے اپنے کلام کو مزیّن کیا۔حرکت و عمل ،خودی ،مردِمومن اورشاہین کے تصّورات اسی سوئی ہو ئی قوم کو جگانے کے لئے ہیں ۔اقبال عشق کی آ گ بجھنے پر مسلمانوں کو راکھ کے ایک ڈھیرسے تعبیر کر تا ہے وہیں نئے جام گردش میں لا کر شرابِ کہن کے سرور کو محفل میں عام کر نا چاہتا ہے۔اقبال نے جس نئی دنیا کا خواب دیکھ اتھا وہ نہ صرف وہی خواب قوم کو دکھا نا چاہتا ہے بلکہ اس کی تعبیر ڈحونڈنے کے لئے قوم کو آ مادہ بھی کر تا ہے اس کے نزدیک ماضی کی نو حہ خوانی قوم کے مسائل کا حل نہیں ہے ۔ 
 
شاخِ بریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو
 نا آ شنا ہے قاعدۂ روزگار سے 

  ملّت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امّیدِبہار رکھ
  آ فتابِ تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہوا
آ سماں ٹو ٹے ہو ئے تاروں کا ماتم کب تلک 

کلامِ اقبال میں اسلامی تعلیمات کا بھرپور تعارف موجود ہے اقبال کا اردو زبان اورشعر و ادب پر ایک احسان یہ بھی ہے کہ اس نے نہ صرف پامال شعری تراکیب کو نئے معنی اور فرحت و تازگی سے آ راستہ کیا بلکہ قرانی تلمیحات اور اور احادیث کے مضامین کو شعری قالب عطا کیا۔ اس کے شعری مجموعے بانگِ درا،ضربِ کلیم ،بالِ جبریل ،زبورِ عجم ،کے علاوہ اس کی بیشمار نظمیں اور اشعار اسلامی پسِ منظر کو پیش کر تے ہیں ۔

 بے خطر کود پڑا آ تشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی 

 آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے ،نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے 

 اے وہ کہ تجھ سے دیدۂ انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار
صدیق
چشمِ اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رفعنا لک ذکرک دیکھے 
  یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہٰ الّا اللہ 
 

 
اقبال نے توحید و رسالت پر جو نظمیں لکھیں ہیں یا غزلوں میں ان موضوعات کا احاطہ کیا ہے ان میں پر اثر انداز میں اسلام کے پیغام کی حکمت و بصیرت
افروز توضیح موجود ہے ۔اقبال کی غزلوں کے بعض اشعار انسان اور خدا کے تعلق کو والہانہ انداز میں بیان کر تے ہیں اس سلسہ میں اقبال کی نظم شکوہ جوابِ شکوہ قابلِ ذکر ہے ۔ 

  تونے یہ کیا غضب کیا ! مجھ کو بھی فاش کر دی
ا میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں 
  محمد بھی ترا ،جبریل بھی،قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف، شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا
  باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر 
  تو ہے محیطِ بے کراں میں ہو ں ذراسی آ بجو
یامجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر 

 اسلام کے پیغام کو عام کر نے کی راہ میں جو جو رکاوٹیں موجود تھیں اور حق اور باطل کی معرکہ آ رائی میں جو مراحل درپیش تھے اقبال نے اپنے کلامِ میںان کی نشاندہی کی ہے ۔اس میں قوم کا جمود اور بے حسی ہو یا مغرب کی سازشیں،اقبال نے ان تمام کا احاطہ کیاہے۔ چراغِ مصطفوی سے
 شرارِ بو لہبی کی ستیزہ کا ریاں ہوں یا اسلامی معاشرہ میں موجود غیر اسلامی روایات سے پیدا ہو نے والا جمود،اقبال نے ان سبھی پہلوؤں کو بے نقاب کر کے انھیں ختم کر نے کے لئے ایک ضربِ کلیمی کو لازمی قراردیا ہے ۔یہ سب اقبال کے اسی دعوت کے مشن کا ایک حصّہ ہیں ۔

  مدیرِ مخزن سے کو ئی اقبال جاکے میرا پیام کہہ دے
جو کام کچھ کر رہی ہیں قومیں انھیں مذاقِ سخن نہیں ہے ۔
  مسلماں ہیں توحید میں گرم جوش
گر دل ابھی تک ہیں زُنّار پوش    
         ساقی نامہ
نظم’ پیامِ مشرق‘ میں اقبال رقمطراز ہیں۔

  وجود افراد کا مجازی ہے ہستیِ قوم ہے حقیقی
فدا ہو ملّت پہ ،یعنی آ تش زنِ طلسمِ مجاز ہو جا 
  یہ ہند کے فرقہ ساز اقبالؔآ زری کر رہے ہیں گویا
 بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبارِ راہِ حجاز ہو جا 

نظم ’عبدالقادر کے نام ‘ کے یہ اشعار ملا حظہ فر مائیں ۔

 
شمع کی طرح جئیں بزم گہِ عالم میں خود جئیں دیدۂ اغیار کو بینا کر دیں 
  اس چمن کو سبق آ ئینِ نمو کا دے کر قطرۂ شبنمِ بے مایہ کو دریا کر دیں 

اقبال کے کلام میں قرآن کی تعلیمات اور اسلام کا پیغام مختلف انداز میں موجود ہے ۔کہیں وہ ملّتِ اسلامیہ کے اس طبقہ کو نشانۂ طنز بناتا ہے جو اسلامی روح سے عاری اوررسم و رواج ہی کو اصل دین سمجھے ہو ئے ہے اقبال کا آ فاقی پیغام اس کے لئے بے معنی ہے ۔

  میری مینائے غزل میں تھی ذراسی باقی
شیخ کہتا ہے کہ یہ بھی ہے حرام اے ساقی 

یوں تو ملّا، شیخ، واعظ،ناصح ،زاہد ، اقبال سے قبل بھی شعرا کے ہاں معتوب رہے ہیں کہ ان کے ذریعے ادب میں اس طبقہ پر تنقید کی گئی جو مذہب کو سطحی انداز میں برتتا ہے اس کے ظاہری رسم و رواج ہی کو سب کچھ سمجھے ہو ئے ہے اور مذہب کی اصل روح سے نا آشنا ہے اقبال نے اپنی شاعری میں جب اس طبقہ کو طنز کا نشانہ بنایا تواقبال کے ہاں قوم و ملّت کے زیاں اور زوال آ مادگی پر حزن و ملال اور تاسف کا گہرا تاثرابھرآ یا ۔ 

  کو ئی یہ پو چھے کہ واعظ کا کیا بگڑ تا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہبے نیاز کرے 
  غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے ۔

 
ظاہر داری اور مذہب کی اصل روح سے بیگانگی تو اقبال کو دیگر مذاہب میں بھی قبول نہیں ۔نیا شوالہ اس نظم میں جہاں قومی یکجہتی کی بات کہی گئی ہے وہیں مذہب کے نام پر لو گوں میں فرقہ واریت کے بیج بونے والے عناصر کو بھی اقبال نے حدفِ ملامت بنایا ہے ۔

  سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
  اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 

  پتّھر کی مورتی کو سمجھا ہے تو خدا ہے
خاکِ وطن کو مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے 
  آ غیریت کے پر دے اک بار پھر اٹھا دیں
بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقشِ دوئی مٹادیں 
  شکتی بھی شانتی بھی بھکتوں کے گیت میں ہے
  دھرتی کے واسیوں کی مکتی پریت میں ہے         
  نیا شوالہ
یہ اشعار اس طرف اشارہ کر تے ہیں کہ شاعر کی نظر میںدین کی بنیاداور مذہب کی اصل منشاء ربطِ باہمی ،یگانگت ،اور اخوت پر ہے مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا اور جو طاقتیں مذہب کے نام پر یہ کام کر رہی ہیں اقبال ان کے خلاف ہے ۔ 
اقبال اجتماعیت اور قومیت کا علمبر دار ہے ،خواہ وہ مختلف قوموں کے باہمی روابط ہوں جو رواداری اور بھائی چارے پر منحصر ہیں یا مسلمانوں کے درمیاں اجتماعیت کا معاملہ ہو اقبال نے کئی مقامات پر اسے موضوعِ سخن بنایا ہے ۔

  فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں 

اقبال نے تعمیرِ قوم کے جس مبارک کام کے لئے اپنی شاعری کو وسیلہ بنایا اس کے تمام امکانات کو استعمال کیا۔اس نے بچّوں کی ذہن سازی کے لئے کئی نظمیں لکھیں جو بانگِ درا میں شامل ہیں ۔ان نظموں کا داعیانہ اسلوب دامن کشِ دل ہے۔ایک بہترین زندگی کا تصوّر ،خدا پرستی ،انسانی محبّت ،رواداری ،اخلاقی بلندی حب ّالوطنی کاجذبہ اور قوم و ملّت کے لئے جان نثا ر کر نے کے عزائم اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کا درس ان منظومات میں موجود ہے ۔ اقبال کے کلام کا بیشتر حصّہ اس کے سوزِ دروں اور درد مند دل کا فنکارانہ اظہار ہے اور اقبال کی دروں بینی نے جس جہانِنو کاخواب سجایا تھا اس کا بھر پور داعیہ اس کے اسلوب سے آ شکار ہے ۔  
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Sunday, February 07, 2010

Adabe Atfal Do Kitabon Ka Ijra >Report


رسم ِاجرا کا ایک منظر ۔۔۔

داءیں سے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ،ڈاکٹر غلام السیّدین ربّانی

ڈاکٹر آغا غیاث الرحمٰں ،ڈاکٹر محبوب راہی اور ڈاکٹر محمّد اسداللہ 

ڈاکٹر محبوب راہی کا استقبال کرتے ہو ٔے ڈاکٹر اشفاق احمد
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، 
خواب نگر
اور
نئی صبح
کی رسمِ اجراء
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ناگپور ۔۔۔۔
مورخہ :
۲۲! جنوری ۲۰۱۰

ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے اپنی انشائیہ نگاری کی صلاحیت کو بروئے کار لا تے ہو ئے بچّوں کے لئے ’خواب نگر‘ میں ایسی نظمیں تحریر کی ہیں جن میں تفریحی پہلو نمایاں ہے ۔حمد ،نعت اور قومی نظموں کے علاوہ اس کتاب میں تقریباً پچاس منظومات موضوع کے اعتبار سے متنوع اور انوکھی ہیں یہ اس کتاب کی ایک قابلَ ذکر خوبی ہے ۔ ‘

ڈاکٹر غلام السیّدین ربّانی نے ان خیالات کااظہار انجمن خیر الاسلام کے ذریعے منعقدہ ڈاکٹر محمّد اسد اللہ کی تصنیف ’خواب نگر‘ کی رسمِ اجراکی ایک تقریب میں کیا جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن نے انجام دئے ۔ ڈاکٹر محبوب راہی کے ہاتھوں اس کتاب کا اجرا ء عمل میں آ یا ۔اس موقع پر قاضی رؤف انجم بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے ۔

اسی تقریب میںتقریب میں معروف افسانہ نگار ڈاکٹر اشفاق احمد کی کتاب’ نئی صبح ‘کی رسمِ اجرا ء بھی ڈاکٹر محبوب راہی کے ہاتھوں عمل میں آ ئی ۔اس موقع پر اظہارِ خیال کر تے ہو ئے ڈاکٹر زینت اللہ جاوید نے اس کتاب میں شامل کہانیوں کو دلچسپ اوربچّوں کے لئے سبق آ موز بتایا ۔ انھوں نے کہا کہ ،’ ادب ہماری ذہنی تربیت اور کر دار سازی کا فریضہ انجام دیتا ہے اس لئے بچّوں کے لئے لکھی گئی کہانیاں دلچسپ ہو نے کے علاوہ اخلاقی قدروں کی حامل بھی ہو نی چاہئے۔ڈاکٹر اشفاق احمد کی تحریروں میں یہ خوبی لائقِ تحسین ہے‘ ۔
ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے کتاب پر تبصرہ کر تے ہوئے نئی نسل میں اردو زبان اور کتابوں سے دوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلباء میں کتابوں کے مطالعہ کا شوق پیدا کر نے لئے مفیداور لچسپ کتابوں کی اشاعت وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔
معروف شاعر محبوب راہی بیرو ن ملک کے ایک مشاعرہ (قطر) میں شرکت کر کے لوٹے اس موقع پر ان کا استقبال کیا گیا انھوں نے اپنے سفر کا احوال سنایا۔ 
رسم ِ اجرا کے بعد  شہر ناگپور کے ادباء و شعراء نے اپنی تخلیقات پیش کیں جن میں غزلیں ،منی افسانے،انشا  ٔیے اور کہانیاں بھی تھیں ۔

جناب اسعد حیات کے ذریعے تلاوتِ کلامَِ پاک سے اس جلسہ کا آ غاز ہوا ۔ ڈاکٹر محبوب راہی اور ڈاکٹر غلام السیّدین کا استقبال کیا گیا ۔ محمّدا سد اللہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کر تے ہو ئے اپنی کتاب کے متعلق یہ اطلاع دی کہ مہارشٹر اسٹیٹ اردو اکاڈمی کے مالی تعاون سے منظرِ عام پر آئی کتاب ’خواب نگر’ ای بک ‘کے طور پر انٹر نیٹ پر اس پتہ پر دستیاب ہے ۔ http://bazmeurdu.blogspot.com
گلستان کالونی میں منعقدہ اس تقریب میں شہر کے مقتدر شعراء اور ادب نواز شخصیات نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر بدرِ جمیل،ڈاکٹر زینت اللہ جاوید ،ڈاکٹر رضی الدین معروفی،عبدالصمد قیصر ،عبدالوحید ،مشتاق احسن ،سکندر حیات اور ڈاکٹر جاوید قابلِ ذکر ہیں۔


Monday, January 25, 2010

Paisa Hi Sab Kuch Nahi. پیسہ ہی سب کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..... Mohammad Shareef


پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے

محمّد شریف ،ناگپور

ہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ

ایک صاحب سے مجھے کچھ رقم مستعار لینی تھی ، جس کا وہ مجھ سے وعدہ کرچکے تھے، میں نے انہیں فون کیا تو نوکر نے اٹھایا ، میں نے پوچھا صاحب ہیں؟ اس نے پوچھا آپ کون ؟ میں نے اپنا نام بتایا۔ اس نے صاحب کو جو قریب ہی کھڑے یا بیٹھے ہوگے ، میرا نام بتایا ، صاحب نے کہا ، بول دے صاحب نہیں ہیں۔ اس آواز کو میں نے بھی سن لیا اور پھر نوکر نے بھی مجھ سے کہہ دیا ،صاحب نہیں ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ میں بھی خود دار آدمی ہوں، سمجھ گیا کہ یہ دینا نہیں چاہتے، اس کے بعد سے نہ اس کا کوئی ذکر کیا نہ فون کیا۔ بات تو ختم ہوگئی۔ میراکام بھی کہیں اور سے پورا ہوگیا۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ مقابلہ مال اور عمل کا تھا۔ ان صاحب نے اپنی ہوشیاری سے مال بچالیا اور عمل خراب کرلیا۔ حالانکہ یہاں مال صرف عارضی طور پر کچھ مدت کے لئے قبضہ سے نکلنے والا تھا ضائع ہونے والا نہیں تھا، لیکن انہوں نے ضائع ہونے کے موہوم خوف سے اپنا عمل خراب کر کے آخرت کو نقصان پہنچایا۔ ایک تو انہوں نے جھوٹ کا ارتکاب کیا جو گناہ کبیرہ ہے۔ دوسرے وعدہ خلافی کی۔ وہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔ تیسرے اپنے وقار کو میرے نزدیک کم کرلیا۔ اگر وہ پہلے عذر کردیتے تو کوئی نقصان نہیں تھا۔ اکثر لوگوں میں یہ بیماری پائی جارہی ہے کہ وہ پیسے ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں عمل کی پرواہ نہیں کرتے۔

نیک آدمی کے لئے مال اچھی چیز ہے لیکن اتنی اچھی نہیں کہ اس کے لئے اپنا عمل خراب کیا جائے جبکہ مال کی ملکیت بھی عارضی ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ مال کی محبت آدمی کے خمیر میں رکھی گئی ہے۔ انہ لحب الخیر لشدید ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان خیر کی محبت میں بہت شدید ہے۔ اور یہاں خیر سے مراد مال ہے۔ یہ مال آدمی کے لئے خیر اسی وقت تک ہے جب تک کہ آدمی اس مال سے اپنی آخرت بنائے۔ اگر مال کے ذریعہ اپنی آخرت کو بگاڑتا ہے تو اس مال سے بڑھ کر کوئی شر نہیں ہے۔ کہ مال کی فروانی آدمی کو اللہ سے اور آخرت سے غافل کردیتی ہے۔ جب آدمی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے میں کمزور ہوتا ہے یعنی جب یقین میں ضعف ہوتا ہے تو سب سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی مال میں اسراف یعنی فضول خرچی اختیار کرتا ہے۔ یہ اللہ سے بُعد کا پہلا زینہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان اللہ لایحب المسرفین ۔ ’’ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ‘‘۔

جب اللہ تعالیٰ کسی کو پسند نہ کرے تو وہ اللہ سے قریب کیسے ہوسکتا ہے۔ بہت سے لوگ نماز روزہ وغیرہ عبادات کر کے اللہ سے قریب ہونے کا گمان کرتے ہیں جبکہ اسراف نے انہیں اللہ سے دور کردیا ہے۔ یہ تو آدمی کی بھی فطرت ہے کہ جب انسان کسی کو ناپسند کرتا ہے تو اس سے قریب ہونا نہیں چاہتا بلکہ اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آدمی مال کو سب کچھ سمجھتا ہے اور مال کی بہتات ہوجاتی ہے تو دوسرا قدم یہ اٹھتا ہے کہ آدمی تبذیر میں پڑجاتا ہے۔ تبذیر یعنی بے موقع اور بے محل خرچ کرنا یہ اسراف سے بڑا ہے اس کے بارے میں قرآن پاک کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ بے محل خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے۔ ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔ یہ شیطان کا بھائی بن گیا یعنی ہم مشرب اور ہم مسلک بن گیا تو ایسا انسان بھی اللہ کا ناشکرا قرار دیا جائیگا ۔ اور ناشکری ایسی بُری چیز ہے کہ آدمی کو اللہ سے بھی دور کردیتی ہے اس کے دوسرے اعمال بھی برباد ہوجاتے ہیں اور اس سے نعمتیں بھی زائل ہوجاتی ہے۔ شیطان کا کیا حال ہوا حالانکہ وہ بڑا عبادت گذار تھا مگر اس کی نا شکری کی وجہ سے مردود قرار دیا گیا اور اس کی ساری عبادتوں پر پانی پھر گیا۔ اور اس کی ساری نعمتیں چھن گئیں۔ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لیکر قیامت تک جب تک کوئی اس کا نام لیگا لعنت کے ساتھ نام لیگا۔ یہی حال شیطان کے تمام رشتہ داروں یعنی مبذرین کا ہوتا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنا چاہئے۔ جب آدمی مال کی تکثیر کی وجہ سے اور آگے بڑھتا ہے تو وہ گناہون میں خرچ کرنے والا بنتا ہے۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ جہنمیوں کی صفات میں یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ وہ دنیا میں بڑے عیش کی زندگی گذارا کرتے تھے انھم کانو قبل ذالک مترفین اس لئے ضروری ہے کہ آدمی مال کی زیادہ حرص اور لالچ نہ کرے بلکہ بقدر ضرورت پر قناعت کرے۔ مال کو حدیث میں فتنہ کہا گیا ہے۔ اور فتنہ کو قرآن پاک میں قتل سے بھی زیادہ اشد اور قتل سے بڑا بتایا گیا ہے الفتنۃ اشد من القتل اور الفتنۃ اکبر من القتل مال کے حصول میں اللہ کے حکموں کی رعایت کرے اور جب مال آجائے تو اس کے جمع رکھنے میں بھی اللہ کے حکم کو دیکھے اور خرچ کرے تو اس میں بھی اللہ کے حکم ہی کو اصل سمجھے۔ نہ خرچ کرنے میں بھی اللہ کا حکم اصل ہو۔ مال کی کمی کے خوف سے خرچ کرنے سے رکنا اللہ پر توکل میں کمی کی دلیل ہے۔ جبکہ تو کل پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کافی ہوجانے کا وعدہ کیا ہے۔ ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ’’ جو اللہ پر توکل کرلے اللہ اس کے لئے کافی ہے ‘‘۔ اللہ پر توکل نہ کرنے والا اللہ کی کفایت سے نکل جاتا ہے۔

جب کسی کے پاس مال ہوتا ہے تو عام طور پر اس کی نظر اللہ سے ہٹ جاتی ہے اور وہ مال ہی پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔ اور یہ اللہ کی سنت ہے کہ بندہ جس پر بھروسہ کرتا ہے اور جس سے امید کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کے حوالہ فرمادیتا ہے۔ یہ ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم جس چیز سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کو بندہ پر مسلط کردیتا ہے اور جس چیز سے ابن آدم امید باندھتا ہے اسی کے حوالہ کردیتا ہے۔ اس وقت امت میں عموماً یہ مرض سرایت کرچکا ہے کہ لوگ مال ہی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں اور یہ یقین کررہے ہیں کہ مال ہی سے سب کچھ ہوتا ہے اور مال کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے اللہ نے بھی مال کے حوالہ کردیا کہ مال کماؤ پھر تمہارے کام بنائیگے۔ اس لئے ساری دنیا مال کے لئے دوڑرہی ہے۔ مال کے لئے اپنے وطنوں کو عزیز واقارب کو چھوڑ چھوڑ کر غیر ممالک میں پڑے ہوتے ہیں۔ غیر مسلم اگر مال کے لئے ایسا کریں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان کے لئے تو دنیا ہی جنت ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمان مال کے لئے مارا مارا پھر رہا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنی خاندانوں کو ہندوستان ، پاکستان، میں چھوڑ کر دوبئی۔ ابوظبی، شارجہ اور سعودی عرب اور کویت اور قطر میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر تھوڑی روزی پر قناعت کرتے تو چین وسکون کے ساتھ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کے لوگوں میں اپنے وطن میں بہترین زندگی گذار سکتے تھے۔ یہ مال ہی کا فتنہ ہے جس نے وطن سے بے وطن کردیا ۔ یہ مال کمانے کی حرص کی ایسی وبا ہے کہ اس کے لئے سب راضی بھی ہیں۔ ان بیرونی ممالک میں ملازمت یا کاروبار کے لئے جانے والوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے نہ بیوی بچے اپنے شوہر یا والد کی جدائی پر ناراض ہے نہ ماں باپ ، بیٹے کی جدائی سے خفا ہیں کہ مال کی امید ہے۔ کسی مولوی صاحب اور مفتی صاحب کو بھی اس کی تو فیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اقربا یا متعلقین میں سے جو بیرون مال کے لئے جارہا ہو اس سے روکے۔ جبکہ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ بہترین روزی وہ ہے جو آدمی کو اپنے وطن میں ملے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کمانے کے لئے باہر ملک جانا ناجائز یا حرام ہے۔ لیکن اس میں دین کا ضرر ضرور ہے۔ باہر رہ کر جب مقصد ہی دنیا ہوتا ہے تو آدمی دین کی پرواہ نہیں کرتا ادھر بیوی بچے بھی آزاد ہوجاتے ہیں۔ شوہر کی غیر موجودگی میں گھر کی حکومت بیوی کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔ وہ شوہر کے پیچھے خود بھی من مانی زندگی گذارتی ہے اور بچے بھی آزادی میں پرورش پاتے ہیں۔ پھر مال کی کثرت پورے گھرانہ کو اسراف اور تبذیر اورترف میں مبتلا کر دیتی ہے اور آخر کار دنیا بھی برباد ہوتی ہے اور دین تو پہلے ہی گیا ہوتا ہے۔ جس کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

ایک جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انما الحیاۃ الدنیا لھو ولعب دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ ایک جگہ فرمایا وماالحیوۃ الدنیا الا متاء الغرور یعنی دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے سوائے دھوکہ کے سامان کے۔اس لئے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ مال کے چکر میں نہ پڑے۔

حضورؐ نے فرمایا اجملوفی الطلب یعنی اپنی طلب میں اختصار کرو۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ضروری ہے کہ مال کمانے میں ہمیشہ اس کا خیال رکھے کہ کوئی ایسا کاروبار یا ملازمت نہ اختیار کر ے جس میں دین پر چلنا مشکل ہو۔ ایسا شغل جس میں دین پر چلنا اور اللہ کے اوامر کو پورا کرنا مشکل ہو اس کا اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ عام طور پر آج کے مسلمان اس کا لحاظ نہیں کرتے۔ بس تنخواہ اچھی ہونا چاہئے ، چاہے دین رہے یا نہ رہے۔ ایسے پیسے سے کیا بھلا ہوگا جس میں دین برباد ہوجائے۔ دینی غیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم ایسا پیشہ بھی نہ اختیار کریں جس میں ہمیں اپنا کلچر چھوڑنا پڑے۔ مثلاً ہندوستان میں ملٹری اور پولس کے لئے پابندی ہے کہ وہ داڑھی نہیں رکھ سکتے تو کیا ضروری ہے کہ ہم پولس یا فوج میں بھرتی ہوں۔ روزی کے ہزاروں دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی وہ ماحول جہاں پابندی تو کسی چیز کی نہیں ہے مگر پھر بھی آدمی کا دین پر رہنا مشکل ہو ایسے ماحول میں بھی اپنا پیشہ یا کاروبار نہ کرے ، چاہے کتنی ہی بڑی تنخواہ مل سکتی ہو۔ مسلمان پر حلال کمائی فرض ہے ، لوگ سمجھتے ہیں صرف کمانا فرض ہے۔ نہیں بلکہ حلال کمائی فرض ہے اور وہ بھی دوسرے فرائض کے بعد، جہاں نماز نہ ہوسکتی ہو۔ اور حرام سے نہ بچا جاسکتا ہو وہ کمائی ناجائز ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کسب الحلال فریضۃ بعد الفرائض یعنی حلال کمائی فرض ہے دوسرے فرائض کے بعد۔ یہ بات خوب اچھی طرح اپنے ذہن میں بٹھائیں کہ پہسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ بلکہ اصل دین ہے۔ دین داری کے ساتھ اگر پیسہ آتا ہے اور دینداری کے ساتھ ہی پیسہ خرچ بھی ہوتا ہو تو نیک آدمی کے لئے مال اچھی چیز ہے وہ اس میں دنیا اور آخرت کا نفع اٹھا سکتا ہے۔ جس مال سے دین خراب ہوتا ہو جس مال سے آخرت برباد ہوتی ہو وہ خود کو مارنے کے مترادف ہے۔ ایسے مال کا کیا کرینگے جس سے ہمارا محبوب اللہ ہم نے ناراض ہوجائے۔ ایمان والوں کا محبوب تو اللہ ہے

الذین امنوا اشد حب للہ ’’ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں ‘‘۔

اسی لئے اللہ کے رسول نے امت کو دعا سکھائی ہے اللھم اجعل حبک احب الی من نفسی و اھلی ومن الماء البارد یعنی اے اللہ مجھے اپنی محبت عطا فرما جو میری جان سے اہل وعیال سے اور سخت پیاس کی حالت میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Jamhootiyat ka matlab

جمہوریت کا مطلب

مزاحیہ نظم  
محمّد اسد اللہ 
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جمہوریت یہی ہے کہ سب سڑک پہ آ ئیں 
حق مانگنے کو اپنا جب تب سڑک پہ آ ئیں 

جینے کی راہ ہے یہ داناؤں کی نظر میں 
جمہوریت کا ہے یہ مطلب سڑک پہ آ ئیں 

اک تنتر گن چلانے کا ہے یہ اور کیا ہے
گن تنتر ہے یہ لے کر گن سب سڑک پہ آ ئیں 

موچی سے منتری تک سب آ گئے سڑک پر 
کیوں آ پ گھر گھسے ہیں صاحب! سڑک پہ آ ئیں 

کیا نیا ئے کیا سہولت ،کیا دان کیا حکومت 
جو چاہیے ملے گا ،جب جب سڑک پہ آ ئیں

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::


Wednesday, January 20, 2010

Urdu writing workshop in Nagpur تخلیقی ورکشاپ طلباء کے لٔے


Shaikh Mohammad Hashim ,Guest Editor of Tahzeebul Kalam
Eminent Writer Wakeel Najeeb 
Famous Critic Poet and Writer Dr. Sharfuddin Sahil 
........................................................................................................
ایک رپورٹ 
مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں 
تخلیقی ادب کے لئے ورکشاپ کا انعقاد

 ناگپور ..
’وہ طلبا جو ادب میں اپنی پہچان بنانا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندر چھپی ہو ئی فطری صلاحیتوں کو پہچانیں اور پھر مخصوص صنفِ ادب کا انتخاب کر کے لگاتار طبع آ زمائی کریں ۔‘

 مشہور ادیب و محقق ڈاکٹر شرف الدین ساحل نے مولانا ابوالکلام آزاد ہا ئی اسکول و جو نیئر کالج میں منعقدہ، رائیٹنگ ورکشاپ کے کلیدی خطبہ میں طلبا کو مختلف اصنافِ ادب سے متعارف کر واتے ہو ئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ 
  اسی کالج کے پرنسپل جناب عبدالرؤف کی صدارت میں افتتاحی تقریب کا آغاز ایک طالبِ علم محمّد مصطفےٰ نے تلاوتِ کلامِ ربّانی سے کیا۔
 ہائی اسکول و جو نیئر کالج کے تقریباً دو سو طلبا نے اس ورکشاپ میں شرکت کی جو اسکول کے سالانہ مجلّہ تہذیب الکلام ۲۰۱۰؁ء کے لئے تخلیقی کام کرنا چاہتے تھے ۔ اس موقع پر بچّوں کے معروف ادیب و ناول نگار جناب وکیل نجیب نے طلباء کو زیادہ سے زیادہ کتابوں اور رسائل کے مطالعہ کا مشورہ دیا تاکہ وہ معیاری ادیبوں کے طرزِ تحریر اور مختلف اسالیب سے واقف ہو سکیں ۔ میگزین تہذیب الکلام کے مہمان مدیر جناب شیخ محمّد ہاشم نے ورکشاپ کے شرکاء طلبا کو ڈائری لکھنے کی ترغیب دی تاکہ لکھنے کی مشق کے ساتھ عمدہ اقوال ،اشعار اور ادیبوں کے افکار کا ذخیرہ بھی کر سکیں جو ان کے تخلیقی سفر میں معاون ثابت ہو۔
 
 میگزین کے مدیر اور معروف انشائیہ نگار ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے طلبا کو رسائل سے تحریریں نقل کر کے پیش کرنے یا چراکر اپنے نام سے چھپوانے کی بری عادت سے دور رہ کر، آسان اور اپنی دلچسپی کے مو ضوعات پر لکھنے کا مشورہ دیا ۔ 
 جناب ضیا اللہ خاں لو دھی نے طلبا ء کو سرِ ورق کے ڈیزائن بنانے سے متعلق مفید ہدایات دیں ۔ اس ورکشاپ میں جو نیئر کالج کی طالبات نے اپنی کاوشوں کو پیش کر کے دادِ تحسین حاصل کی ۔ 
 پرنسپل جناب عبدالرؤف نے اپنے صدارتی خطبے میں طلبا سے کہا کہ وہ پر اعتماد طریقے سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اپنے اساتذہ اور مقامی ادیبوں اور شاعروں کی رہنمائی حاصل کر کے زبان و ادب کی خدمت کا فریضہ انجام دیں ۔ 
 

Tuesday, December 01, 2009

Pune -Ek Safar Ki Jhalkiyan

سینا پتی باپٹ روڈ پر واقع سم بایوسس کالج کا ایک منظر ۔۔۔۔۔

 گیٹ کے اندر مشہور آرٹسٹ آر کے لکشمن   کے کارٹونوں میں پاءے جانے والے عام آ دمی کا مجسمہ 


تلک واڑا 


شنوار واڑا 

آدی واسی سنگرہالیہ ۔۔۔۔۔۔۔  میوزیم کا ایک منظر

یودّھ بھومی 

ایک سفر شہر پونا کا 
محمّد اسد اللہ 

اس بار نصابی کمیٹی بال بھارتی کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لئے پوناجانے کا اتّفاق ہوا۔اسے حسنِ اتّفاق ہی کہا جائے گا کہ اس بار میرا بیٹا توصیف احمد اور شہر ناگپور کے معروف ادیب،ناقد محقق ڈاکٹر شرف الدین ساحل میرے ساتھ تھے ۔اس سے پہلے بارہا اس شہر میں رہ کر اردو کتابوں کے تیّاری،تبصرہ ،ورکشاپ وغیرہ سر گر میوں میں مصروف رہا اورہر بار نئے لو گوں سے ملنا ،اردونواز دوستوں ،ادیبوں ،شاعروں کے ساتھ دیر تک ادبی ،غیر ادبی مو ضوعات پر گفتگو ،ملاقاتیں دعا سلام اوراہلِ اردو کے منفرد خلوص و محبّت،بزرگ قلمکاروں کی شفقت، ایسے تجربات ہیں جو ناگپور سے پونا کے تقریباً سولہ یا اٹّھارہ گھنٹے کی پر مشقّت مسافت کو بخوشی برداشت کرنے پر آ مادہ کر تے ہیں ۔ 

یوں توہمیں یہاں اس خوش گمانی کے تحت مدعو کیا جا تا ہے کہ ہم نصابی کتا بوں کو بہتر بنانے میں کچھ مدد کریں گے، زبان و ادب پر ہمار ی نظر ہے ،من آنم کہ من دانم ،
ہم بھی اس دعا کے ساتھ رختِ سفر باندھ لیتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان کے گمان کے مطابق بنادے ۔
       ہم میں سے مختلف لو گوں کے یہاں آ نے کے مقاصد یقینا مختلف ہو ا کرتے ہیں ۔ مراٹھی کے ایک ٹیچر نے مجھے بتایا کہ اس سفرمیں جس قدر خرچ ہو تا ہے اتنا تو یہاں ملتا نہیں، مگر ہمار ی بستی میں اس اعزاز سے ہماری شان بڑھ جاتی ہے کہ ہم بورڈ ورک کے لئے گئے ہیں ،میں اسی لئے آ تا ہوں ۔ ہمارے ساتھیوں میں ایک صاحب جو اسی ذہنیت کے مارے تھے ناگپور سے ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر پو نا آ دھمکے ،منتظمین نے یہ کہہ کر انھیں زور کا جھٹکا دیا کہ ہم بس ہی کا کرایہ آ پ کی خدمت میں پیش کر سکیں گے ۔  

میر ی ہی طرح یقینا کئی لو گ ایسے بھی ہوں گے جو اسکول کی گھٹن بھری فضا سے جو ان دنوں ہر جگہ یکساں ہے ،چند پر لطف لمحات چرانے کے لئے اس قسم کی میٹینگوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میرے لئے تو اس قسم کی مجلسیں ہر بار کچھ نیا سیکھنے اورعلم و ادب کے گلستانوں سے خوشہ چینی کا ایک بہا نا رہا ہے ۔
اس میں کو ئی شک نہیں کہ پو نا بورڈ میں کتابوں کی تیّاری زبان و ادب کے ماہرین اور قلمکاروں کی ان تھک ریاضت، محنت لگن ،انہماک اور خوب سے خوب تر کی جستجو کا مظہر ہے ،یہی سبب ہے کہ لسا نی کمیٹی کے ایک رکن کے قول کے مطابق این سی ای آ ر ٹی جو نصابی کتب کی تیاری میں ایک معتبر ادارہ مانا جا تا ہے ،پو نا بورڈ کی تیار شدہ کتابوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ان ہی اراکین میں سے ایک صاحب یہ کتابیں پاکستان لے گئے تو ا ن کتابوں کو ہا تھوں ہاتھ لیا گیا ۔ کیوں نہ ہو جس قدر عرق ریزی اور سنجیدگی سے یہاں کام ہوتا ہے اس کا اثر تو ہو گا ہی ۔ 
اس بارمیں چاہتا تھا کہ توصف میاں جو ما شااللہ بی۔ ای۔ کے تیسرے سال میں ہیں کتابوں اور اپنے کالج کے ماحول سے نکل کر نئے شہر کی آب و ہوا اور لو گوںسے بھی روشناس ہوں ۔ 
بقول غالب    

   بخشے ہے جلوۂ گل ذوقِ تماشا غالب
     چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جا نا ۔
 
  شہر پونا میں کئی قابلِ دید مقامات ہیں ۔شنوار واڑا،کیلکر میوزیم،آغا خاں پیلیس ،سارس باغ ،سنیک پارک ،اعظم کیمپس ،وغیرہ 

ہماری میٹینگ کا دوسرا دن تھا۔صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے میں اور توصیف آٹو کے ذریعے ڈکّن بس اسٹاپ پہنچے ۔پتہ چلا پونا درشن ،ایک بس دن بھر شہر کی سیر کراتی ہے ۔ایک سو چالیس روپئے کا ٹکٹ توصیف کے لئے خریدا اور وہیں ہلکا سا ناشتہ کر کے توصیف بس میں سوار ہو گئے ۔ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کے اس سفر میں کئی مقامات ہیں جن میں کئی مندر اور تاریخی عمارات بھی شامل ہیں ۔ میں تو بال بھارتی چلا آ یا اور توصیف شام تک پو نا درشن میں مشغول رہے ۔ اس سفر کی چند تصاویر یہاںپیش کی جا رہی ہیں۔