Sunday, September 13, 2009

مبارک ہو کہنے سے عید نہیں ہو تی Celebrating Eid -- Ramadan


محمّد شریف ،ناگپور

عید تو مبارک ہوتی ہی ہے، عید اپنے ساتھ ایسی برکتیں سمیٹ کرلاتی ہے کہ امت کا ہر فرد اس سے نفع اٹھاتا ہے۔ بلکہ مسلمانوں کے قرب و جوار میں رہنے والے غیر مسلم بھی عید کی برکات میں سے کچھ نہ کچھ مادی برکات پاہی لیتے ہیں اور وہ ان برکات کی وجہ سے سال بھر عید کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن عید کی حقیقی برکات ان لوگوں کو ملتی ہیں جو رمضان المبارک میں روزوں کا اہتمام کرتے ہیں اور ان روزوں سے ان کو صرف اللہ کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ وہ نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں تراویح بھی ادا کرتے ہیں کثرت سے ذکر و تلاوت کرتے ہیں۔ صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے حقیقت میں عید ہے۔ لوگ زمین پر عید کا جتنا اہتمام کرتے ہیں نئے کپڑے بناتے ہیں اچھے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں آسمانوں پر عید کا انتظام اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ عید کی رات کو آسمانوں پر لیلۃ الجائز ہ یعنی انعام کی رات سے یاد کیا جاتا ہے۔ 

جب صبح ہوتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے لشکر کے ساتھ زمین پر نزول فرماتے ہیں۔ فرشتے مسلمانوں کی آبادیوں میں گلی کوچوں میں اور سڑکوں پر پھیل جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ اے لوگوں چلو اس کریم رب کی بارگاہ کی طرف جو بہت زیادہ دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ آج کے دن تم مجھ سے جو سوال کرونگے عطا کرونگا۔ آخرت کے بارے میں جو مانگوگے وہ دونگا اور دنیا کے بارے میں مجھ سے جو طلب کرونگے مصلحت پر نظر کر کے عطا کرونگا۔میرے بندو جب تک تم میرا خیال رکھونگے میں تمہارا خیال رکھونگا۔ تم پر ستاری کرتا رہونگا میری عزت اور جلال کی قسم میں تمہیں کفاراور مشرکین کے سامنے رسوا اور فضیحت نہیں کرونگا ۔جب عید کی نماز ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے مغفرت عامہ کا فیصلہ ہوتا ہے اور کہاجاتا ہے اب بخشے بخشائے اٹھو۔

ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ منبر پر چرھتے ہوئے جب پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا آمین ، جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا آمین۔ صحابہ نے یہ خلاف معمول بات دیکھ کر خطبہ کے بعد یہ استفسار کیا کہ یارسول اللہؐ آج آپ نے ایسا کیوں کیا تو حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے جب میں نے پہلے درجہ پرقدم رکھا تو فرمایا ہلاک ہو وہ شخص جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے اور اپنی مغفرت نہ کرالے، میں نے کہا آمین۔
اسی طرح دودعائیں اور بھی ارشاد فرمائی جو اس وقت کا موضوع نہ ہونے کی وجہ سے خدف کی جارہی ہیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ خود جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں آپ آمین کہئے۔ اس سے اور زیادہ اہتمام معلوم ہوتا ہے۔ اب ذرااس ایک دعا پر غور فرمالیں جو درحقیقت بددعا ہے۔ رمضان کی ناقدری کرنے والوں کے لئے۔ اب سوچیں جبرائیل علیہ السلام جیسے مقرب فرشتہ کی دعا جوتمام فرشتوں کا سردار ہے اور جس کو اللہ ذوالجلال والاکرام اور تمام انبیاء علیھم السلام کے درمیان واسطہ بننے کا شرف حاصل رہا ہو گویا کہ رسول من الملائکہ ہو اور اس پر سید الانبیاء خاتم النبین حبیب رب العالمین کا آمین کہنا کیا اس دعا کی قبولیت میں کوئی شک کرسکتا ہے۔ 

اب ذرا غور کریں کہ کسی کو جبرائیل علیہ السلام کی بددعا لگ گئی ہو تو اس کو کسی کی عید کی مبارک باد دینا کیا کام آسکتا ہے۔ لیکن ہائے ہماری بے ہوشی کہ ہم عید کی تیاریوں میں لگے ہوتے ہیں عید کے لئے نئے نئے کپڑے جوتے ٹوپی خریدنے جارہے ہیں، عید کی نماز سے فارغ ہو کر سیروتفریح کے پلان بن رہے ہیں۔ دن عید جیسا مبارک اور اس کا استقبال نمازیں چھوڑ کر اور گناہوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ جو خاص مغفرت کا عشرہ تھا اس کو بھی رات رات بھر بازاروں کے چکر کاٹ کر گذار دیئے۔ مردوعورتوں کا ہجوم ہے جو طاق راتوں میں بھی بجائے مساجد کے بازار کی دوکانوں کو آباد کئے ہوئے ہیں۔ نہ کسی کو شب قدر کی جستجو ہے نہ اپنے آپ کی مغفرت کی آرزو ہے۔ تشبع بالکفار ہے کہ صرف دنیا کی ظاہری زندگی پر ہی نظر ہے اور آخرت آنکھوں سے اوجھل ہے۔ گویا ہم اس آیت کا مصداق ہیں جو کفار کے بارے میں بیان کی گئی ہے
کیسی مبارک راتیں تھیں جن کو ہم نے بازاروں کی نذر کردیا اگر شب قدرکو پاجاتے تو لیلۃالقدر خیر من الف شھر یعنی شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس قول کی وجہ سے ۸۳! (تراسی سال) اور چند مہینہ مزید سے بھی زیادہ عبادت کا ثواب پاتے۔ لیکن افسوس ہمارا تو ذوق ہی بدل گیا۔ ایسی عید کی تیاری میں لگے ہیں جو کل باسی ہو جائیگی۔ وہ لباس فاخرہ جس کو پہن کر اترارہے تھے دوسرے ہی دن پرانا ہو جاتا ہے۔ وہ لذیذ کھانے اور میوے جس کو خوب اہتمام سے پکایا دوسرے دن اس قابل بھی نہیں رہتے کہ ان پر نظر بھی ڈال سکیں۔ اگر اس عید کی حقیقت پر نظر رکھ کر ہم نے اپنی مغفرت کرالی اور اپنے رب کو راضی کرلیا تو آدمی کی حقیقی عید موت کے وقت ہوگی۔ وہ ایسی عید ہوگی جو کبھی باسی نہ ہو اس کے بعد نہ کوئی غم نہ کوئی درد نہ کوئی تکلیف نہ کوئی گھبراہٹ ، نہ مصیبت نہ بے چینی۔ بلکہ نعمتیں ہی نعمتیں جن کو کبھی زوال نہیں ہوگا نہ کوئی روک ٹوک ہوگی۔ بلکہ کہا جائیگا ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون ’’ تمہارے لئے اس میں وہ سب کچھ ہے جس کو تمہارا جی چاہے، اور اس میں تمہارے لئے وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ‘‘۔ ایسے لوگوں کے لئے ان کی موت کے وقت ان سے خطاب کیا جائیگا :

اللہ فرمائیگا چل میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ لیکن یہ خطاب ان ہی کے لئے ہے جنہوں نے دنیا میں اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور اللہ کی مرضیات پر چلاتے رہے۔ اس طرز زندگی کو اپنا نے کے لئے یہ رمضان کا مہینہ دیا گیا ہے تاکہ عید ہمارے لئے زندگی کے رخ کو پلٹنے کا ذریعہ بن جائے۔ عید گاہ سے ہم سچی پکی تو بہ کر کے لوٹیں اپنی مغفرت کرالیں اور اللہ سے آئندہ زندگی میں فرمانبرداری کا عہد کر کے اٹھیں اور اس کے لئے اسی سے توفیق بھی مانگیں ، اب یہ عید واقعی اس قابل ہے کہ اس کے لئے مبارک باد دی جائے۔

Friday, September 04, 2009

اساتذہ سے ایک انٹرویو ۔ سوالنامہ Interview On teachers day (Urdu)













اساتذہ سے ایک انٹرویو ۔ سوالنامہ 
یومِ اساتذہ
 
پیشکش : محمّد اسد اللہ  

بھارت کے سابق صدرِ جمہوریہ ،سروپلّی ڈاکٹر ردھا کشنن کا جنم دن پانچ  ستمبر ،ملک بھر میں یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جا تا ہے ۔ڈاکٹر رادھا کشنن نے اپنا کریئر ایک استاد کی حیثیت سے شروع کیا تھا اور ملک کے سب سے بلند مقام تک پہنچ گئے لیکن تدریس اور اساتذہ کا احترام ان کے دل میں برا بر قائم رہا ۔سماج میں اس معزز ہستی کو جسے معمارِ قوم کے نام سے بھی جانا جا تا ہے ،اب وہ عزّت اور مرتبہ حاصل نہیں جو کسی زمانے میں تھا کہ ایک ہندی زبان کاایک شاعریہ کہتا ہے کہ میرے سامنے استاد اور بھگوان دونوں موجود ہو ں تو میرے لئے یہ فیصلہ کر نا دشوار ہے کہ پہلے کس کی پا بوسی کرو ں ۔

نہ صرف طلباء بلکہ پورا سماج اساتذہ کو احترام اور قدر کی نگاہوں سے دیکھے اور ان کے علم ا و رہنمائی سے انسانی زندگی انقلابی تبدیلیوں سے ہمکنار ہو ،شاید اسی خواہش کے تحت ڈاکٹر ردھا کشنن نے اپنے جنم دن کو یومِ اساتذہ کے طور پر منانے کی سفارش کی  تھی  

وقت کے ساتھ اساتذہ بھی اپنے فرائضِ منصبی کو کسی حد تک فراموش کر بیٹھے یا تدریس کے شعبہ میں بڑھتی ہو ئی تجارتی ذہنیت نے انھیں اس قابل نہ رکھا کہ وہ ایک فرض شناس استاد کا رول ادا کر سکیں۔
یومِ اساتذہ کو جب طلباء اپنے استادوں کی خدمت میں بڑی عقیدت اور احترام سے گلوں کے تحفے پیش کر تے ہیں تو یہ دن تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لئے یومِ احتساب بن جا تا ہے کہ وہ اپنی ذمّداریوں کو پورا کرنے کے بارے میں سوچیں اور اپنے معمولات میں تبدیلی پیدا کریںاور اپنے آ پ کو کو طلباء کے لئے مفید بنائیں ۔
 

راقم السطور جو خود بھی اسی مبارک پیشے سے تعلّق رکھتا ہے ، صورتِ حال کو بہتر بنانے کی اپنی سی سعی کرتا ہے ۔میرے طلباء جو جو نیئر کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، ان میں سے اکثرطالبات مستقبل میں ڈی ایڈ کا امتحان پاس کر کے درس و تدریس سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ہم اپنے کالج میں طلباء میں اسی ذمّہ داری کا شعور پیدا کر نے کے لئے یومِ اساتذہ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کر تے ہیں ۔ ان میں سے ایک ہے طلباء کے ذریعے اساتذہ کے انٹر ویو ۔

یہاں ایک سوالنامہ پیش کی جا رہا ہے، طلباء اس دن اساتذہ سے اس میں شامل سوالات کے ذریعے نہ صرف ان کی رائے جاننے کی کو شش کر یں گے بلکہ ممکن ہے انھیں خود احتسابی کی ایک خاموش دعوت بھی دیں گے۔ ان میں سے اکثر سوالات ہمارے طلباء نے تیار کٔے ہیں ،نوکِ پلک سنوارنے والے ہم ہیں۔ 

مقاصد 

طلباء اور اساتذہ کے درمیاں بات چیت کے ذریعے طلباء میں خود اعتمادی پیدا کر نا

طلباء میں سوالات بنانے اور انھیں پوچھنے کی صلاحیت پیدا کر نا۔

کسی کے بیان کو نوٹ کر نے اور اس کے خیالات کو ترتیب وار لکھنے کی مشق کر وانا ۔

طلباء میں انٹرویو کے دوران پوچھے جانے والے سوالات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر نا ۔

گروپ میں کام کر نے کی عادت ڈالنا اور گروپ لیڈر کی رہنمأی میں ٹیم ورک کرنے کی صلاحیت پیدا کر نا ۔

طریقۂ کار 

۔ اس میں طریقۂ کار یہ ہے کہ اس سوالنامہ کی دو پرنٹیڈ کاپیاں طلباء کے ایک گروپ کو دی جائیں گی ،یہ گروپ تقریباً تین یا چارطلباء پر مشتمل ہوگا ۔ ہر گروپ کو اس تعلیمی ادارہ میں شامل چار اساتذہ کے نام دئے جا ئیں گے جن سے وہ اس سوالنامہ میں شامل سوالات میں سے چار پانچ اپنی پسند کے سوالات پو چھیں گے تمام طلباء ان جوابات کے مختلف حصّے نوٹ کریں گے اور پھر انھیں گروپ لیڈر کی رہنمائی میں ترتیب دیکر ہمیں لوٹائیں گے ۔ان کے ذریعے اکٹّھا کی گئی معلومات ہم سالانہ میگزین میں ان طلباء اور اساتذہ کی تصاویر کے ساتھ شائع کریںگے ۔ممکن ہے اسے ہم اپنے اس بلاگ پر بھی پیش کریں ۔

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

       ایک مثالی معلّم میں کو ن سی خوبیاں ہو نی چا ہئے ؟ 

۲۔اگرآپ کو ایک ہفتے کے لئے وزیرِ تعلیم بنا دیا جائے تو آپ تعلیم کے میدان میں کون سی اہم تبدیلی لا نا چاہیں گے ؟ 

۳۔کسی ایسے استاد کا نام بتائیے جنھوں نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ،یا آ پ کی زندگی میں کو ئی تبدیلی پیدا کی ۔ان کی کو ئی خاص بات جو آ پ کو یاد ہو۔

۴۔ ذہین ،Avarage (متوسط )،او رکمزور یعنی مختلف قسم کے طلباء کو پڑھاتے وقت آپ کو کن مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے؟ 

۵۔آپ ٹیچنگ فیلڈ میں خود اپنی مرضی سے آ ئے ہیں یا حالات نے اس پیشہ کو اپنانے پر مجبور کیا تھا ؟ اگر آ پ ٹیچر نہ ہوتے تو کیا بننا پسندکر تے؟ 

۶۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی مضمون (Subject) کے بارے میں ٹیچر سے زیادہ معلومات کسی اسٹوڈنٹس کو ہو سکتی ہے ؟ 

۷۔ ٹیچرس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ ایک فلاسفر،گائیڈ اور دوست ہوا کر تا ہے ،آپ ان میں سے اپنے لئے کون سا رول پسند کریں گے ؟ 

۸۔ کیا آ پ اپنے بچّوں کو ٹیچر بنانا پسند کریں گے ؟اور کیا آ پ کے بچّے خود بھی ٹیچر بننا چاہیں گے ۔ ہاں! نہیں۔ کیوں؟

۹۔ اگر آپ کی کلاس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہیں تو آ پ کی نظر میں ان میں کون بہتر ہے ؟کچھ لوگ لڑکوں کی تعلیمی ترقّی سے مطمعن نہیں ہیں ۔آپ کا کیا خیال ہے؟

۱۰۔ آج سماج میں اساتذہ کی وہ عزّت باقی نہیں رہی جو ہو نی چاہئے اس کی کیا وجہ ہے ؟ 

۱۱۔اردو میڈیم اسکولوں کے گرتے ہو ئے معیار کا ذمّہ دار آ پ کی نظر میں کون ہے۔طلباء،سرپرست یا اساتذہ ۔

۱۲۔ ٹیچرس ڈے کیوں منایا جا تا ہے ،طلباء کو ٹیچر کے مقام و مرتبے سے واقف کر انے کے لئے یا ٹیچرس کوان کی ذمّہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے یا ٹیچرس کی دلجو ئی کے لئے ؟ 

۱۳۔ ٹیچرس ڈے پر طلباء اسکولوں میں اساتذہ کی خدمت میں تحفے اور پھول پیش کر تے ہیں ۔ اس رواج کے بارے میں آ پ کا کیا خیال ہے ؟ 

۱۴۔اردو کے ایک مزاح نگار مرحوم یوسف ناظم نے کہا تھا کہ’’ ہمارے نظامِ تعلیم میں دو چیزوں کی کمی ہے ۔ایک تعلیم اور دوسرے نظام کی‘‘۔آ پ کے خیال میں ، ہمارے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے سر کا ر کو کون سے قدم اٹھانے چاہئے ؟ 

۱۵۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر آ پ طلباء کو کو ئی پیغام دینا چاہیںگے ؟ 

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،




Friday, August 21, 2009

tree plantation, mahauliyat, ماحولیات, جنگلات کا تحفّظ



جنگلات کا تحفّظ 
  

فرزانہ اسد

قدرت نے انسان کو اپنی نعمتوں کے بیش بہا خزانے عطا کئے ہیں ،جنگلات بھی ان ہی میں شامل ہیں ۔جنّت کی نعمتوں میں باغات اور نباتات کا خصوصی تذکرہ ملتا ہے ۔کرّۂ ارض پر ان ہی سر سبز و شاداب وادیوں کے سبب انسانی زندگی جنّت کا نمونہ بنی ہوئی ہے ۔انسانوں کی بیشمار ضروریات ان ہی جنگلات کی مرہونِ منّت ہیں۔نباتات کو زمین کے منظرنامہ سے خارج کر دیا جائے تو انسانی زندگی کا تصّور ہی نہیں کیا جاسکتا
۔

یہی جنگلات ہماری غذائی ضروریات کے علاوہ ایندھن ،غلّہ ،پھل ،پھول،اور ادویات کے علاوہ ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی لکڑی بھی مہیّا کرتے ہیں ،جنگلات ہی جانوروں ،چرندوں اور پرندوں کا مسکن ہیں ۔علاوہ ازیں حیوانی زندگی کا وجود انسانوںکی سماجی ،نفسیاتی ،اور جمالیاتی زندگی کی تکمیل کے لئے بے حد ضروری ہے۔اگر جنگلات صفحئہ ہستی سے مٹ گئے تو ان کے ساتھ حیوانی زندگی کا وجود بھی ختم ہو جائے گا ۔راستے میں سایہ دار درختوں کا وجود نہ صرف مفید ہے بلکہ ایک فرحت بخش احساس ہے۔ انسانی زندگی کے سفر میں بھی یہی درخت ایک وفادار ،مخلص اور معاون دوست کی طرح ہر قدم پر موجود ہیں ۔

  سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِسایہ دار راہ میں ہیں

ہندوستان کی آبادی کا ۲۲فیصد حصّہ قدرتی جنگلات سے ڈھنکا ہوا ہے ۔دنیا کے نقشے میں ،خصوصابرّاعظم افریقہ میں بڑے بڑے جنگلات موجود ہیں۔انّیسویں صدی میں یورپ میں صنعتی ترقّی کا آغاز ہوا ۔سائنسی ایجادات نے اس ترقّی کو پر لگا دئے اس کے نتیجے میں شہری آباد کاری کا عمل بڑے پیمانے پر ظہور پذیر ہوا ۔اس ترقّی و تعمیر میں خرابی کی یہ صورت پیدا ہوئی کہ وہاں بڑے پیمانے پر جنگلات کاٹے گئے اور اسی صنعتی ترقّی کے جاری اور روز افزوں ہونے کے سبب پوری دنیا میں جنگلات کا بڑی تیزی سے صفایا ہو رہا ہے ۔چونکہ درخت ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے ،بارش کے آنے اور زمین کے کٹاؤ کے عمل کو روکنے میںبڑے معاون ثابت ہوئے ہیں ، اسی کے ساتھ ۱۹۵۰ سے ۱۹۹۰ تک دنیا کی آبادی دگنی ہو گئی یعنی ۳۔۵ ملین کا اضافہ ہوا ۔انسانی آبادی کے ساتھ اس کی رہنے سہنے کی اور اسکی دیگر ضروریات بھی بڑھنے لگیںجن میں لکڑی کا استعمال بطور ایندھن ،فرنیچر،مکانات اور دیگر بہت سے کام بھی شامل ہیں ۔ اسی لئے پوری دنیا نے قدرتی جنگلات کے کاٹے جانے کو ایک بھیانک خطرہ کے طور پر محسوس کیا اورساری دنیا میں جنگلات کے تحفّظ کے لئے ایک مہم چھٰیڑ دی گئی 

یہ وہی زمانہ ہے جب ایندھن کے طور پر لکڑی جلائی جاتی تھی ۔ایک رپورٹ کے مطابق ترقّی پذیر ممالک میں ۹۰ فیصد دیہی آبادی ایندھن کے طور پر لکڑی کا استعمال کرتی رہی ہے۔ ہر سال جنگلات کا ۸۲۵ملین مربّع میٹر رقبہ نذرِآتش کیا جاتا ہے ۔بجلی اور گیس کے استعمال کی وجہ سے ایندھن کے طور پر جلائی جانے والی لکڑی کا استعمال کم ہوا ہے،یہ ایک خوش آئند بات ہے ،البتّہ اس کے باوجودرختوں ی کٹائی کا کام جاری ہے ۔فیکٹریوں کے قیام اور شہروں کو بسانے کے علاوہ عمارتی لکڑی اور دیگر ضروریات کے لئے مستعمل لکڑی حاصل کرنے کے لئے اب بھی بڑے بڑے جنگل کاٹے جاتے ہیں۔
 
ان جنگلات کی کٹائی کو روکنے کی غرض سےؑ ؑاعا لمی پیمانے پر حکومتیں اور فلاحی ادارے سر گرمِمل ہیں ۔لیکن ان کی کوششوں کے باوجود قدرتی جنگلات جس تیزی سے ختم ہو رہے ہیں وہ پوری انسانیت کے لئے ایک خطرہ کی گھنٹی ہے ۔بیشتر حکومتوں نے اور خصوصا ہمارے ملک میں بھی ہرے بھرے اور بڑے پیڑوں کو کاٹنے کے لئے حکومت کی اجازت ضروری ہے ۔بعض پیڑوں کا کاٹنا بھی ممنوع ہے ۔اس کے باوجود قانون کی خلاف ورزی کرنے والے قانون کی گرفت سے بچے رہتے ہیں ۔درختوں کی کٹائی سے ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لئے دو طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ایک درختوں کو بچانے کی کوشش اور دوسرے نئے پیڑ لگانے کی مہم ۔

درختوں کو بچانے کی کوششوں میں چپکو موومنٹ کا تذکرہ ضروری ہے ۔یہ وہ ادارہ ہے جو ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اور فضائی آلودگی کی روک تھام کے علاوہ خصوصی طور پر قدرتی جنگلات کے تحفّظ کے لئے خدمات انجام دے رہا ہے ۔اس کا مقصد عوام میں جنگلات کے تحفّظ کے لئے بیداری پیدا کرنا ہے ۔اس کے علاوہ ہمارے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے ذریعے بھی قدرتی جنگلات کے تحفّظ کے لئے عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔سرکاری دفاتر کے آس پاس درخت لگانے کی مہم انتظامیہ کی جانب سے چلائی گئی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برامد ہو رہے ہیں ۔اسکولوں ،کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ذریعے شجر کاری کرواکر ،ریلیاں اور مورچے نکلوا کر ،شجر کاری کی حمایت میں نعرے لگواکر ان میں یہ احساس جگایا جاتا ہے کہ وہ جنگلات کی اہمیت سے واقف ہوں اور ان کو بچانے میں معاون و مدد گار ثابت ہوں۔

شجر کاری کی مہم خواہ وہ سرکاری ادارہ کی جانب سے چلائی جائے یا تعلیمی و انفرادی اداروں کی طرف سے اس سے نئے پیڑ پودے وجود میں آنے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں لیکن جنگلات کی کٹائی سے شجر کاری مہم کا موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک درخت کو اگنے اور بڑا ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں اس کے برعکس جن درختوں کو کاٹا جاتا ہے ہم ان سے فورا محروم ہو جاتے ہیں اس لئے جہاں نئے درخت لگانا ضروری ہے وہیں جنگلات کی کٹائی کو روکنا بھی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔

Wednesday, August 19, 2009

Ghazal - Rastay Manzilon Ke


غزل
محمّد اسد اللہ

راستے منزلوں کے نو حہ گر

منزلیں راستوں کے ماتم میں



زندگی دم بہ دم یہی طوفاں

تم ہراساں ہو ئے ذرا دم میں



خاک پیروں تلے وہی لیکن

سانس لیتے ہیں اور عالم میں



رات رانی سا تو مہکتا ہے

میری یادوں کے
سبز البم میں



ایک شمعِ امیدِ صبح تو ہے

اس پگھلتی ہو ئی شبِ غم میں


Monday, August 10, 2009

ہندوستانی بچّوں کا گیت Patriotic song of Iqbal (Urdu)


ہندوستانی بچّوں کا گیت

علامہ اقبال 

چشتی نے جس زمین میں پیغامِ حق سنایا 
نانک نے جس چمن میںوحدت کا گیت گایا 

تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے اپنا وطن چھڑایا

میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے 

یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹّی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 

میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے 

بندے کلیم جس کے ،پربت جہاں کا سینا
نوحِ نبی ؑ کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینہ 
رفعت ہے جس زمیں کی بامِ فلک کا زینہ 
جنّت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

میرا وطن وہی ہے ،میرا وطن وہی ہے