A blog by Muhammad Asadullah featuring Urdu articles, poetry, children's literature, translations, and other Urdu literary forms.
Saturday, June 28, 2008
غزل
لطف پہچان کا بھی تو لو اجنبی ہم سے مل مل کے یوں نہ بنو اجنبی اجنبی پن ہے شیوہ مرے شہر کا آ گئے ہو تو بن کر رہو اجنبی سہ نہ پا ؤ گے تنہا ئیاں شہر کی اس سے بہتر ہے تنہا رہو اجنبی ہم شناسائیوں کے بھرم میں جئے کھل نہ پا یا کہ آ خر ہیں دو اجنبی
زندگی ہے کہ بستی کسی غیر کی تم شناسا سہی پھر بھی ہو اجنبی
No comments:
Post a Comment