Sunday, July 26, 2009

Inaugration of a school Magazine (Urdu) تہذیب الکلام


اسکول میگزین

تہذیب الکلام 2009 کا اجراء

خبر نامہ 

ناگپور 

 

مو لانا ابوالکلام آ زاد ہا ئی اسکول و جو نئیرکالج گاندھی باغ ناگپور کے سالانہ میگزین تہذیب الکلام کا اجراء کیریر گائیڈنس ادارہ کے رکن اور سابق جوائنٹ سیکریٹری، ناگپور ڈیویژ نل ایس ایس سی بورڈ ،جناب رکن الدین محمّد کے ہاتھوں ہوا ۔اس تقریب کی صدارت کے فرائض کالج کے پرنسپل جناب عبد الرؤف صاحب نے انجام دئے ۔جناب وکیل نجیب اورڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن صاحب نے اس رسالہ پر اپنے تبصرے پیش کئے اور اسکول کے منتظمین و ادارتی بورڈ کی کا وشوں کو سراہا۔ اس تقریب میں مجلّہ تہذیب الکلام کے مہمان مدیر شیخ محمّد ہاشم بھی بطور مہمانِ خصوصی مو جود تھے ۔

اسکول کے سالانہ میگزین کے اجراء کے بعد اس کے مدیر ڈاکٹر محمّد اسد اللہ نے اظہارِ خیال کر تے ہو ئے کہا کہ اسکو ل میگزین ایک ایسا آ ئینہ ہے جس سے ہمیں کسی تعلیمی ادارہ کی تدریسی و غیر تدریسی سرگرمیوں کا اندازہ ہو تا ہے ۔یہ طلباء میں پو شیدہ تخلیقی صلاحتوں کو بروئے کا ر لانے کے لئے ایک مفید ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ جناب وکیل نجیب اورڈاکٹر آ غا غیاث الرحمٰن صاحب نے اس رسالہ پر اپنے تبصرے پیش کئے اور اسکول کے منتظمین و ادارتی بورڈ کی کا وشوں کو سراہا۔ جناب عبدالرؤف صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں طلباء کو اردو کے علاوہ مقامی زبان مراٹھی میں بھی مہارت حاصل کر نے اور معلوماتی مضامین کا مطالعہ کر نے کا مشورہ دیا ۔

Tuesday, July 21, 2009

Nat-Ek Intekhab عبد العزیز خالد


 ۔۔۔۔۔۔۔۔   نعت   ۔۔۔۔
عبد العزیز خالد
مُطاعِ آدم و انجم ،متاعِ لوح و قلم 
محمّد ؑ اُمّیِ محبوبِ کبریا صَلعم 

محمّدؑانجمنِ کن فکاں کا صدر نشیں
محمّدؑ افسرِ آ فاق و سَرورِ عالَم 

وہ عبدہُ و رسولُہُ و اِسمہُ احمد 
کتاب و حکم و نبوت کا خاتم و خاتَم 

حمُود وحا مد و احمد ،محمّد و محمُود
کریم و میر ،کرام و مکرّم واکرم

وہ لا یمُو ت ،سراجِ سُبل ،امامِِرُسل 
امیرِ قافلۂ سخت کوشِ اہلِ ہمَم

بہارِ گلشنِ ایجاد وحسن ِ ہفت رواق 
گُلِ سرسبدِدُودۂ بنی آدم 

اُسی کو صاحبِ خلقِ عظیم کہتے ہیں 
وہی ہے نوعِ بشر کامعلّمِ اعظم 

شمار کرنے چلیں اس کی خوبیوں کا اگر 
تو ساتھ چھوڑ دیں تھک تھک کے نیل پنکھپدم 

ہے جس کی ذات مطہّرخمیرِ مایۂ کون 
ہیں جس پہ آ ئینہ اسرارِمخفی و مبہم 

رموزِ کن فیکوں جس پہ مُو بمُو روشن 
وہی جو ختمِ رسُل ہے وہی جو فخرِ اُمم 

وہ عقلِ اوّل و اعلیٰ ،حقیقتِ اسماء
وہ نفسِ کائنۂ روحِ خالدِ و اعظم 

عطائے حقو جو قاسِم ہے وہ ابوالقاسِم 
ملیکِ مقسط و معطیِ ومقتدِر کی قَسم 

خلاصۂ دو جہاں جس کی ذاتِ والاشان 
گیا جو عرش پہ بے نردبان و بے سُلّم 

ہے جس کی شان فاوحیٰ اِلیہِ ما اوحیٰ 
وہ آسمانِ خِیم، انجم خدم سپہرحَشم 

جو مکّی و مدنی ہر وطن کا ہے وطنی 
حکیم و حاملِ احکام و حاکم و احکم 

اٹھائے ہاتھ دعا کو اسی کی خاطر جب 
رکھی خلیلِبراہیم نے بِنائے حرم 

خدا ئے قادرو قدّوس کے تصوّر سے 
کرے دلِ متزلزل کو ثابت و مُحکم 

انا بشر کا جو اعلان و اعتراف کرے 
نہیں جو وحیِ خدا میں مجازِ بیشی و کم 

محمّدعربی آ بروئے ہر دُدوسرا 
حبیبِ پاک خدا ،جانِ عالم و آ دم 

صفاتِ بو قلموںلا تُعدُّ لا تُحصیٰ
ثنائے خواجہ سے معذور ہیں زبان و قلم


Wednesday, July 15, 2009

Naat۔۔ Ahmad Faraz احمد فراز کی ایک مشہور نعت




نعت
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
احمد فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مِرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے
میں تیرا ذکر کروں صبح کے حوالوں سے

نہ میری نعت کی محتاج ذات ہے تیری
نہ تیری مدح ہے ممکن میرے خیالوں سے

تو روشنی کا پیمبر ہے اور میری تاریخ
بھری پڑی ہے شبِ ظلم کی مثالوں سے

تیرا پیام محبّت تھا اور میرے یہاں
دل و دماغ ہیں پُر نفرتوں کے جالوں سے

یہ افتخار ہے تیر اکہ میرے عرش مقام
تو ہمکلام رہا ہے زمین والوں سے

٭

مگر یہ مفتی و واعظ یہ محتسب یہ فقیہ
جو معتبر ہیں فقط مصلحت کی چالوں سے

خدا کے نام کو بیچیں مگر خدا نہ کرے
اثر پذیر ہوں خلقِ خدا کے نالوں سے

نہ میری آنکھ میں کاجل نہ مشکبو ہے لباس
کہ میرے دل کا ہے رشتہ خراب حالوں سے

ہے ترش رو میری باتوں سے صاحبِ منبر
خطیبِ شہر ہے برہم میرے سوالوں سے

میرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا
میں کیسے صلح کروں قتل کر نے والوںسے

میں بے بساط سا شاعر ہوںپر کرم تیرا
کہ با شرف ہوں قبا و کلاہ والوں سے

Monday, July 13, 2009

نظم ۔۔جانے کیوںآج مہکتا ہے زمیں کا دامن A Poem (Urdu)

ایک نظم 

محمد اسد اللہ 
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
جانے کیوںآج مہکتا ہے زمیں کا دامن 
کس کی آ مد سے لب و بام ہو ئے ہیں روشن 
فرشِ گل کس کے لئے آج ہے یہ صحن چِمن

نورو نکہت سے ہم آ غوش ہے سارا عالم 
آمدِ بادِصبا ہے کہ نزولِ شبنم 
٭

منتظر چشم ہے اس راہ کا ہر اک ذرّہ 
کس کی آمد سے منّور ہے یہاں ہرچہرہ 
کون آیا ہے جو سر شار ہے لمحہ لمحہ


کس کی سانسوں نے ہواؤں میں بکھیری سر گم 
آمدِ بادِصبا ہے کہ نزولِ شبنم
٭

آ ئیے آ پ کی خاطر ہیں منّور راہیں 
نغمہ خواں آ پ کی آمدکی خاطر ہیں ہوائیں آ ئیں 
آپ کی راہ میں پلکوں کو بچھائیں آئیں

خیر مقدم کے لئے جمع ہو ئے ہیں باہم 
آمدِ بادِ صبا ہے کہ نزولِ شبنم


Wednesday, July 08, 2009

مسلمانوں کے نام ایک غیر مسلم شاعر کا پیام

مسلم بھائیوں کے نام 
جو
ہم دیوی دیوتاؤں کے پجاریوں کو جہنّمی اور خود کو جنّتی کہتے ہیں ۔

نتیجۂ فکر : 
اوم پر کاش نیّر ؔ ، لدھیانوی 
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں 
ایک ہی در پر مگر سر آپ بھی دھرتے نہیں

اپنی سجدہ گاہ دیوی کا اگر استھان ہے 
آپ کے سجدوں کا مرکز ’قبر ‘ جو بے جان ہے

اپنے معبودوں کی گنتی ہم اگر رکھتے نہیں
آپ کے مشکل کشاؤں کو بھی گن سکتے نہیں
 

’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ یہ اگر مشہور ہے
ساری درگاہوں پہ سجدہ آپ کا دستور ہے 

اپنے دیوی دیوتاؤں کو اگر ہے اختیار 
آپ کے ولیوں کی طاقت کا نہیں حدوشمار
 

وقتِ مشکل ہے اگر نعرہ مرا ’ بجرنگ بلی 
آپ بھی وقتِ ضرورت نعرہ زن ہیں ’یاعلی‘ 

لیتا ہے اوتار پربھو جبکہ اپنے دیس میں
آپ کہتے ہیں ’’خدا ہے مصطفٰے کے بھیس میں‘‘ 

جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں میں گھنٹیاں
تربتوں پر آپ کو دیکھا بجاتے تالیاں
 

ہم بھجن کرتے ہیں گاکر دیوتا کی خوبیاں 
آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوّالیاں 

ہم چڑھاتے ہیں بتوں پر دودھ یا پانی کی دھار
آپ کو دیکھا چڑھاتے مرغ چادر ،شاندار
 

بت کی پوجا ہم کریں، ہم کو ملے’’نارِ سقر
آپ پوجیں قبر تو کیونکر ملے جنّت میں گھر؟ 

آپ مشرک، ہم بھی مشرک معاملہ جب صاف ہے
جنّتی تم،دوزخی ہم، یہ کوئی انصاف ہے 

مورتی پتّھر کی پوجیں گر! تو ہم بدنام ہیں
آپ’’سنگِ نقشِپا‘‘ پوجیں تو نیکو نام ہیں

کتنا ملتا جلتا اپنا آپ سے ایمان ہے
’آپ کہتے ہیں مگر ہم کو ’’ تو بے ایمان ہے ‘

شرکیہ اعمال سے گر غیر مسلم ہم ہوئے 
پھر وہی اعمال کرکے آپ کیوں مسلم ہوئے
 
ہم بھی جنّت میں رہیں گے تم اگر ہو جنّتی
ورنہ دوزخ میں ہمارے ساتھ ہوں گے آپ بھی
 

ہے یہ نیّرؔ کی صدا سن لو مسلماں غور سے 
اب نہ کہنا دوزخی ہم کو کسی بھی بھی طور سے

Tuesday, July 07, 2009

Hamd - Ek Intekhab


حمد 

محمّد اسد اللہ 

اے خدا ،اے خدا اے خدا ،اے خدا 

تو ہی مالک ہے تو ہی ہے سب سےبڑا

 

تیرے ہونے کا پیغام لے کر چلی ہے ہوا 

ہے ہر اک موج کے لب پہ تیری ہی حمد و ثنا

 

پربتوں پر کھلی دھوپ میں چہچہاتے پرند 

تیرے احساس سے ذرّہ ذرّہ زمیں کا دمکتا ہوا 

تیری قدرت ہے پھولوں کے رخ سے عیاں 

تتلیوں کے پروں پہ ترا نام لکھا ہوا 

حرفِ اوّل تو سب کا ءناتوں کا ہے

حرفِ آ خر ہے تیرا ہی لکھا ہوا 

Friday, July 03, 2009

Naat-Ek Intekhab کمار پاشی کی ایک نعت ، نعت ایک انتخاب


نعت 

کمار پاشی

سہل  ہے  راستہ  محمّد
 
ﷺ  کا 

جل رہا  ہے دیا محمّدﷺ  کا 


بے یقینی  کے   اِن   اندھیروں    میں 

سب کو   ہے آسر  ا محمّد
ﷺ    کا 



جل  اُٹھے  پھر  چراغ  منزل    کے 

بادباں   کھل   گیا  محمّد
ﷺ    کا 



شب  کی  تاریک  راہ  میں  اب بھی 

نور   ہے   جا بجا   محمّد
ﷺ   کا 



پرچمِ  سبز  کھل  گئے   ہر  سُو 

چل   پڑا   قافلہ   محمّد
ﷺ  کا 



ہے  ہواؤں  کے   ہاتھ  پر  دیکھو

نام   لکھا   ہوا   محمّد
ﷺ     کا 



کفر   کی   رات  ڈھل  گئی پاشی

دیکھ  پھر د ن   ہوا  محمّد
ﷺ  کا 




Friday, June 26, 2009

Aathwan Ajooba.. Urdu Story for kids


آٹھواں عجوبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی
محمّد اسد اللہ  

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چھٹی کلاس میں تھا اس سال ہمارا اسکول شروع ہوا تو ہماری کلاس میں ایک نئے لڑ کے کا داخلہ ہوا۔نام تھا اسکا جنید ۔ مجھے میرے دوست عامر نے بتایا کہ جنید کے والد ڈبلیو سی ایل میں ملازم ہیں اور ابھی ابھی ان کا بھوپال سے یہاں ٹرانسفر ہوا ہے ۔
ٍجنید بہت ہی دبلا پتلا تھا ۔لگتاتھا ذرا پھونک ماریں گے تو اڑ جا ئے گا۔ رنگ سانولا،آنکھیں نیپالی لوگوں جیسی چھوٹی چھوٹی سی ،بال گھنگرالے ،پتہ نہیں کیوں پہلی مرتبہ اسے دیکھ کر مجھے لگا جیسے میں کسی چوہے کو دیکھ رہاہوں ۔ وہ تمام طلبا ء سے ذرا الگ قسم کا تھا ۔ اسکے دبلے پن کے باوجود ایسا محسوس نہیں ہو تاتھاکہ وہ کمزور ہے۔ کسی حد تک گٹھا ہو ا بدن ،چوہے جیسی چستی پھرتی اس میں تھی۔ ایک تو وہ اجنبی اور حلیہ سب سے جدا لڑکوں نے اسے آ ڑے ہاتھوں لیا اور ستانا شروع کردیا۔
پہلے ہی دن جب وہ سیڑھوں کے پاس کھڑا تھا میری کلاس کے سارے لڑکے جو وہاں سے گذر رہے تھے، جاتے جاتے اس کے سر پر ٹپّو مارتے جا رہے تھے ۔ دوسرے دن چھٹّی کے دوران وہ باہر نکلا تو اس کی پیٹھ پر کا غذ کا پر زہ چپکا ہوا تھا جس پر لکھا تھا
’نیپالی چوہا ‘۔
سبھی جانتے تھے کہ یہ حرکت اسامہ کی تھی ۔ اسامہ ہماری کلاس کا سب سے زیادہ شریر بلکہ خطرناک طالبِ علم تھا۔ پو ری کلاس پر اپنی دھاک جمائے ہو ئے تھا۔ جہاں کسی نے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کیا تووہ اس کا دشمن بن جاتاتھا۔ ہم سب گھبر اگئے کہ اب اس نے نہ جانے کیوں جنید کو اپنا نشانہ بنالیا تھا ۔ شایدنیاطالبِ علم دیکھ کر اسے نئی شرارت سوجھی تھی ۔ اسامہ خوب موٹا تازہ تھاا سے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے بڑے سے تکئے میں خوب ٹھونس ٹھونس کر روئی بھر دی ہو ۔البتّہ وقت پڑے تو تیزی سے بھاگنا اس کے بس کی بات نہ تھی ۔ سومو پہلوانوں جیسادکھائی دیتا تھا۔طاقت تو کچھ زیادہ نہ تھی ،بس اپنے مو ٹاپے اور شرارتوں کے بل پر سب کو ڈراتا رہتا تھا۔ 

دو چار دن گذرے ہوں گے کہ اسکول اسیمبلی میں پیش درس کے بعد اعلان کیا گیا کہ کل کسی لڑکے کا بیگ گم ہو گیا ہے ،کسی کو نظرآ ئے تو آفس میں اطلاع دے۔ اس دن چھٹّی کے دوران چند بچّوں نے چپراسی کو بتایا کہ اسکول کے کنارے ایک درخت کی شاخوں پر کسی کا بیگ لٹکا ہوا ہے ۔ چپراسی نے چڑھ کر اسے نکالا توپتہ چلا وہ جنید ہی کا کھویا ہو بستہ تھا۔دھیرے دھیرے جنید کے ساتھ شرارتوں کا سلسہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ جنید یہ سب چپ چاپ سہتا رہا، اس کی طرف سے اس سلسہ میں کو ئی جوابی کاروائی نہیں ہوئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب چھوٹے چھوٹے بچّے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے ۔
ان دنوں، اسامہ جو اب تک صرف اپنی کلاس کے لڑکوں سے لڑتا رہتا تھا ،بڑی کلا س کے طلباء سے بھی الجھنے لگا تھا۔اس کی شکایتیں بار بار اساتذہ تک پہنچتی تھیں ۔ اسے دیکھ کر دوسرے لڑکے بھی لڑائی جھگڑے کر نے لگے تھے ۔کئی ٹیچرس یہ سوچتے تھے کہ ایسی گندی مچھلی کو جو سارا تالاب گندہ کر سکتی ہے نکال باہر کر نا چاہئے لیکن اسامہ کے والد اس شہر کے نامی گرامی لو گوں میں تھے اسکول مینیجمنٹ سے ان کے بڑے اچّھے تعلّقات تھے اس لئے اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا آ سان نہ تھا۔ ٹیچرس بھی امیر باپ کی اس بگڑی اولاد کے آ گے مجبور تھے پھر بھی سبھی چاہتے تھے کے اسکول کے ماحول میں رہ کر وہ سدھر جائے اسی لئے گاہے بگاہے اسے
سمجھاتے رہتے تھے ۔ 


کو لوٹ رہے تھے ،راستے میں کئی لڑکے کھڑے نظر آ ئے ۔ ان کے تیور کچھ اس قسم کے تھے گویا وہ کسی کا انتظار کر رہے تھے اور اس کی پٹائی کر نا چاہتے تھے ۔ہم لوگ تھوڑی دیر وہاں رکے اس کے بعد ساری گڑ بڑ شروع ہو گئی شاید ان بدمعاش لڑکوں کو ان کا شکار مل گیا تھا ۔ سب مل کر اسے پیٹنے لگے ان کے ہاتھوں میں ہا کی اسٹکس اور بیلٹ تھے۔ وہ سب مل کر اسکول کے کسی لڑکے کی پٹا ئی کر رہے تھے ۔یہ منظر اتنا بھانک تھا کہ طلبا کی وہاں رکنے کی ہمّت ہی نہ ہوئی ۔
دوسرے دن جب ہم اسکول پہنچے تو پتہ چلا اسامہ کی حرکتوں سے پریشان بڑی کلاس کے طلباء نے جب کئی بار ٹیچرس سے اس کی شکایت کی اور اسکول کی طرف سے کوئی کاروائی نہ ہوئی تو انھوں نے خود ہی اسے سبق سکھانے کا ارادہ کیا ۔اس شام اسے سب نے مل کر گھیرا اور بری طرح پیٹ دیا ۔ پٹائی کر کے بڑی کلاس کے لڑکے چلے گئے تو وہاں کو ئی بھی نہ تھا۔ مارے ڈر کے سارے لڑکے غائب ہو چکے تھے ۔ سوائے جنید کے جو یہ سارا تماشادیکھ رہا تھا۔اسامہ خون میں لت پت تھا اور اٹھنے کے قابل بھی نہ تھا ۔ سب کے جانے کے بعد جنید نے اسے کسی طرح اٹھا کراسکول پہنچایا ۔

دو تین دن بعد جب اسامہ اسکول آیا تو اس کے ہاتھ پاؤں پر پٹّیاں بندھی تھیں اور سرپر چوٹ کے نشانات تھے ۔اسکول کے پی۔ٹی۔ آ ئی انیس سر کا پیریڈ تھا ۔کو ئی اجنبی ،شاید کسی اسٹوڈنٹ کے والد ان سے ملنے آ ئے تھے ۔دیر تک کلاس سے باہر دروازے پر کھڑے ان سے باتیں کر تے رہے اور پھر انیس سر انھیں کلاس میں لے کر آ ئے اور طلبا سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ،’یہ شیخ اکرام صاحب ہیں ،ہماری کلاس میں جو جنید ہیں ان کے والد ،یہ آپ لوگوں سے کچھ کہنا چاہتے ہیں‘۔اس کے بعد جنید کے والد نے نرم لہجے میں طلبا سے کہنا شروع کیا’ بچّو! میرا بیٹا جنید آ پ کے ساتھ پڑھتا ہے ہم لوگ اس شہر میں نئے آئے ہیں ۔مجھے کئی دنوں سے یہ شکایت مل رہی ہے کہ آپ لوگوں میں سے کچھ لڑکے اسے پریشان کر رہے ہیں اور وہ خاموشی کے ساتھ بر داشت کر رہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ آپ سے ڈرتا ہے اور اسے بدمعاش لڑکوں سے نمٹنانہیں آتا ۔میں آ پ کو بتا دوں کہ وہ کراٹے کا ماہر ہے اور بچّوں کے کراٹے کے مقابلوں میں نیشنل چیمپین ہے اور کراٹے کے مقابلوں میں کئی انعامات حاصل کر چکا ہے ۔اس کی کراٹے کلاس میں اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں اور نہ بدلہ لیں ۔اسی لئے وہ خاموش ہے لیکن تمہاری زیادتیاں حد سے بڑھنے لگیں اور وہ شروع ہو گیا تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے ،اس لئے بہتر ہے اسے ستانا چھوڑ دو ‘۔یہ کہہ کر وہ چلے گئے ۔
اسامہ نے اپنے سر پر بندھی پٹّیوں کے نیچے سوجھی ہو ئی آنکھیں پھاڑ کر ڈری ڈری نظروں سے جنید کو دیکھا وہ اپنے ڈیسک پر اس طرح خاموش اور مطمئن بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔

اسامہ کی نظروں میں ڈر بھی تھا شکر گذاری بھی اور حیرت بھی جیسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ اس کے سامنے ہو۔ 

۔۔۔۔۔۔۔


Tuesday, June 16, 2009

الماس سیّد کی امتیازی کامیابی



اس سال مہاراشٹر میں ایچ ۔ایس ۔سی بورڈکے امتحان میںشہر ناگپور کی ایک طالبہ الماس سیّد نے اوّل مقام حاصل کرکے اور پی ایم ٹی کے امتحان میں امتیازی کامیابی حاصل کر کے پورے علاقے میں حیرت اور مسرّت کی ایک لہر دوڑادی ۔
بورڈ امتحان میں اس امتیازی کامیابی کے بعد الماس نے MH-CET امتحان میں بھی ودربھ میں دوّم اور ناگپور ڈیویژن میں اوّل مقام حاصل کیا ۔اس انٹرنس امتحان میں الماس نے ۲۰۰ میں سے۱۹۴ نمبرات لئے ہیں ۔ 

شری شیواجی سائنس کالج ناگپور کی طالبہ الماس سیّد نے سینٹ جوزف کانوینٹ سے ایس ایس سی کا امتحا ن پاس کیا تھا تو ۹۳ فیصد نمبرات حاصل کئے تھے ۔ الماس سیّد کی اس غیر معمولی کامیابی پر گذشتہ دنوں جہاں شہر کی متعدّد سماجی اورتعلیمی انجمنوں کی جانب سے استقبال اوراعزازات کا تانتا بندھ گیا وہیں ممبئی کے معروف ادارے انجمنِ اسلام نے الماس کو الما لطیفی ہال میں ۰ا گرام گولڈ میڈل اور پچاس ہزار روپئے کے چیک سے نوازا اور اس کے والدین کے ساتھ الماس کا پر جوش خیر مقدم کیا ۔ 
الماس سیّد شہر ناگپور کے ایک معزّز خاندان کی چشم و چراغ ہے ۔ اس کے والدین پیشے سے ڈاکٹر ہیں ۔ والد ڈاکٹر سیّد ناظم ( جنرل فزیشین) اور والدہ ڈاکٹر شفیقہ ناظم( گائناکولوجسٹ) کے علاوہ اس کے حقیقی چچا ڈاکٹر سیّد الیاس مشہور ماہر سرجن ہیں اور نہ صرف سرجری کے میدان میں اپنے حیرت انگیز کارناموں سے اخباروں کی سرخیوں کا حصّہ بنے رہے بلکہ گذشتہ برسوں میں لندن میں پیش آ ئے بم دھماکوں کے دوران بھی ان کے خدمات کو لندن کے اخباروں میں سراہا گیا۔الماس سیّد کے دادا مشہور شاعر سیّد یونس مرحوم، اپنے ان اشعار کے حوالے سے اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں ۔
وقت وعدوں کا سخت دشمن ہے آدمی بے وفا نہیں ہو تا۔
قتل کر نا ہو تو کب زہر دیا جاتا ہے ان دنوں بس نظر انداز کیا جا تا ہے۔
ان کا ایک شعری مجموعہ’ انکشاف‘ منظرِ عام پر آیا جسے مہاراشٹر اردو اکادمی نے انعام سے نوازا تھا۔اسی طرح الماس سیّد کی دادی صفیہ سلطانہ بھی شہر ناگپور کی خواتین افسانہ نگاروں میں شامل ہیں ا ن کی کہانیوں کا مجموعہ’ دل کے آنگن‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ غرض،
ایں خانہ ہمہ آفتاب است ۔ 

اس تعلیم یافتہ گھرانے کی پر وردہ الماس سیّد نہایت منکسرالمزاج اوربا اخلاق ہونے کے علاوہ نہ صر ف نمازوں کی پابند ہے بلکہ کلامِ پاک کی تلاوت اس کے معمولات میں شامل ہے۔ وہ بھی اپنے والدین کی طرح ڈاکٹر بن کر خدمتِ خلق کے لئے خود کو وقف کر نا چاہتی ہے ۔ امتحان کی تیّاری کے دوران اس نے زیادہ سے زیادہ وقت اپنی پڑھا ئی پر صرف کیا ۔ انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کر نے کے علاوہ بچپن میں قران مجید سیکھتے ہو ئے اس نے اپنے اندر اتنی استعداد پیدا کر لی کہ وہ اردو بہ آ سانی پڑھ سکتی ہے ۔ جہاں مسلم طلبا غیر مسلم ادروں میں تعصّب کا رونا روتے ہیں وہیں الماس نے ہمیں انٹر ویو کے دوران بتایا کہ نہ صرف میٹرک کے دوران مشنری اسکول کے اساتذہ نے اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ کالج کے پڑھائی کے دوران بھی بغیر کسی بھید بھاؤ کے اسے اپنے اساتذہ کی رہنمائی حاصل رہی ۔ وہ ابتدا ہی سے میڈیکل لائن میں اپنا کریر بنا نا چاہتی تھی ۔
الماس سیّد کی یہ غیر معمولی کامیابی یقیناً مسلم طلبا و طالبات کے مشعلِ راہ ہے بلکہ مایوسیوںکا شکار طلبا کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ محنت ، لگن اور منزلوں کی جستجو کا حوصلہ راستوں کے دشواریوں کا مداوا بن جاتا ہے بس ایک قدم اٹھا نے کی دیر ہے۔ 


Sunday, June 14, 2009

Intekhab-e- Hamd نتخابِ حمد

1.حمد
 
ماہر القادری

خدا کے نام سے ہر ابتدائے کار کریں 
اُسی کی راہ میں ہر چیز کو نثار کریں 

یہی تو دل کی سعادت ہے،نطق کی معراج 
خدا کی حمد کریں اور بار بار کریں 

مسرّتیں ہوں تو شکرِخدا بجا لائیں 
مصیبتیں ہوں تو ہم صبر اختیار کریں 

یہ کیا کہا کہ نگاہِ کرم نہیں ہوتی 
گناہ گار گناہوں کا بھی شمار کریں 

اسی میں دل کا سکوں ہے، یہی ہے عقل کی بات 
خدا رسول کی باتوں پہ اعتبار کریں 



ہر ایک پھول چمن کا خدا کی آیت ہے 
اسی نگاہ سے نظا رۂ بہار کریں 

''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''

2۔  حمد
 
نواب عبدا لوحید غازی


پژمردہ دل ہزاروں تونے کھلادئے ہیں 

یعقوب ایسے لاکھو ں روتے ہنسادئے ہیں 


نارِ خلیل دم میں گل زار ہو گئی ہے 

آتش کدوں سے تونے گلشن بنادئے ہیں 

دارِمسیح کیا تھی اک زینۂ فلک تھا 
سولی چڑھا کے لاکھوں زندہ بچا دئے ہیں
دریا نے خشک ہو کرموسیٰ کو راہ دے دی   
موجِ کرم نے تیری قلزم ہٹا دئے ہیں 
 
 
مچھلی بھی بن گئی تھی یونس کے حق میں کشتی 

ساحل پہ تو نے کتنے بیڑے لگا دئے ہیں 


دستِ کرم سے تیرے مایوس کیوں ہو غازی
 

بے مانگ گنج تونے بے انتہا دئے ہیں