Friday, October 03, 2008

غزل


مزاحیہ شاعری 
برا وقت 

ہر گھڑی میں وقت ہے بالکل غلط 
واچ میکر کی یہ اک دکان ہے 
جیسے قومی رہنما کی زندگی 
رہنما ئی کا جہاں فقدان ہے 

غزل

میاں شریف یہاں تو تمہارے لالے ہیں 
قدم قدم پہ کمینوں سے پا لا پڑنا ہے 

لبوں سے اس کے چنبیلی کے پھول جھڑ نے ہیں 
ہمارے منہ پہ علی گڑھ کا تالا پڑنا ہے 

کھنک سے مال کے اک بھیڑ سی امڈنی ہے 
اب اس کے چہرے کے گرد ایک ہالا پڑنا ہے 

گنے ہیں لاکھ ٹکے تب ملی ہے یہ سروس 
دیارِ علم میں اب کیا اجالا پڑنا ہے


Thursday, October 02, 2008


علمِ ماحولیات کی اہمیت و افادیت 

گذشتہ صدیوں کے دوران سائنسی ایجادات اور انکشافات نے پوری دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا ہے ۔ اسی دوران کئی علوم بھی سامنے آ ئے ان میں علمِ ماحولیات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے ۔ علمِ ماحولیات کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک ہر سطح پر اب علمِ ماحولیات کی تدریس کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ 

علمِ ما حولیات کو تعلیمی اداروں میں نصاب میں شامل کر نے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ طلباء اس ماحول سے واقف ہوں جس میں وہ رہتے ہیں اس میں مو جود قدرتی وسائل کا صحیح استعمال انھیں آ ئے اور اس کے مضر اثرات سے اپنے آ پ کو بچا سکیں ۔ اسی کے ساتھ دنیا کے مختلف خطّوں میں پا ئی جانے والی انسانی زندگی کے بارے میں بھی ان کو معلو مات حاصل ہو سکے ۔ 

مثل مشہور ہے کہ ضروت ایجاد کی ماں ہے ۔عالمی پیمانے پر ماحول کے بگڑ تے ہو ئے توازن اور اس کے بھیانک نتائج نے ساری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اب ماہرین کے علاوہ حکومتیں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ ماحول کے تحفّظ کے لئے عوام میں بیداری پیدا نہیں ہو ئی تو اس کرّۂ ارض پر انسانی زندگی کا سانس لینا دو بھر ہو جا ئے گی ۔ 

دراصل گذشتہ برسوں میں انسانی آبادی میں زبردست اضافہ ہو ا ہے ۔۱۹۳۶ میں ہندوستان کی آ بادی ۳۶ کروڑ تھی جو ۲۰۰۶ میں ایک ارب گیارہ کروڑ تک جا پہنچی ہے ۔اسی طرح دنیا کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔صنعتی ترقّی کے سبب بڑے بڑے جنگالات کا صفایا ہو گیا۔ بڑی بڑی فیکٹریوں اور کثیر تعداد میں دوڑنے والی سواریوں سے نکلنے والے دھویں اور کارخانوں کے بیکار پانی سے کیمیاوی مادّے ندیوںاور آ بی ذخیروں میںشامل ہو تے جا رہے ہیں ان سے اگائی جانے والی سبزیاں بھی مضرِ صحت ہیں ۔جنگلات کی کٹائی کا سلسہ اب بھی جاری ہے۔ اگر یہ سلسہ روکا نہیں گیا تو انسانی صحت اس کے برے اثرات پڑیں گے اور آ ئندہ انسانی نسلیں مختلف بیما ریوں کا شکا ر ہوں گی ۔ 

گذشتہ کئی بر سوں سے عالمی پیمانے پر مو سم میں خطر ناک حد تک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کے اثرات ہمارے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں ۔اس کے سبب جہاں زراعت اور فصلوں کے نقصان ہو رہا ہے وہیں صحتِ انسانی کے علاوہ صنعت و حرفت اور قدرتی وسائل بھی متاثر ہو رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں تعلیم کی کمی ہے اور اسی وجہ سے ماحول کے متعلق لوگوں میں معلومات کا فقدان ہے ۔ 

ہر ملک میں ماحو ل کے تحفّظ کی خاطر قوانین بنا ئے گئے ہیں اور حکومتیں سختی سے ان کو نا فذ کر نے کی کو شش کر رہی ہے لیکن اس کے با وجود عام طور پر ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جا تی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام میں اس شعور کی کمی ہے جو انھیں اپنے نفع نقصان کو سمجھ کر زندگی گذارنے کے قا بل بنا ئے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب لو گوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ وہ ماحول کو پرا گندہ ہو نے سے بچا ئیں۔ عالمی پیمانے پر کئی ادا رے ہیںجو اس سلسلہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ہمارے ملک میں بھی مختلف اداروں کی سرگرمیوں کے علاوہ کئی رسائل ماحولیات کے لئے مخصوص ہیں جو سماجی بیدا ری پیدا کر نے کے کام میں سر گرم ہیں ۔ ۵! جون کو عالمی یومِ ماحولیات کے طور پر منایا جا تاہے ۔ اس مو ضوع پر اخباروں اور دیگر رسائل میں مضامین شائع ہو تے ہیں ۔ جلسے اور مختلف قسم کے تحریری و تقریری مقابلے اور نمائشیں منعقد کر کے لو گوں کو ماحول کی آ لو دگی کے خطرات سے آ گاہ کیاجا تاہے ۔ 

ہماری یہ ذمّہ داری ہے کہ اس سلسہ میں لو گوں کو بیدار کیا جا ئے تاکہ وہ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور اس کی حفاظت کریں اور اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ماحول کے بارے میں تعلیم کو عام کیا جا ئے ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں میں اب ابتدا ئی سطح ہی سے ماحولیات کو نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ اس کے فائدے بھی ظاہر ہیں نئی نسل ماحول کی حفاظت کے معاملے میں زیادہ فکر مند اور سر گرم ہے ۔ 








غزل ۔ وہ جو تھا خواہشوں کے خانے میں


غزل 
محمّد اسد اللہ
 
وہ جو تھا خواہشوں کے خانے میں 
مل نہ پا یا ہمیں زمانے میں 

کٹ گئے دن بہار کے آ خر 
اک میرے آشیاں بنانے میں 

دست و بازو کو کیوں تھکاتے ہو 
تم میرا صبر آزمانے میں 

بات کر تے ہیں دل ملانے کی 
ہاتھ مصروف گھر جلا نے میں 

تم سے بڑھ کر نہیں ہے جان عزیز 
خود کو کھویا ہے تم کو پا نے میں 

اب نہ یادِ خدا نہ فکرِ جہاں 
سب ہی الجھے ہیں آ ب و دانے میں


Wednesday, October 01, 2008



خیال پارے    .1 

مقصدِ زندگی 

ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں ؟ 
ہماری زندگی کا کیا مقصد ہے؟ 

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صدیوں سے مفکّر،فلسفی،دانشور اور ادیب و شاعر تلاش کرتے رہے ہیں ۔ 
ہر شخص اپنے زاویے سے زندگی کو دیکھتا ہے ۔
ایک نکتۂ نظر یہ بھی : 
خدا نے حضرتِ آ دم کو ان کی ایک خطا پر عتاب کے بعد اس دنیا میں بھیجا تھا ۔ہم ان ہی حضرتِ آدم کی اولاد ہیں۔کیا یہ ممکن نہیں کہ اس عتاب کا کچھ حصہّ وراثت میں ہمیں بھی ملاہو؟
ہمارے جدِّ امجد سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک معیّن مدّت تک انھیں یہاں زندگی گذارنی ہے اور پھر وہ جنّت میں ( جو ان کا اصل گھر ہے ) لو ٹیں گے ۔
یہی طریقہ کار اولادِ آ دم کے ساتھ بھی ہے ۔دنیا کو کار گاہِ عمل قرار دیا گیا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدّس کتاب قرآن مجید میں اس کو واضح بھی فر مادیا کہ موت اور حیا ت کو اس لئے بنا یا گیا تاکہ دیکھیں کو ن اچّھے اعمال کر تا ہے ۔ 
گو یا اب ہمارے سامنے کارِ جہاں یہ ہے کہ اسے اس طرح انجام دیا جا ئے کہ خدا راضی ہو ۔ ہوم کمینگ یعنی جنّت میں جانے کے لئے ایک ایسا انسان بن کر دکھا نا ہے جو واقعی وہاں رہنے کے لائق ہو ،اسے اس مملکت میں شہریت اسی صورت میں ملے گی جب وہاں کی شرائط پوری کرے ۔ اس کی سب سے بڑی شرط یہی ہے کہ خدا سے اس کا تعلّق اس درجہ تک پہنچ جائے کہ 
خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟ 
چنانچہ زندگی، اپنے مالک کو راضی کر نے کی تمام تر سعی کا نام ہے ۔ 
اور 
عبادات،اعمالِ صالحہ،خدا کی مخلوقات پر رحم ،حسنِ سلوک ،مصائب پر صبر ،قربانیاں ،جہاد ، ،خدا کے بندوں سے خدا کا تعارف کروانے کی کوششیں اور دین کی محنت یہ سب رضائے الٰہی تک پہنچنے کے راستے ہیں ۔ 

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی 
میں اسی لئے مسلماں ،میں اسی لئے نمازی 
اقبال

Tuesday, September 30, 2008


عید آ ٔی ہے

دلوں میں پیار جگانے کو عید آ ٔی ہے

ہنسو کہ ہنسانے کو  عید آ ٔی ہے

   

مسرّتوں کے خزانے دٔے خدا نے ہمیں

ترانے  شکر کے گانے کو  عید آ ٔی ہے

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے

چمن دلوں کا سجانے عید آ ٔی ہے

خوشا کہ شیرو شکر ہو گٔے گلے مل ک

خلوص دل کا دکھانے کو عید آ ٔی ہے

 آٹھا دو دوستو اس دشمنی کو محفل سے

شکایتوں کے بھلانے  کو عید آ ٔی ہے

 

کیا تھا عہد کہ خوشیاں جہاں میں بانٹیں گے

اسی طلب کے نبھا نے  کو عید آ ٔی ہے  

 

Thursday, September 18, 2008

poems


نثری نظمیں

محمّد اسد اللہ  

1

جیب بھر کر

 کبھی خالی کر کے 

وہ دکھا تا ہے

یہ دنیا کیا ہے

   

2

اس قدر کھو یا کہ اب 

پا تے ہو ٔے لگتا ہے یوں 

کچھ تو ہے جو کھو رہا ہوں 

Tuesday, September 16, 2008

M.K.Gandhi and National Integration (Urdu)


مہاتما گاندھی اور قومی یکجہتی ۔
محمّد اسد اللہ 

انسانی تاریخ کے صفحات آ ج بھی ان عظیم انسانوں کے کارناموں سے جگمگا رہے ہیںجنھوں نے انسانی زندگی کی بقا اورترقّی کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ایسی ہی تاریخ ساز شخصیات میں موہن داس کرم چند گاندھی کا شمار کیاجا تا ہے ۔ ان کے ہمہ جہت شخصیت اور گراں قدر کارناموں نے انھیں با بائے قوم اور مہاتما گاندھی کے نام سے مقبولیت کا تاج پہنایا۔ عام آ دمی کے ذہن میںمہاتما گاندھی کی شخصیت کا پہلا تاثر ایک بے سر و ساماں درویش کا ہے جس نے اپنے نظریۂ عدم تشدّد کی بنیاد پر جنگِ آ زادی کا صور پھونکا اور اس ملک میں قدم جما چکی برٹش سر کار کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 

گاندھی جی کی شخصیت کے اس انقلابی پہلو سے قطع نظر ہم ان کیی خیالات و افکار کا جائزہ لیں تو ان کے ہاں ہمیں ایک جامع اور مر بوط نظامِ زندگی کے شواہد ملتے ہیں ۔ مہاتما گاندھی ایک قابل رہنما ،بہترین انسان اور مفکّر بھی تھے وہ فلسفی نہ تھے لیکن انھوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسا طرزِ زندگی اور مسائلِ حیات سے نبر دآ زما ہو نے کے لئے ایسا موثّر طریقۂ کار تجویز کیا جس کی افادیت دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے
   اہنسا..عدم تشدّد
۔ گاندھی جی کے نظریات میں سب سے اہم اہنسا یعنی عدم تشدّد ہے جسے انھوں نے باضابطہ ایک طریقۂ حیات قرار دیا ہے ۔
تشدّدآج نہ صرف قومی پیمانے پر بلکہ عالمی سطح پر ایک بھیانک مسئلہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مختلف طبقات ،ممالک ،ذاتوں اور مذاہب کے درمیاں غیر ہم آ ہنگی نے پوری دنیا میں تشدد کی لہر دوڑادی ہے اور ساری دنیا اس مسلہ کا حل تلاش کر رہی ہے ۔ گاندھی جی کی تقریروں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انھوں نے ذات،مذہب علاقائیت ،رنگ و نسل اور لسانی سطح پر مختلف طبقات کے درمیان ہم آ ہنگی پیدا کر نے کی ایک دیانت دارانہ کو شش کی تھی ۔قومی یکجہتی کا یہی نظر یہ ان کی فکر کا بنیا دی پتّھر ہے جس پر وہ ایک خوشحال قوم کی تعمیرِ کر نا چاہتے تھے ۔ 

گاندھی جی کی قومی یکجہتی کا نظریہ اس قومی روایت پر مبنی معلوم ہو تا ہے کہ جس کے مطابق یہ پو ری کا ئنات خدا کا کنبہ ہے ( الخلق ُ عیال اللہ )یہی روایت ہندو مذہب کی کتابوں میں بھی مختلف الفاظ کے ساتھ آ ئی ہے ۔ گاندھی جی کی آ فاقی فکرنے انھیں رنگ و نسل ،ذات وبرادری اور علاقائیت کے امتیازات سے اوپر اٹھ کر سوچنے پر مجبور کیاتھا ۔ اسی انسانی دوستی کا پر تو ان کے خیالات پر پڑا ۔شاید اسی لئے اردو کے مشہور شاعر مجاز لکھنوی نے گاندھی جی کے انتقال پر ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔

  ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا 
انساں کی جستجو میں اک انساں چلا گیا ۔



گاندھی جی اور چھوت چھات کی رسم
گاندھی جی ہندو ستان میں پا ئی جانے والی چھوت اور اچھوت کی قبیح رسم کے سخت خلاف تھے ۔ان کی محتلف تحریکات میں اس سماجی برائی کے انسداد کی کوشش کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ اس سلسہ میں ان کے خیالات قابلِ غور ہیں : 
 
اس بڑھتی ہو ئی چھوا چھوت سے مجھے انتہائی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ 
 میں اپنے آپ کو ایک ایسا ہندو سمجھتاہوں جس میں ہندو دھرم کی روح پیوست ہو گئی ہے ۔ آج جس صورت میںہمارے ہاں چھوت چھات پائی جاتی ہے اس کے لئے مجھے کو ئی جواز ان سب کتابوں میں نہیں مل سکا جنھیں ہم شاستر کہتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میںپہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ ہندو دھرم واقعی چھوت چھات کو جا ئز قرار دیتا ہے تو مجھے ہندو دھرم چھوڑنے میں کو ئی پس و پیش نہیں ہو گا ۔ کیونکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ سبھی سچّے مذاہب کو بنیادی سچّائیوں کے خلاف نہیں ہو نا چاہئے ۔ (بحوالہ :مہاتما گاندھی اپنے افکار کے آ ئینے میں ۔مطبوعہ ،ماہنامہ آ جکل اکتوبر ۲۰۰۴) 

گاندھی جی ہندو مسلم اتحاد کے بھی زبردست حامی تھے ۔ان کا خیال تھا کہ:۔’ اگر ہندواور مسلم امن و بھائی چارہ کے ساتھ مل جل کر رہنا نہیںسیکھ لیتے تواس ملک کا جسے ہم بھارت کے نام سے جانتے ہیں، وجود ختم ہو جائے گا ۔ ( بحوالہ: ایضاً ) 
گاندھی جی نے مختلف مذاہب کی کتابوں اور دنیا کے اہم دانشوروں کے افکار کا مطالعہ کیا تھا ۔ ان کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر صبح گیتا کے علاوہ قران مجید اور انجیل مقدّس کا بھی مطالعہ کیا کر تے تھے ۔ ان کی کتاب
MY EXPERIMENTS WITH TRUTH                         
میں اس حقیقت کا اعتراف مو جود ہے کہ جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران کئی مسلمانوں سے ان کے گہرے مراسم رہے جو اسلامی تعلیمات کو سمجھنے میں ان کے لئے مدد گار ثابت ہو ئے ۔ ان سے جب کسی نے دریافت کیا کہ رام راجیہ کے جس تصوّر کی وہ بات کر تے ہیں وہ کس قسم کی حکومت ہو گی تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ خلیفۂ دوّم حضرت عمر ؓ کی حکومت کے طرز پر ہو گا ۔ انگلینڈ میں رہ کر گاندھی جی نے عیسائیت کی اور وکالت کے دوران پارسی لو گوں کے ذریعے ان مذاہب کی روح تک پہنچنے کی کوشش کی ۔وہ تمام مذاہب کو احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ بنیادی طور پر اپنے آ بائی مذہب اور ہندو فلاسفی سے ان کا گہرا تعلق تھا ۔ انھوں نے ہندوستانی سماج کوقریب سے دیکھا اور سمجھا تھا ۔ وہ اس ملک کی سماجی زندگی کے نبض آ شنا تھے ۔ انھوں نے دیگر مذاہب کے افکار و خیالات کے لئے بھی اپنے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھی تھیں۔ تحریکِ آ زادی کے دوران ہر طبقے اور ہر علاقہ کے لوگوں سے ان کو سابقہ پڑا ۔یہی عوامل تھے جو ان کی قومی یکجہتی کے نظر یہ کی تشکیل میں معاون ثابت ہو ئے ۔
گاندھی جی کے قومی یکجہتی نظریات:
گاندھی جی کے قومی یکجہتی نظریات کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے جس حقیقت پر ہماری نظر ٹھہر تی ہے وہ یہ کہ ان کے فطری میلان کا نتیجہ نہ تھا بلکہ ان کے عہد میں جاری تحریکات اور رجحانات کا تقاضا بھی تھا۔ در اصل تحریکِ آ زادی کے عروج کے زمانے میں اسے ناکام کر نے کی سازشیں بھی وجود میں آ ئیں۔ انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پا لیسی کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں میں جو نفرت کے بیج ڈالے گئے تھے ان میں انکھوے نکلنے لگے تھے ۔ مختلف قوموں اور ذاتوں کے بیچ دوریاں بڑھنے لگیں تھی ۔۱۹۰۹ ء میں مارل منٹو کی اصلاحات سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے الگ الگ حلقہٗ انتخاب کا اعلان ،شدّھی تحریک اور دو قومی نظریہ کا سامنے آ نا یہ وہ عوامل تھے جو تحریکِ آ زادی کے لئے سمِ قاتل ثابت ہو سکتے تھے ۔ گاندھی جی نے ان خطرات کو بھانپ لیا اور اتفاق اور اتحاد کی فضا قائم کر نے میں جٹ گئے ۔ ڈاکڑ امبیڈ کر اور طبقۂ اشراف کے درمیان سمجھوتہ کروا کر گو یا انھوں نے ایک بڑی مصیبت کو ٹال دیا تھا ۔ ملک میں صدیوں سے چلی آ رہی چھوت چھات کی رسم کے خلاف انھوں نے تحریک چلائی ۔گاندھی جی نے لسانی تفریق کا خاتمہ کر نے کی غرض سے ہندوستانی کا تصوّر پیش کیا ۔ وہ اردو کو ایک ایسی زبان کی شکل دینا چاہتے تھے جس میں فارسی اور عربی کی بہ نسبت مقامی اور علاقائی آسان الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو تاکہ ہندوستان کا ہر شخص اس زبان کو سمجھ سکے اور یہ زبان پورے ملک کو لسانی سطح پر جوڑ کا ذریعہ بن جا ئے ۔

گاندھی جی کے قومی اتّحاد کے نظر یہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے تمام طبقات کو اتحاد کی ڈور سے باندھنے کے لئے گاؤں اور شہر کو بھی قریب لا نے کی کوشش کی ۔انھوں نے دیہی زندگی کی اصلاح اور ترقّّی پر خاص طور پر زور دیا ۔صنعتی ترقّی نے جہاں شہروں کو ترقّی سے ہمکنار کیا تھا وہیں دیہاتوں کا پچھڑا پن دیکھ کر گاندھی جی نے اس طرف توجّہ دی ۔ ان کے قول کے مطابق ہندوستان دیہا توں میں بستاہے اور اسی ہندوستاں کو ترقّی کے مواقع فراہم کر نے کے لئے انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں جگہ جگہ اشارے کئے ہیں ۔ گاندھی جی کا قومی ایکتا کا نظریہ ذات پات اور علاقائی حدود سے اونچا تھا ۔اس کے شواہد ان واقعات سے ملتے ہیں جو ان کے جنوبی افریقہ کے قیام کے دوران پیش آ ئے ۔ گاندھی جی نے افریقہ میں کا لے اور گوروں کے درمیان فرق مٹانے کی کوشش کی۔ وہاں سیاہ فام باشندوں پر ہو نے والے مظالم کے خلاف گاندھی جی نے آ واز اٹھائی ۔ ان کے تمام نظریات خواہ وہ اہنسا ،ستیہ گرہ اور بھائی چارہ جیسے نکات کا احاطہ کر تے ہوں یا وہ آدرش اور اصول جو انسان کی روزمرّہ کی زندگی میں ایک رہنما کا کام دیتے ہوں، نہ صرف ہمارے ملک میں مقبول ہوئے بلکہ عالمی پیمانے پر بھی مختلف مفکروں اور فنکاروں اور قلمکاروں نے انھیں سراہا اور حرزِجاں بنایا ۔ اسی حقیقت کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ گاندھی جی کے قومی یکجہتی کے نظریات کو منافرت پھیلانے اور پھوٹ ڈالنے والے عناصر نے کبھی پسند نہیں کیا ۔اسی پھوٹ کا نتیجہ تھا کہ قومی یکجہتی کے لئے کی گئی کو ششوں کی گاندھی جی کو بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ یہی قیمت ان کی جان ہی لے کر رہی ۔ گاندھی جی نے اپنے عہد کے معیارِ زندگی کو بلند کر نے کے لئے حیات کا سودا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے لہو بھرے قدموں سے ایک راہِ حیات کی تشکیل کر گئے یہی ڈگر آ ج بھی دیش واسیوں کے لئے راہِ حیات بھی ہے اور منارۂ نور بھی ۔


Monday, September 15, 2008

RAMZANUL MUBARK رمضان المبارک اور ہماری غفلت شعاری


         
      رمضان المبارک اور ہماری غفلت شعاری 
محمّد اسد اللہ    

یوں تو خدا کی بے شمار نعمتیں ہر آ ن انسانوں پر بارش کی طرح برستی رہتی ہیں لیکن مقدّس ماہِ رمضان خدا کا اپنے بندوں پر ایک احسانِ عظیم ہے۔ اس با برکت مہینے میںابتدائی عشرہ کو رحمت ،دوسرے عشرہ کو مغفرت اور آ خری عشرہ کو جہنّم سے نجات کے لئے متعّین کر کے اللہ تعالیٰ نے گناہ گار روحوں کی نجات کا سامان اور مغفرت کے مواقع مہیّا فرمادئے۔ اسی کے ساتھ شیطان کو اس ماہ میں قید کرکے انسانوں کو گمراہ کر نے والی ایک زبر دست طاقت کو مقیّد کر دیا ،روزہ کی صورت میں کھانے پینے سے منع کرکے نفسانی قوّت کو سر اٹھانے سے روک دیا ۔اس سلسہ کی مصروفیات سے بھی ہمیں نجات مل گئی ۔ اور کیا چاہئے۔ ۔انسان اپنے دو دشمنوں نفس اور شیطان سے محفوظ خدا کی رحمت برس رہی ہے اب سوائے اپنی نجات کی فکر اور اپنے مالک کو راضی کر نے کے کو ئی کام نہیں ۔

قرآن مجید اورشبِ قدر 

قرآن مجید اسی ماہِ مبارک میں نازل ہوا ۔ہزار مہینوں سے افضل شبِ قدر جس میں ملائکہ نازل ہو تے ہیں خدا نے اسی ماہ کے آ خری عشرہ کی طاق راتوں میں رکھ دی ،گویا وقت کا تنگ پیمانہ بھی لامحدود وقت کی فراغت سے ہمکنار ہو گیا ۔ قرآن مجید کے ہر حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں رکھی ہیں ،رمضان المبارک میں زبردست آ فر یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر ستّر گنا بڑھا دیا ۔تاکہ لو گ خوب عبادت کریں اور اپنے نامۂ اعمال کو جو سال بھر خشک سالی کا شکار تھا بھر لیں ۔
اس کے باوجود یہ مشاہدہ ہے کہ لوگ ان برکتوں سے فیضیاب نہیں ہو تے ۔ظاہر یہ نقصانِ عظیم ہے ۔ایک طویل حدیث کے مطابق حضرت جبرئیل نے حضورﷺ کے سامنے یہ دعا کی کہ

ہلاک ہو جائے وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پا ئے اور اس کی مغفرت نہ ہو ۔نبی کریم ﷺ نے اس پر آ مین کہی ۔ (اک روایت کی رو سے حضرت جبرئیل نے آپؑ سے آمین کہنے کی درخواست کی ۔)افسوس ہے ان لو گوں پر جو نہ تو اس مقدّس مہینے کی برکات سے فیض یاب ہو تے ہیں ۔نہ روزے، نہ نماز، نہ توبہ،نہ استغفار ۔نہ خدا سے تعلّق استوار کر تے ہیں ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی چمن میں بہار آ ئی ہو ،پھول کھلے ،پرندے چہچہائے،معطّر ہوائیں چلیںمگر اندھے ،بہرے اور بے حس لو گوں نے نہ کچھ سنا ،نہ دیکھا ،نہ کچھ محسوس کیا۔

بعض لو گ ماہِ رمضان میں بھی بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں ۔ سنا ہے جب کسی بندہ سے کو ئی گناہ سر زد ہو جا تا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگا دیا جاتا ہے ۔ خدا کے حضور معافی مانگ لے تو اسے مٹا دیا جاتا ہے ، ورنہ وہیں رہ جا تا ہے۔ داغ پر داغ لگ لگ کر انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔ پھر کو ئی اچّھی بات دل میں نہیں اترتی،ہدایت کا کلمہ اس پر اثر نہیں کر تا ،جیسے دل پر مہر کر دی گئی ہو ۔خد ا دین ،عبادت ،مسجد اور آ خرت کے ذکر سے بھی اسے وحشت ہو تی ہے ۔ یہ دل کا ایک خطرناک مرض ہے اور علاج اس کا یہ ہے کہ اس وحشت کو خدا کے ذکر ،کلامِ ربّانی کی تلاوت اور دینی مجلسوں میں شریک ہو کر دور کیا جا ئے ۔ رمضان کا مہینہ اور اس کی مجوّزہ عبادتیں اس مسئلہ کا بہتیرین حل ہیں کہ دل کی اجڑی ہو ئی بستی کو از سر نو بسایا جا ئے۔

اسی کے ساتھ ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ سال بھر دل دماغ اور روح پر گناہوں کی سیاہی اور گندے ماحول کی خباثت نے جو اثرات مرتّب کئے ہیں وہ اللہ کے ذکر ،قرآن کی تلاوت ،نمازوں کی کثرت اور روزے کی مشقّت سے دھل جائیں اور روح میں پا کیزگی در آ ئے ۔ ہمارے دل کا آ ئینہ صاف و شفّاف ہوجائے تاکہ اس کے بعد اس میں نورِ الٰہی اترے تو بندہ جذبۂ عبدیت اور اطاعت سے سر شار ہو کر اپنے مالک کے آ کے جھکے تو اسے بھی پیار آ جائے اور وہ ہماری مغفرت کا فیصلہ فرمادے ۔

   کام      آ خر      جذبہ  ٔ بے اختیار آ  ہی     گیا   
دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا ۔
جگر مراد آ بادی                                             

Friday, September 12, 2008

Itni si bat ..story for kidsاردو کہانی


   اتنی سی بات  
(کہانی )
محمّد اسد اللہ 


بابو جی ! میں ایک نوٹ ہوں ۔کاغذ کا ایک بے جان سا ٹکڑا ۔ اتنے سے کاغذ کے ٹکڑے کی بھلا کیا اہمیت ۔میری قیمت میرے اوپر لکھی ہے۔سو روپئے ۔ یوں تو کسی بھی چیز پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔ مگر چیزیں اپنی قیمت خود طے نہیں کرتیں ۔ کبھی لوگ اور کبھی حالات چیزوں کی قیمت طے کرتے ہیں۔ دام گھٹاتے اور بڑھاتے ہیں ۔ 

آئیے ! میں آپ کو اپنی کہانی سناؤں !
مجھے اپنے بچپن کے سبھی واقعات تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں ،بس اتنا ضرور یاد ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ،بنجاروں کی طرح بھٹکتا پھر رہا ہوں ۔ کبھی کسی کی جیب میں کبھی کسی کے پرس میں ۔کبھی کوئی آکر اٹھا لے جاتا ہے تو میں نئے سفر پر چل پڑتا ہوں ۔ 

ایسے ہی ایک سفر کی بات ہے ،جب میں رامو حلوائی کی دکان جا پہنچا ۔ ایک آدمی نے مٹھائی خریدی اور مجھے اس کے حوالے کر دیا ۔ حلوائی نے مجھے روپیوں کے گلّہ میں ڈال دیا جہاں اور بھی ڈھیر سارے نوٹ پڑے تھے ۔ ان نوٹوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میری خیریت پوچھنے لگے ۔ کسی نے پوچھا ’کہاں کہاں سے ہو کر آیا ہوں ‘ ؟۔ میں انھیں اپنے سفر کا حال سناتا رہا۔دکان میں گاہک آتے جاتے رہے ۔تھوڑی دیر بعد ایک غریب لڑکی اپنے چھوٹے سے بھائی کو اپنے کاندھے پر اٹھائے ہوئے وہاں آئی اور گڑگڑا کر حلوائی سے کھانے کے لیے کچھ مانگنے لگی۔’بابوجی! ہم بھائی بہن صبح سے بھوکے ہیں کچھ کھانے کو دو۔ ‘ 
’کھانے کو دو ؟ تیرے پاس پیسے ویسے ہیں چھوکری ؟ رامو نے پوچھا ۔
ناہیں بابا ۔ ہمارے ماں باپ دونوں گجر گئے ۔ہمارا کوئی نہیں ۔ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ۔ ‘
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو، نہیں تو چلو آگے‘۔ رامو حلوائی نے اسے جھڑک کر بھگا دیا ۔ 

میرا جی چاہا کہیں سے میرے پر لگ جائیں اور میں اڑ کر اس غریب لڑکی کے ہاتھوں میں پہنچ جاؤں ۔مگر یہ میرے بس میں نہیں تھا ۔
اس رات رامو حلوائی نے دکان بند کی تو تمام نوٹوں کو اپنی جیب میں بھر کر گھر لے گیا ۔ آدھی رات گذری ہوگی کہ دھیرے دھیرے پانی کی بوندیں پڑنے لگیں۔ہوا سے درختوں کے پتّوںکی سر سرا ہٹ سنائی دینے لگی ۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ غریب لڑکی اور اس کا بھوکا بھائی سسک سسک کر رو رہے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی ۔بادل اتنے گہرے تھے کہ صبح ہو نے پر بھی ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ پورا دن گزر گیا مگر بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا ۔دوسرے دن شور سنائی دیا کہ گاؤں کی ندی میں باڑھ آئی ہے اور گاؤں کے قریب ہی واقع بند ٹوٹ گیا ہے، گاؤں بہنے لگا۔ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے لگے ۔ رامو حلوائی اپنے روپیوں اور زیورات کی پیٹی لے کر اپنی تین منزلہ بلڈنگ پر چڑھ گیا ۔ آس پاس کے چھوٹے موٹے گھر پانی میں ڈوب چکے تھے ۔ دو تین دن بعد پانی کم ہو ا۔ کئی لوگ اور مویشی پانی میں ڈوب کے ختم ہو گئے تھے ۔گھروں اور دکانوں کا سارا سامان بہہ چکا تھا ۔ 

رامو حلوائی اپنی بیوی اور بچّوں کے ساتھ کھانے کی تلاش میں نکلا ۔دو دن سے انھیں کچھ بھی نصیب نہ ہوا تھا ۔ رامو نے نوٹوں اور زیورات کے صندوق میں ہاتھ ڈال کر مجھے نکالا ۔ اور خود بیوی بچّوں کو ایک پیڑ کے نیچے بٹھا کر کھانے کی تلاش میں نکل پڑا ۔ وہ لوگوں کو مجھے دکھا کر کہتا تھا :’یہ سو کا نوٹ لے لو اورکھانے کی کوئی چیز ہو تو مجھے دو ۔ یہ سو روپئے کا نوٹ لے لو ،دو روٹیاں دے دو ‘۔ مگر سب لوگ اسی کی طرح دانہ دانہ کے محتاج در در بھٹک رہے تھے۔ 
بابو جی ! مجھے اپنے اوپر لکھے ہوئے ہندسوں اور لفظوں پر ہمیشہ فخر محسوس ہوا ہے لیکن زندگی میں مجھے پہلی مرتبہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اوپرایک جھوٹ لکھا ہوا ہے ۔ میں سو روپئے کا نوٹ نہیں کاغذ کا ایک حقیر ٹکڑا ہوں ۔ 

تھوڑی دیر بعد فضا میں گڑ گڑ اہٹ سنائی دی ۔سب نے آسمان کی طرف دیکھا ۔ایک ہیلی کوپٹر ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے آیا تھا۔جب وہ لوگوں کے سروں پر سے گذرنے لگا تو اس سے کھانے کے پیکیٹس گرنے لگے۔ لوگ انھیں حاصل کرنے کے لیے پاگلوں کی طرح دوڑ رہے تھے ۔ رامو حلوائی جو اپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے ہاتھی کی طرح موٹا ہو گیا تھا وہ بھلا کیسے دوڑپا تا مگر پیٹ کی مجبوری نے اسے بھی دوڑ نے پر مجبور کردیا ۔اپنے تھل تھلے جسم کے ساتھ بے تحاشا دورتے دوڑتے وہ دو بار بری طرح گرا ۔اس کے گھٹنے زخمی ہو گئے ۔ دھوتی پھٹ گئی ،مگر وہ کھانے کی تلاش میں ادھر ادھر ما را مارا پھرتا رہا ۔ بڑی مشکل سے کھانے کے دو چار پیکٹ حاصل کر پایا اورانھیں لے کر وہ اپنے بیوی بچّوں کے پاس پہنچا تواس نے مجھے بڑی حقارت سے دیکھا ۔ بابو جی لوگ نوٹوں کو تو ہر جگہ لالچ اورمحبت بھری نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں ،مگر یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے رامو حلوائی جیسے دولت کے لالچی شخص کی نفرت بھری نظروں کا سامنا کرنا پڑا ۔ 

دوسرے دن اس علاقہ میں امدادی کیمپ لگایا گیا جہاں سے لوگوں کو کھانا کپڑا وغیرہ ملنے لگا ۔اس سیلاب سے لٹے پٹے لوگوں کی لمبی قطار میں رامو حلوائی بھی اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ لاچار کھڑا تاتھا ۔میں اس وقت بھی اس کی جیب میں موجود تھا ۔ مگر اس کے کسی کام نہ آ سکتا تھا ۔ رامو حلوائی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا اور اس کے پیچھے وہی لڑ کی اپنی بھائی کو کاندھے پر سوار کیے کھڑی تھی جسے کچھ دن پہلے رامو حلوائی نے اپنی دکان سے جھڑک کر بھگا دیا تھا ۔ اس لڑکی کے کانوں میں وہ جملے گونج اٹھے۔۔ 
’ چل بھاگ یہاں سے ۔ چلے آتے ہیں نہ جانے کہاں کہاں سے کوئی لنگر کھول رکھا ہے کیا؟ پیسے ہو تو بات کرو نہیں تو چلو آگے‘۔
’چلو آگے‘،رامو حلوائی کو کسی نے پیچھے سے دھکّا دیا ۔رامو حلوائی بھی شاید ان ہی جملوں میں کھویا ہوا تھا ۔ لوگ آگے بڑھ رہے تھے ۔ اس لڑکی نے رامو حلوائی کو دھیان سے دیکھااس کی نظریں جیسے اس سے پوچھ رہی تھیں،’ کیا آج تمہارے پاس بھی پیسہ نہیں ہے ؟جو ہماری طرح یہاں کھڑے ہو ‘
رامو حلوائی نے نظریں جھکا لیں ۔شرم کی وجہ سے یا اس لڑکی کی تیکھی نظروں سے بچنے کے لئے ۔ پھر وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا : اے اوپر والے! میری سمجھ میں آ گیا ،دنیا میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے ،مگر اتنی سی بات سمجھانے کے لیے اتنی بڑی باڑھ بھیجنے کی کیا جرورت تھی ‘۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔