Monday, June 06, 2011

Manto Ki Kirdar Nigari سعادت حسن منٹو کی کر دار نگاری

سعادت حسن منٹو کی کر دار نگاری


محمّد اسد اللہ ، ناگپور



سعادت حسن منٹو اپنے شاہکار افسانوں کے سبب ایک عظیم فنکار مانے جاتے ہیں ۔ ان کی اس عظمت کے اجزائے ترکیبی ان کا اسلوب ،بے باک سماجی حقیقت نگاری ، کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کر نے کا ہنر ، فنِ افسانہ نگاری کے اسرار و رموز سے آ گہی اور اسے تخلیقی سطح پر برتنے کا سلیقہ اورانسانی زندگی کے مسائل اور اس کی پیچیدگیوں کو اپنی تخلیقات میں فنکارانہ انداز میں پیش کر نے کی صلا حیت ،اور دیگر اوصاف منٹو کی امتیازی خوبیوں کے طور پر بیان کئے جا تے ہیں ۔ لیکن منٹو کی بے مثال کر دار نگاری بھی بحیثیت افسانہ نگار اس کی عظمت میں برابر کی شر یک ہے۔ منٹو نے اپنے افسانوں اور ڈراموں میں متعدد کر دار پیش کئے جنھوں نے اردو ادب میں اپنی پہچان بنائی ۔منٹو کے یہاں ہمیں کرداروں کا ایک نگا رخانہ نظر آ تا ہے ۔ ٹو بہ ٹیک سنگھ ، بابو گو پی ناتھ ، سلطانہ ،سوگندھی ،موذیل،شاردا،سہائے، منظور ، مس مالا ، ایشر سنگھ استاد منگو خاں ، دو دا پہلوان، ممد بھائی وغیرہ ان میں چند نام ہیں ۔ان کر داروں میں بعض طوائفیں ہیں اور وہ لو گ بھی جن کا تعلّق قحبہ خانوں اور کو ٹھوں سے رہا ہے ۔چند اس پیشے سے وابستہ ہیں اور بعض اس دنیائے حسن کے اسیر ہیں۔ان کر داروں میں بیشتر نے اسے بدنام بھی کیا اس پر فحش نگار کا الزام لگایا گیا ۔ ان کرداروں کے انتخاب نے جہاں منٹو کو رسوا کیا وہیں اس کی شہرت کا سبب بھی بنے ۔انھی لو گوں میں منٹو انسان تلاش کر تا رہا ۔


منٹو نے اپنے آس پاس پیش آ نے والی ہر حر کت کو محسوس کیا اور ان واقعات و سانحات میں جن چیزوں نے اسے اندرتک جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہ اس کے فن کے دائرے میں شامل ہو گیا۔اس نے جس گہرائی سے لوگوں کا مشاہدہ کیا اسے اسی فنّی چابک دستی کے ساتھ اپنے افسانوں کا مو ضوع بنایا ۔منٹو نے ان کر داروں کے وسیلے سے اپنے عہد کا بد نما چہرہ دکھایا اور زندگی کی ان حقیقتوں کو بے نقاب کیا جن کا نظارہ ہمارے لئے نا قابلَ بر داشت تھا ۔اس کا احساس منٹو کو بھی تھا اس کا اعتراف اس نے ان الفاظ میں کیا ہے ۔


" زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں ،اگرآپ اس سے نا واقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔اگر آ پ ان افسانوں کو بر داشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے ۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں ،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔میری تحریر میں کو ئی نقص نہیں ۔جس نقص کو میرے نام سے منسوب کی جا تا ہے در اصل مو جودہ نظام کا نقص ہے ۔ "

(ادبِ جدید دستاویز ۔ص52)


مرد اور عورت دو نوں کے درجنوں نمونے اس کے کر داروں میں ہیں اور سارے کر دار بلیک اینڈ وہائٹ نہیں ہیں بلکہ اچّھے برے ،کم اچّھے کم برے اور بہت برے لوگ بھی ہیں جو سماج کے نام پر ایک کلنک کی طرح ہیں ۔ کسی مخصوص آیڈیا لوجی سے جڑے ہو ئے نہ ہو نے کی وجہ سے منٹو نے کچھ خاص قسم کے چہرے یا چند مثالی کر دار پیش کر نے کی کو شش نہیں کی بلکہ جس طرح دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اسی طرح اس کے کر داروں میں زبر دست تنوّع مو جود ہے البتّہ منٹو کے کر دارون کی پیشکش میں ایک چیز جو قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے وہ ہے، ان لو گوں میں سچّے انسان کی تلاش ۔ یہ کر دار برے سے برے ماحول میں رہنے کے با وجود اپنی فطرت کا کچھ حصّہ ، خیر کا کو ئی ذرّہ اپنی ذات کے جلو میں چھپا ئے رہتے ہیں ۔لوگ ان کے ظاہر سے ان کی شخصیت کا فیصلہ کر تے ہیں لیکن منٹو ان کی ذات کے نہاں خا نوں تک ہمیں لے جاتا ہے دکھا تا ہے کہ دیکھو انسان ایسے بھی ہو تے ہیں ۔ منٹوکے بعض کر دار مثلاً مو ذیل ۔بابو گو پی ناتھ ۔ وغیرہ اس بات کا ثبوت پیش کر تے ہیں کہ اس گھناؤ نے ماحول میں بھی انسانی قدریں نہ صرف باقی رہتی ہیں بلکہ ان کی معراج ہماری آ نکھیں خیرہ کر دیتی ہیں ۔

منٹو نے اپنےکر داروں کی نفسیاتی الجھنیں اور اندرونی کشمکش کو زبان عطا کی ۔ شاہ دولے کا چوہا کی سلیمہ اپنی اولاد کی جدائی کےکرب سے گزرتی ہے ۔اس افسانے کی مر کزی کر دار ،سلیمہ کے کر دار پر روشنی ڈالتے ہو ئے ڈاکٹر شکیل الرحمٰن لکھتے ہیں۔

" اس افسانے میں سعادت حسن منٹو کی فنکاری عروج پر ہے ۔فنکاری کی عظمت یہ ہے کہ سلیمہ کی ذات اور حالا ت کی کشمکش میں شخصیت کو اس طرح ابھا ر گیا ہے کہ بڑی شدّت سے محسوس ہو تا ہے کہ یہ عورت اپنی داخلی تکمیل سے محروم ہے ۔ اس کی نفسیاتی الجھن اور پیچیدگی اس افسانے کی تخلیقی سطح کو بلند کر دیتی ہے ۔ ۔۔،سلیمہ اپنے شوہر اور بچّوں کے ساتھ رہتے ہو ئے بھی تنہا ہے اسے ہر لمحہ محسوس ہو تا ہے جیسے پہلے بیٹے کو کھو دینے کی وجہ سے اس کی ذا ت کی تکمیل نہیں ہو سکی ،بہت بڑی کمی ہے ،ایک خلا سا ہے ۔ممتا ہر لمحہ جا گی ہو ئی اور روحانی کر ب اور اضطراب میں اضافہ کر رہی ہے ۔ سعادت حسن منٹو کا یہ کر دار باطن کی گہری المناکی سے ابھر تا ہے اور مسلسل داخلی خود کلامی میں گرفتار رہتا ہے ،داخلی خود کلامی باطن کی ویرانی کو حد درجہ محسوس بنا تی ہے ۔ کر دار کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے نقصان کوکسی چیز سے پو را نہیں کر سکتا۔ سعادت حسن منٹو کی فنکاری کا عروج وہاں ہے جہاں سلیمہ کا مسلسل سوچتا ہوا ذہن لا شعور کے اندھیرے سے چھوٹے چھوٹے چوہوں کو نکالتا رہتا ہے ۔

( شاہ دولے کا چوہا ۔ایک تجزیہ ۔ ڈاکٹر شکیل الرحمٰن مطبوعہ :تکمیل بھیونڈی ، منٹو کی یاد میں خصوصی شمارہ 2010 )

سوگندھی جو ایک طوائف کی زندگی گزارتے ہو ئے انسانوں کی خود غرضی اور مکّاری کے تجربات سے گزر کر تمام انسانوں سے بے زار ہو جا تی ہے اور سب سے ناتہ توڑ بیٹھتی ہے ۔

کمار پاشی اس سلسلے میں رقمطراز ہیں : " سوگندھی ایک طوائف ضرور ہے کہ اپنے جسم کا کا روبار کر تی ہے لیکن مکّار نہیں ۔ اس کی روح میں ویسی ہی روشنی ہے جو کسی آ درش ہندوستانی عورت کی آ تما میں ہو تی ہے در اصل سو گندھی ایک مجبور اور بے بس عورت ہے۔ ایک مظلوم عورت ،جو سب کچھ بر داشت کر لیتی ہے ۔کبھی اس نے بھی چا ہا تھا کہ اس کے جسم کا ذرّہ ذرّہ ماں بن جا ئے ۔۔۔۔ سوگندھی اپنی روح میں بسے اجالوں سے اچّھی طرح واقف ہے وہ جانتی ہے کہ اس کا جسم اور اس کی آ تما بالکل الگ شے ہے جسے وہ دام لئے بغیر کسی کو بھی دے سکتی ہے لیکن وہ جو کچھ ہے ،جو کچھ اس کے اندر ہے اسے کو ن خرید سکتا ہے کہ وہ تو بیش قہمت ہے ۔ ۔

(سوگندھی : منٹو کی کہانی ہتک کا کر دار ۔کمار پاشی ،مطبوعہ تکمیل ص454)



منٹو کے افسانوں میں کئی طوائفوں کی زندگی کو پیش کیاگیا ہے لیکن یہ مختلف کر دار ہیں جن کی اپنی پہچان ہے۔ منٹو نے ،میرا نام رادھا،پڑھئے کلمہ،شاردا اور سر کنڈوں کے پیچھے کی مدد سے ہر طوائف کی انفرادی خصوصیت کو بیان کیا ہے ۔

ان کر داروں کے حوالے سے ہمیں انسانی زندگی کا مسخ شدہ چہرہ نظر آ تا ہے لیکن منٹو اس پو رے منظر نامے میں انسانی روح کے اندر مو جود انسانی جو ہر کی سلامتی کی خبر بھی ان ہی کرداروں کے افعال کی مدد سے دیتا ہے

منٹو کے اکثر کر دار سماج کے نا پسندیدہ افراد ہیں لیکن منٹو نے ان کے اندر مو جود نیکی اور خیر کے مادّے تک رسائی حاصل کر کے انھیں ادب کا موضوع بنایا ہے اس کے کر دار انتہائی ناموافق حالات میں بھی غیر معمولی جرأ ت اور زندگی کا ثبوت پیش کر تے ہیں منظور کا کردار زندگی اور موت کی کگار پر موجود ہو نے کے با وجود پو رے ہسپتال میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے اور وہاں مو جود زندگی سے ما یوس لو گوں میں جینے کی امنگ پیدا کر کے اس دنیا سے اچانک غائب ہو جا تا ہے ۔


کالی شلوار کی سلطانہ جو ایک طوائف ہے ، اس کا محرّ م کے مو قع پر کالی شلوار پہننے کی خواہش کر نا اس کی گہری عقیدت کی دلیل ہے ۔ رادھا بائی فلموں میں آ کر گلو کارہ بن جاتی ہے اور اپنا نام الماس رکھ لیتی ہے کیونکہ وہ رادھا جیسے پوتر نام کو اس ماحول میں نہیں لے جانا چاہتی ۔ دودا پہلوان اپنی امرد پرستی کے باوجود لنگوٹ کا پکّا ہے اورجب اپنے محبوب کی مدد کی خاطر اسے طوائف الماس کے ہا تھوں اپنے آ پ کو بیچ دینا پڑ تاہے تو اس سانحہ پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑ تا ہے ۔


منٹو کے میلو ڈرامے ’ اس منجھدار میں ‘ سعیدہ اور اصغری کے کر دار اپنے ضمیر کی آ واز پر مختلف انداز میں عمل کر تے ہو ئے نظر آ تے ہیں۔ سعیدہ کا شوہر مجید شادی کے دوسرے ہی دن حادثے کا شکار ہو کر اپنے دو نوں پیروں سے محروم ہو جا تاہے اس کے بعد نئی دلہن سعیدہ کو اس کے فطری تقاضے جن راستوں ہر لے جاتے ہیں ان پر اس گھر کی نوکرانی صغریٰ کا بار بار طنزیہ انداز میں حملہ کر نا ،دیور امجد کا گھر چھوڑ کر راولپنڈی چلے جانے کے لئے آ مادہ ہو جانا اور سعیدہ کا ان حالات میں بے بس ہو جانا اور آخر میں مجید کا خودکشی کر لینا ،خیر اور شر کی کشمکش میں انسانی ضمیر کی آ واز کو منٹو نے انسانوں کے اعمال پر گرفت کر تے ہو ئے دکھایا ہے ۔


اگر منٹو ان کر داروں کی شکل میں سماج میں پا ئے جا نے والے انسانو ں کے چہرے اپنے افسانوں کے پردے پر نمایاں کرنے پر اکتفا کرتا توشاید اسے ادب میں وہ مقام حاصل نہ ہوتا جو ان کر داروں کے پسںِ پر دہ صالح انسانی صفات اور انسانی فطرت میں مو جود خیر کے مادّہ کی تلاش کا جذبہ نہ ہو تا ۔ کیچڑ میں کنول کی تلاش اور گہرے پا نیوں میں انسانی قدروں کے گو ہرِ آ بدار کی جستجو جو اس منٹو کی فطرت میں شامل تھی آ خر وہی اس کا ہنر ٹھہرا ۔

منٹو کے افسانوں اور ڈراموں میں کرداروں کے مکالمے ان کی شخصیت کی مکمّل ترجمانی کر تے ہیں ۔ان مکالموں میں ادبی شان اور غیر رسمی انداز زیبِ داستان کے لئے نہیں ہے بلکہ ان افرادکی اندرونی دنیا میں پیش آ نے والی واردات اور احساسات کا فنکارانہ بیان ہے ۔منٹو نے ان کر داروں کو اس انداز سے سنوارا ہے کہ وہ اپنی بشری کمزوریوں کے با وجود اپنی فطری سادگی اور انسانیت کے سبب ہمارے دل کو چھو لیتے ہیں اور بعض کر دار ہمیں اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, May 14, 2011

Masajid

مساجد کی تعمیر اور تزئین

محمّد شریف ناگپور

مسجد یں اللہ کے گھرہیں۔ اور تمام مساجد بیت اللہ کی بیٹیاں یعنی بیت اللہ کی شاخیں ہیں۔ اس لئے مسجد کی تعمیر بہت بڑا کار ثواب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جواللہ کے لئے مسجد بناتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے اور مساجد کی تعمیر مسلمان کے ایمان کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا انما یعمر مساجد اللہ من اٰمن باللہ والیوم الااٰخر ۔ مسجدوں کو تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور آخرت کے دن پر۔ بحر حال مسجدوں کی تعمیر اسلا م میں محمود چیز ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ مسلمان اور مسجد کا گہرا تعلق ہے۔ مومن کا وجود ہی بغیر مسجد کے مشکل ہے۔ جہاں ایمان والے ہونگے وہاں مسجد ضرور ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : المومن فی المسجد ک السمک فی الماء یعنی مومن مسجد میں ایسا ہے جیسے مچھلی پانی میں ۔مچھلی کی زندگی ہی پانی کے بغیر دو بھر ہے۔ اگر کوئی مسلمان مسجد کے بغیر جی رہا ہے تو اس کی یہ زندگی اسلامی اور ایمانی زندگی نہیں ہے بلکہ یہ زندگی حیوانی ہے۔ اس لحاظ سے مساجد کی تعمیر مسلمانوں کے لئے بہت ضروری ہے مگر تعمیر میں مبالغہ اور اس کی تزئین یعنی decoration منشاء نبوت کے خلاف ہے۔ مسجدوں کو بہت زیادہ پر تکلف بنانا اور سجانا اور ان میں نمائش کے ایسے ساماں رکھنا کہ مسجد میں داخل ہو کر آدمی مسجد کے درودیوار کو دیکھنے ہی میں اٹک جائے مسجد کے مقصد ہی کو فوت کردیتا ہے۔ مسجد یں تو اللہ سے تعلق کو بڑھانے کے لئے ہیں۔ مسجد کی عمارت کو بہت شاندار اور عالی شان بنانا قرب قیامت کی علامت ہے۔
حضورؐ کی مسجد تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ ہے۔ آپ کی مسجد کتنی سادی تھی۔ کوئی پختہ عمارت نہیں تھی۔ کھجور کی ٹٹیوں کی بنی ہوئی تھی۔ اسی کی چھت بھی تھی۔ دھوپ اور بارش دونوں چھن کر مسجد میں آتے تھے۔ مسجد میں فرش پر بچھانے کے لئے کوئی مصلیٰ یا جاء نمازیں نہیں تھی۔ مٹی پر سجدہ ہوتا تھا۔ دروازے اور کھڑکیا بھی نہیں تھے۔مسجد کے بند ہونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ مسجد کچی تھی لیکن نمازی اتنے پختہ تھے کہ تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیئے گئے۔ مسجد کی مادی تعمیر کمزور تھی لیکن روحانی تعمیر بہت مضبوط۔ یہ روحانی تعمیر مسجد کی آبادی ہے۔ حضورؐ کی مسجد
۲۴! گھنٹے اعمال سے آباد رہتی تھی۔ مسلمانوں کے تمام اجتماعی کاموں کا مرکز مسجد تھی۔ مسجد صرف پنچ وقتہ نمازوں کے ادا کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ مسجد نبوی میں صحابہ کرام سیکھنے سکھانے میں مصروف رہتے تھے۔ دین کو عالم میں پھیلانے کے مشورے بھی مسجد میں ہوتے تھے۔ وہیں سے لشکروں کی روانگی بھی ہوتی تھی۔ آنے والے وفود کو مسجد ہی میں ٹہرایا جاتا تھا وہیں ان کی خدمت ہوتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہوتا وہیں مجمع کو سنایا کرتے تھے۔ لوگ انفرادی طور پر بھی عبادات میں لگے رہتے ، غرض کسی وقت بھی ہمارے زمانہ کی طرح مسجد خالی نہیں ہوتی تھی۔ مسجد کو آباد رکھنا ہی اصل مسجدکی تعمیر ہے۔
مسجدوں میں اتنا غیر ضروری سامان نہ بھریں کہ جس کے چوری ہوجانے کا اندیشہ ہو اور پھر نماز کے بعد تالا لگانے کی ضرورت محسوس ہو۔ مسجد میں نمازیوں کی ضرورت کا ہر سامان موجود ہو۔ نمازیوں کو راحت رسانی کی پوری فکر ہو لیکن نمائش نہ ہو۔ آج کل ممبر اور محراب ہی پر ہزاروںروپئے صرف کئے جارہے ہیں جو اسراف ہیں اور صرف آنکھوں کی لذت کا ساماں ہے۔ روحانی غذا کا اس میں کوئی انتظام نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی میں جو محراب بنوایا اس کی حکمت امام کی آواز کو پوری مسجد میں پھیلانے کی تھی وہ محراب کروی آئینہ کی قسم مقعر آئینہ کی طرح ہوتا تھا اور امام کا منھ اس آئینہ کے نقطہ ماسکہ (focus) پر ہوتا تھا یہ آواز اس محراب میں ٹکرا کر پوری مسجد میں بغیر مائک کے پھیلتی تھی۔ حضرت عمرؓ کا نقطہ نظر سائنسی تھا نہ کہ صرف ڈیزائن تھی۔ اب اس زمانہ میں صرف محراب کی ڈیزائن رہ گئی وہ مقعری ساخت نہیں رہی۔ اور نہ ہی اس کی ضرورت باقی رہی۔ اس کی جگہ اب لاؤڈ اسپیکر نے لے لی ہے۔ حضرت عمرؓ کی اس نشانی کو باقی رکھیں لیکن اس میں سادگی ہو اس میں بلاوجہ اسراف نہ ہو۔ اس کی بجائے مسجد میں محلہ کے سو فیصد مسلمان حاضری دیں اور مسجد صبح سے شام تک اعمال سے آباد رہے اس کی فکر کریں۔
مسجدوں میں لوگوں کے لئے ایسے انتظامات کریں کہ لوگ اپنے خالی اوقات مسجد میں گذارا کریں۔ اس کے لئے اجتماعی طور پر کسی ایک نماز کے بعد مصلیوں کے لئے تقریباً آدھا گھنٹہ کے لئے حدیث کی تعلیم کا نظم ہو اس میںخصوصاً فضائل کی حدیثیں سنائی جائیں تاکہ لوگوں کے اندر اعمال کاشوق اور جذبہ بڑھتا رہے۔ اور یقین میں تبدیلی ہوتی رہے مادی اور غیر یقینی اسباب سے ہٹ کر یقینی حقیقی اسباب یعنی اعمال کی طرف آئے ۔اس کے ساتھ ایک آدھ گھنٹہ کے لئے لوگوں کو ان کی ضرورت کی باتیں سیکھنے سکھانے کا نظم ہو جیسے حضورؐ نے اس کا نظم کیا کہ آپ کے صحابہ میں سے ہر ایک دین کے علم میں گہرا تھا۔ اعمقھم علما یہ صحابہ کی مشترک صفات میں سے ہے۔ وہ سب کے سب دین کے جاننے والے تھے۔ اس سیکھنے سکھانے کے عمل سے لوگون کا وقت مسجد میں گذرینگا۔ ورنہ اس وقت یہ حال ہے کہ جو لوگ فارغ ہیں یعنی ریٹائرڈ قسم کے ہیں نمازوں کے بعد مسجد کے باہر بیٹھ کر لایعنی اور گپ شب میں وقت گذارتے ہیں اور اپنے اعمال خراب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انفرادی مطالعہ کے لئے مسجدوں میں دین کی ضروری کتابیں رکھی جائیں۔ ہر مسجد میں کم از کم ایک الماری دینی کتابوں کے لئے مختص ہو۔ جس میں قرآن پاک کی تفسیریں، حدیث کی کتابیں، کچھ سیرت رسول اور سیر صحابہ اور سیرت صلحاء و اولیاء کی کتابیں کچھ فقہی مسائل کی کتابیں ہوں۔ اگر یہ کتابیں موجود ہوگی تو پڑھے لکھے لوگ ضرورت کے وقت ان کتابوں کو لیکر مسجد ہی میں بیٹھنگے۔ خود بھی نفع اٹھائینگے دوسروں کو بھی پہنچائینگے۔
ابھی یہ حالت ہے کہ کئی مسجدوں میں وہ بھی شہر کی ،قرآن پاک کے نسخے بھی نہیں ہیں۔ صرف
۳۰! پاروں کی چند پیٹیاں رکھی ہیں جو قرآن خوانی کے وقت کام آتی ہیں۔ مقتداؤں کی طرف سے بھی کوئی ایسی ترغیب نہیں دی جاتی کہ مسلمان روزانہ قرآن کی تلاوت کیا کریں۔ بعض مسجدوں میں ایک بھی مترجم قرآن شریف نہیں ہے۔ چاہتے ہیں کہ مسلمان جاہل رہیں۔ اگر یہ پڑھنے پڑھانے کا سامان مسجد میں موجود ہوگا تو جہالت میں کمی آئے گی۔ مسجدوں سے انس بڑھے گاتو دینداری بھی بڑھے گی۔ مسجد مسلمان کے لئے تربیت گاہ ہے۔ یہ تربیت اسی وقت ہوگی جب مسلمان مسجد میں وقت دیں اور یہی اصل تعمیر مسجد ہے۔ درودیوار کی تعمیر حقیقی تعمیر نہیں ہے۔ گوکہ ثواب اس پر بھی ہے اور اس میں بھی مصلیوں کی ضرورتوں کا اصل انتظام ہے۔ اوروہ موجودہ زمانہ کے لحاظ سے لوگوں کی بودوباش کا خیال رکھتے ہوئے ہو۔ مسجد میں پنکھے اور کولر لوگوں کی ضرورت کے مطابق ہو۔ کافی جاء نمازیں ہوں مائک کا انتظام صحیح ہو۔ مسجد میں بیت الخلاء اور استنجا خانے، غسل کانہ صاف ستھرے ہو۔ اس معاملہ میں بہت لاپرواہی کی جاتی ہے۔ لوگ مسجد کے استنجا خانوں اور بیت الخلاء کو بہت گندا کرتے ہیں اسی کی دیواروں پر تھوکتے ہیں۔ اس معاملہ میں لوگوں کی تربیت کی جائے، جمعہ کے بیانات میںاس پر تنبیہ کی جائے۔ اور صفائی کے لئے مسجدوں میں مستقل خادم رکھے جائیں سارا کام موذن پر ہی نہ رہے۔ وضو خانہ کو بھی صاف ستھرا رکھا جائے۔ موسم کے لحاظ سے نمازیوں کے لئے وضو کے واسطے گرم اور ٹھنڈے پانی کا انتظام ہو۔ پینے کے پانی کا بھی معقول انتظام ہو۔ لوگ اگر ٹھنڈا fridge کا پانی پینے کے عادی ہوگئے ہوں تو ٹھنڈے پانی کی مشین بھی مسجد میں مہیا کی جائے۔ مسجد میں اگر بجلی کی وجہ سے لوگوں کو بار بار تکلیف ہوتی ہو تو invertor کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔
یہ ضرورت کے سامان ہیں جو کسی زمانہ میں ضروری نہیں تھے لیکن اب لوگوں کامعیار زندگی اتنا بلند ہوچکا ہے کہ اگر مسجد میں یہ چیزیں نہ ہوگی تو لوگ مسجد میں زیادہ نہیں ٹہرسکے گے۔ بلکہ بعض لوگ تو ان ہی ضرورتوں کے فقدان کو بہانہ بنا کر مسجد میں نہیں آئینگے۔ اس لئے ان چیزوں کو اسراف نہ خیال کریں۔ مسجد کی عمارت میں ہوا دار کھڑکیاں، روشنی کا بھی معقول انتظام ہو لیکن اس میں حد سے آگے نہ بڑھیں۔ مثلاً جو کام
۵! ہزار روپئے میںآسانی سے ہوسکتا ہے محض نمائش اور decoration کے لئے ایک لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں۔ بے ضرورت P.O.P. کی ڈیزائن بنائی جائے یہ اسراف ہے۔ دیوارون پر tiles لگائے جائیں محض اچھا دکھنے کے لئے یہ بھی اسراف ہے اس سے کوئی ضرورت متعلق نہیں ہے۔ مسجد کی فلور بھی بقدر ضرورت ہی چکنی اور پرکشش ہو۔ آخر اس پر جاء نماز تو بچھتی ہی ہے۔ اس میں بھی لوگوں کے معیار کے مطابق ہی جاء نمازہو۔ ہر جگہ قالین کی ضرورت نہیں ہے۔ جاء نماز صاف ستھری ہو۔ نرم ہو۔ چوڑائی میں اتنی کم نہ ہو کہ لوگوں کو نماز پڑھنے میں دقت ہو۔ مسجد میں امام ایسے ہوں جو لوگوں کی دینی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ تربیت کریں سب کو لیکر چلیں۔ حلیم مزاج اور معمر ہوں۔ ایسے کم عمر لڑکے جن کے حلیہ سے بھی لوگوں کو کراہیت ہو ، کو امام نہ بنائیں۔ اما م پنچ وقتہ نمازوں میں حاضر باش ہو۔ صحیح قرآن پڑھنے والاہو۔ گروپ بندی کرنے والا ، ٹولیاں بنانے والے نہ ہو بلکہ زھد اور تقویٰ کی صفت اس میں پائی جاتی ہو۔
یہ سب چیزیں تعمیر مسجد میں داخل ہیں اور اس کے کرنے پر وہ سارے فضائل حاصل ہوسکتے ہیں جو تعمیر مسجد پر بیان کئے گئے ہیں۔ اصل پر نظر نہ رکھتے ہوئے محض رسمی تعمیر کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ بغیر اخلاص کے ایسی تعمیرات بجائے نجات کے پکڑ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مساجد کو معمور رکھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین

Thursday, May 12, 2011

hazal....Izhare Ishq Karte Hain Jooton Se Mar Ke


ہزل

محمّد اسد اللہ

ناگپور

اظہارِ عشق کرے ہیں جو توں سے مار کے

معنی بدل گئے ہیں یہاں کل سے پیا ر کے

سر ہے وبالِ جان تو اس کی بھی ہے دوا

رکھ دیتے ہیں ہمارے یہاں سر اتا ر کے

ہیں مبتلائے حالتِ فکرِ معاشِِ بد

سب تھک گئے ہیں قوم کی حالت سدھار کے

سن رکھ کہ کان پو ر میں ہڑ تال ہو گئ

سن سن کے یہ تقاضے ترے بار بار کے

کچھ ایسا کر کہ تو بھی اسے بے قرار کر

سنتا نہیں وہ نا لے دلِ بے قرار کے

ہم نقدِ جاں لئے ہو ئے بس سوکھتے رہے

سپنے وہ لے کے چل دیا ان سے ادھار کے

پبلک میں کیا سدھار ہے ہر گز نہ پو چھئے

لیڈر کے رخ پہ دیکھئے جلوے نکھا رکے

دانے گرے تو پیڑوں سے سارے اتر پڑے

پنچھی بنے ہو ئے ہیں سبھی ایک ڈار کے

کیونکر زبانِ درازی ِ بلبل و گل رکے

دیکھے ہیں سب نے فائدے چینخ و پکار کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Wednesday, April 27, 2011

تعلیم اور والدین کی ذمّہ داریاں


تعلیم اور والدین کی ذمّہ داریاں
رفعت انصاری ،ناگپور

ایک مشہو ر انگریز مفکّر کا قول ہے کہ بچّے کی تربیت کا وقت اس کی پیدائش سے ۱۸ سال پہلے شروع ہو تا ہے اور یہ وقت اس کے والدین کے بچپن کا ہو تا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچّوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کو کس قدر اہم ذمّہ داری نبھانی ہے ۔
بچّے جب دو یا تین سال کی عمر کو پہنچنے میں توحسّاس والدین اپنی استطاعت کے مطابق اس کی تعلیم کی طرف توجّہ دیتے ہیں اور اسے بہتر اسکول میں داخلہ دلانے کی کوشش کر تے ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ اس سلسلے میں کو ئی کمی رہ جا ئے کہ یقیناً یہ ذمّہ داروالدین کے فرائض میں شامل ہے ۔اس قسم کے والدین بچّوں کی تعلیمی سر گر میوں پر نظر رکھتے ہیں ۔وہ جانچتے ہیںکہ ان کے بچّے نے اچّھی طرح سبق یاد کیا یا نہیں ۔ جواب نفی میں ہو تو اسکی وجوہات تلاش کر تے ہیں۔ انھیں دور کر نے کی ہر ممکن کو شش کرتے ہیں ۔بچّے کی مددہمّت افزائی ،حسنِ سلوک ،رفاقت ،بھر پورتوجّہ،یہ ایسے اوزار ہیں جن سے وہ اپنی اولاد کو ایک پتّھر سے ہیرے کی طرح تراش لیتے ہیں۔ایسا طالبِ علم جہاں اسکول میں اساتذہ کی نگرانی میں چار پانچ گھنٹے گزارتا ہے وہیں بقیہ انّیس بیس گھنٹے اپنے والدین کی سرپرستی میں رہتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے والے والدین اس کی تربیت میں کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔اسکول میں تعلیم اور گھر میں تربیت کے تمام مواقع مہیّا ہو تے ہیں۔


اس کے برعکس والدین کا ایک بڑا طبقہ ایسابھی ہے جو اپنے بچّے کو اسکول میں داخلہ دلوا کراپنے آ پ کو اس کی تعلیمی ذمّہ داریوں سے بری سمجھتا ہے ۔ ان کے خیال میں بچّے کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمّہ داری اساتذہ کی ہے ۔تعلیمی سال کے شروع میں ایک جماعت سے دوسری جماعت میں داخلہ دلا کر اوراس کلا س کی درسی کتابیں اور کاپیاں مہیّا کر وا کر وہ اس کے تعلیمی حقوق سے دست بر دار ہو گئے ہیں اور انھوں نے گو یا بچّے پر احسانِ عظیم کر دیا۔پھر سال بھر اسکول کے اوقات کے بعدبچّے کی سر گر میوں کی نگرانی کی وہ بالکل ضرورت محسوس نہیں کر تے ۔انھیں صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ ان کا بچّہ فلاں اسکول میں صبح سے دو پہر تک تعلیم حاصل کر تا ہے ۔بعض والدین کواپنے بچّے کے کلاس، سیکشن ،رول نمبر اور کلاس ٹیچر کا بھی علم نہیں ہو تا ۔سر پرستوں کی میٹنگ جو اسکول اور کالجوں میں طلباء کی تعلیمی ترقّی سے والدین کو آ گاہ کر نے کے لئے طلب کی جاتی ہے، اس میں ان والدین کی حاضری دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی ۔


مذکورہ بالا والدین کی دو نوں قسمیں ہمارے سماج میں مو جود ہیں اور ان کے برتاؤ کے دور رس اثرات طلباء کی پو ری زندگی پر پڑتے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ وہ بچّہ جو اسکول کی چند گھنٹوں کی زندگی کے بعد والدین کی سرپرستی میں رہتاہے یقینا اس پر اس کے گھر کے افراد،ماحول،سماج اور ارد گرد جا ری سرگر میوں کے زبردست اثرات پڑتے ہیں ۔ حسّاس اور ذمّہ دار والدین اپنے بچّو ں کو صحت مند ماحول اور تعلیمی و تربیتی فضا مہیّا کر تے ہیں ۔وہ اپنے بچّوں کو یہ احساس دلا تے ہیں کہ وہ ایک دوست کی طرح ان کی ہر مشکل آ سان کر نے والے ہیں اور اس کے لئے انھیں کسی کا چہرہ تکنے کی ضرورت نہیں ۔ایسے بچّوں میں خود اعتمادی ،تعلیم سے دلچسپی،اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر کامیاب ہو نے کا شوق پورے شباب پر ہو تا ہے۔



ہو تا جا تا ہے ۔ خدا نخواستہ بدقسمتی سے اسکول کا ماحول مناسب نہ ہو اور اساتذہ کرام طلباکے اندر تعلیمی روح پھونکنے کے جذبے سے خالی ہوں تو نسل در نسل بچّوںکا مستقبل تباہ ہو ئے بغیر نہ رہے گا۔ ان حالات میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ ئے گا ،جو تعلیمی ادارے مو جود ہو نے کے با وجودتعلیمی پسماندگی کا شکا رہو گا۔مسلم معاشرہ ان دنوںاسی افسوس ناک صورتِ حالت سے گذر رہا ہے ۔



اسی لئے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ’گھر‘پر جو بچّو ں کے لئے اسکول کے اوقات کے بعد کی تربیت گاہ ہے،خصوصی توجّہ دیں ۔بچّوں کی روزانہ تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھیں ۔تعلیمی معاملات میںبھی ان کی بھر پور مدد کریں ۔ان کے دوست اور معاون بنیں ۔